دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان میں مہنگائی بڑھنے سے متعلق ایشیائی ترقیاتی بینک کا انتباہ
No image ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی اور معاشی شرح نمو بھی ہدف سے کم رہے گی۔ مہنگائی کی اوسط شرح ایک فیصد سے بڑھ کر آٹھ اعشاریہ تین فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ رواں مالی سال معاشی ترقی 4 فیصد ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان میں جنوبی ایشیا کا مجموعی معاشی ترقی کا تخمینہ 6.0 فیصد ہے۔ براعظم ایشیا میں معاشی ترقی کے امکانات سے متعلق رپورٹ میں بینک نے کہا ہے کہ بھارت کی معاشی شرح نمو 6.6 فیصد کے ساتھ پہلے جبکہ بھوٹان دوسرے نمبر پر ہے، سری لنکا کی معاشی شرحِ نمو 4 فیصد اور نیپال کی 3.9 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ افغانستان کی شرحِ نمو 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ مالدیب کی معاشی ترقی کی شرح ایک فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے اور ترقی کی رفتار کم رہنے سے متعلق یہ رپورٹ صرف ایک بین الاقوامی ادارے کے اعداد و شمار نہیں بلکہ زمینی حقائق سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی توجہ مہنگائی کم کرنے اور شرحِ نمو بڑھانے پر ہے ہی نہیں۔ ہر حکومت صرف اور صرف اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی ہے اور موجودہ حکومت بھی یہی کر رہی ہے اسی لیے بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرتے وقت عوام کے مسائل کے بارے میں ذرا سا بھی نہیں سوچا جاتا بلکہ مختلف طرح کی دلیلیں دے کر یہ بتایا جاتا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے اشیاء کی قیمتیں بڑھائے بغیر گزارا نہیں۔ لیکن اشرافیہ کو سرکاری خزانے سے ملنے والی اربوں ڈالرز کی مراعات و سہولیات میں کمی نہیں کی جاتی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان مراعات و سہولیات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی اس نظام سے بیزار ہو چکا ہے۔ اس نظام میں تمام فائدے ارکانِ پارلیمان کے لیے ہیں یا ان محکموں، اداروں اور شعبوں کے لیے جو طاقت کے کھیل میں حکومت کا ساتھ دیتے ہیں، عوام کو اس نظام سے کچھ بھی مثبت حاصل نہیں ہونا اور پون صدی سے زائد عرصے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ ہر حکومت کے وابستگان اپنے حصے کا ظلم و ستم ڈھا لینے کے بعد جلسوں، تقریروں اور انٹرویوز میں عوام کو بتاتے ہیں کہ انھیں موقع نہیں ملا ورنہ وہ عوامی خدمت کی مثال قائم کر دیتے۔ آج کے حکومتی اکابرین کے دل میں بھی حکومت سے الگ ہوتے ہی عوام کی محبت اور درد جاگ جائے گا اور یہ لوگوں کے بتائیں گے کہ انھیں ٹھیک سے موقع ملتا تو مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ضرور کرتے۔ یہ نظام تب تک یونہی چلتا رہے گا جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے خود اٹھ کھڑے نہیں ہوتے۔ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں