
خالد خان کی نئی تصنیف ۔ تاریخ کو جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ مکمل پس منظر کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان، خیبر پختونخوا اور برصغیر کے تعلقات ہزاروں برس پر محیط ہیں۔ یہ تعلق صرف جنگوں یا فتوحات تک محدود نہیں بلکہ تجارت، ہجرت، ثقافتی تبادلوں، سیاسی اتحادوں اور تہذیبی اثرات کی ایک طویل داستان بھی ہے۔ اسی پیچیدہ تاریخ کو سمجھے بغیر کسی ایک جملے، کسی ایک سیاسی بیان یا کسی ایک سفارتی ملاقات کی درست تشریح ممکن نہیں۔
برصغیر اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی راستہ ہمیشہ اہم رہا ہے۔ خیبر درہ، بولان درہ اور دیگر راستے وسطی ایشیا، افغانستان اور برصغیر کو ملاتے رہے۔ یہی راستے کبھی تاجروں کے قافلوں کے لیے استعمال ہوئے، کبھی فوجوں کی آمد و رفت کے لیے۔ اس جغرافیائی حقیقت نے اس پورے خطے کی سیاست کو صدیوں تک متاثر کیا۔
پشتون علاقوں کا برصغیر سے تعلق قدیم ہے۔ مختلف ادوار میں افغانستان اور موجودہ پاکستان کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائل اور حکمران برصغیر کی سیاست میں داخل ہوئے۔ گیارہویں صدی میں محمود غزنوی کی مہمات سے لے کر بعد کے ادوار تک افغانستان اور برصغیر کے درمیان سیاسی کشمکش جاری رہی۔ تاہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس دور کے سیاسی تصورات آج کی قومی ریاستوں جیسے نہیں تھے۔ اس زمانے میں سلطنتیں، خاندان اور حکمران خاندان طاقت کے لیے مقابلہ کرتے تھے۔
پشتون حکمرانوں کا برصغیر میں سب سے نمایاں دور لودھی اور سوری خاندانوں کی صورت میں سامنے آیا۔ دہلی سلطنت کے آخری پشتون خاندان لودھیوں نے پندرہویں اور سولہویں صدی میں شمالی ہندوستان کے بڑے حصے پر حکومت کی۔ بعد ازاں شیر شاہ سوری نے مختصر عرصے میں انتظامی اصلاحات، سڑکوں کے نظام اور حکومتی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کیں، جن کے اثرات بعد کی حکومتوں تک نظر آئے۔
یہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتون اور برصغیر کے معاشرے ایک دوسرے سے مکمل طور پر کٹے ہوئے نہیں تھے۔ سیاسی اقتدار کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نقل و حرکت، تجارت اور ثقافتی روابط بھی موجود رہے۔ بہت سے پشتون خاندان برصغیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے اور مقامی معاشروں کا حصہ بنے۔
لیکن اسی تاریخ کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ مختلف ادوار میں جنگیں، مزاحمتیں اور اقتدار کی کشمکش بھی ہوتی رہی۔ مقامی طاقتوں اور آنے والی سلطنتوں کے درمیان مقابلے تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کو صرف دوستی یا صرف دشمنی کے ایک رنگ میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
پشتون معاشرے میں آزادی اور خودمختاری کا تصور ہمیشہ اہم رہا ہے۔ برطانوی دور میں بھی سرحدی علاقوں میں ریاستی کنٹرول اور مقامی قبائلی روایات کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ برطانوی حکومت نے اس خطے کو ایک مخصوص انتظامی نظام کے تحت چلایا، کیونکہ اسے یہاں کی قبائلی ساخت، جغرافیے اور سماجی روایات کا سامنا تھا۔
یہ تاریخی پس منظر آج کی سیاست میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ افغانستان، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ماضی کے واقعات، اجتماعی یادداشت اور سیاسی بیانیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر ملک اپنی تاریخ کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اپنے سیاسی مفادات تشکیل دیتا ہے۔
افغان وزیر کا بھارت میں دیا گیا بیان اسی وسیع تاریخی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ "ہمارا اور آپ کا ڈی این اے ایک ہے" تو اس کا مطلب غالباً سیاسی قربت اور دوستی کا اظہار ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی اصطلاحات تاریخی پیچیدگیوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
ایک خطے کے لوگوں کے درمیان تاریخی روابط ہونا ایک حقیقت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تمام سیاسی، مذہبی اور تہذیبی شناختیں ایک جیسی ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی ہر قوم اپنی الگ اجتماعی شناخت رکھتی ہے، جو صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات سے بنتی ہے۔
پشتون شناخت بھی اسی طرح ایک طویل تاریخی سفر کا نتیجہ ہے۔ اس شناخت میں زبان، ثقافت، قبائلی روایات، مذہبی وابستگی اور تاریخی تجربات سب شامل ہیں۔ اسی طرح برصغیر کے مختلف معاشروں کی اپنی الگ شناختیں ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید سیاست میں تاریخی تعلقات کو متوازن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے یا انہیں وقتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ کیا سفارتی قربت کے اظہار میں ایسے الفاظ استعمال ہونے چاہییں جو سائنسی اصطلاحات کو سیاسی نعرے میں بدل دیں؟ یہی وہ سوال ہے جس نے اس بیان کو بحث کا موضوع بنایا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی اسی تاریخی تناظر کا حصہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، لسانی اور جغرافیائی قربت کے باوجود سیاسی اختلافات موجود رہے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی نئے سفارتی بیان کو جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پشتون اپنی تاریخ، زبان اور تہذیب پر فخر کرتے ہیں۔ یہ فخر کسی دوسرے معاشرے کی نفی نہیں بلکہ اپنی شناخت کے شعور کا اظہار ہے۔ لیکن جب سیاست تاریخ کو مختصر نعروں میں بدل دیتی ہے تو صحافت کا کام ہوتا ہے کہ وہ مکمل تصویر سامنے رکھے۔
واپس کریں