
اللہ غارت کرے گورے کو۔ یہاں سے چلے تو گئے لیکن اپنے پیچھے مشکل الفاظ چھوڑ دیے۔ اگر الفاظ صرف مشکل ہوتے تو ہم تب بھی درگزر کرتے، لیکن ان الفاظ کے معنی و مطالب اتنے مشکل ہیں کہ انہوں نے پوری زندگی کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ سارے نظام کو مشکل بنایا ہوا ہے۔ ایک لمبے عرصے تک میں محلے کے ایک شخص کو دونوں ہاتھوں سے اس کے مرتبے کے مطابق سلام کرتا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ "اوتھ کمشنر" تھا، جسے ہم طاقت والا عہدہ سمجھتے تھے۔ سرکار کے ہاں کمیشن عام طور پر ناجائز منافع کو کہتے ہیں، جیسے ورکس اینڈ کمیونیکیشن یا کسی بھی محکمے میں ٹھیکیدار بل پر جو رقم ادا کرتا ہے، اسے کمیشن کہتے ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں لوگ بچوں کو گورے کے نیکر پہنا کر ممی ڈیڈی بلواتے ہیں، ویسے ہی حکومت کے اعلیٰ افسران، وزیر، مشیر اور کبیر رشوت کو کمیشن کہتے ہیں۔ رشوت اور کمیشن کے لیے عین ایک اسلامی نام بھی ہے، جو آپ کو بڑے بڑے مکانات پر ایک کالے تختے پر سفید لکھائی میں دکھائی دیتا ہے: "ھذا من فضل ربی"۔ عام کاروباری لوگوں میں جو خواتین و حضرات کمیشن یا ناجائز منافع خوری کا شوق فرماتے ہیں، انہیں حاجی اور حاجن کہا جاتا ہے۔ کمیشن کا یہ تصور اتنا مفید اور مضبوط ہے کہ جب بھی کوئی انہونی ہوتی ہے تو سرکار اس پر کمیشن بناتی ہے۔ وزرا، اراکینِ پارلیمان اور سیاست دان بھی کمیشن کو اس لیے حلال سمجھتے ہیں کہ جو ادارہ انہیں منتخب کرتا ہے، اسے "الیکشن کمیشن" کہتے ہیں۔ عام غربا کمیشن کے حوالے سے گڑ منڈی، مرچ منڈی، مویشی منڈی اور دیگر منڈیوں میں اڑھتیوں اور بیوپاریوں کو سودے بناتے ہوئے جو رقم بٹورتے ہیں، اسے بھی کمیشن کہتے ہیں۔ یوں شادی خانہ آبادی والے دفاتر اور افراد بھی جوڑا سازی پر کمیشن لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اعلیٰ افسران کے انتخاب کے لیے فیڈرل اور پراونشل پبلک سروس کے جو محکمے مقرر ہیں، ان کے نام کے ساتھ بھی کمیشن لگتا ہے۔ گویا کہ پاکستان میں کمیشن اور سانس یعنی آکسیجن دونوں برابر مقدار میں میسر ہوں تو زندگی قائم رہتی ہے۔ جو بھی خواتین و حضرات کمیشن سے بوجوہ محروم رہتے ہیں، اگرچہ انہیں بھی انسان کہا جاتا ہے، مگر ان کا شمار حشرات الارض میں ہوتا ہے۔ زبان، لغت اور ڈکشنری کے مطابق کمیشن لینے والے کو کمشنر کہتے ہیں۔ پہلے زمانے میں جب آبادی کم تھی تو بس ایک اسسٹنٹ کمشنر، ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک کمشنر ہوا کرتا تھا اور دھندا خوب چلتا تھا۔
آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ جب وصولیاں بڑھ گئیں تو ایک نیا عہدہ بھی تراشا گیا، جسے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کہا جاتا ہے، جس کا سلیس اردو ترجمہ اضافی نائب کمشنر ہوتا ہے۔ اس عہدے کے لیے ڈبل اے کا مخفف بھی استعمال ہوتا ہے۔ گورے کے اس ڈبل اے کو پشتو میں "ڈبلے" کہتے ہیں۔ ڈبلے یعنی ڈبل اے ہاتھ کی لمبائی کے برابر ایک موٹی اور گولائی میں تراشیدہ لکڑی ہوتی ہے۔ مختلف جگہوں پر اس کے مختلف استعمال ہوتے ہیں، مگر پولیس تھانوں اور ٹرانسجینڈرز کے گورو اس کا استعمال تقریباً ایک جیسا کرتے ہیں، جیسے نسوار فروش تمباکو کھوٹتے ہوئے کرتے ہیں۔ ڈبلے یا ڈبل اے لغت میں بطور معصومانہ گالی بھی بوقتِ ضرورت استعمال ہوتا ہے۔
بہرحال ہم ذکر اس ڈبلے یا ڈبل اے، یعنی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر، یا بہ الفاظِ دیگر اضافی نائب کمشنر کا کرنا چاہتے تھے۔ ڈبلے ویسے بھی بہت طاقتور چیز، یعنی عہدہ، ہوتا ہے، لیکن کوئی ڈبلے اگر کسی شاہانہ ضلع یا تحصیل میں ڈبلے ہوتا ہے تو اس کی طاقت دگنی ہوتی ہے۔ پشاور کے قریب کسی پرانے بادشاہ "شاہ عالم" کی سلطنت ہوا کرتی تھی، جو آج کل تحصیل کا درجہ رکھتی ہے اور "شاہ عالم" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ وہاں ایک خدا رسیدہ ڈبلے ہے، جنہیں انسانیت کے دکھ درد کی وجہ سے قرار نہیں آتی۔ حال ہی میں اس ڈبلے نے ایک ناہنجار خاندان کی وہ درگت بنائی ہے کہ توبہ توبہ۔ کم بخت چھوٹے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے تھے۔ اب رزق، صحت، عزت، ذلت ، دولت ، غربت اور جنت دوزخ کا وعدہ تو اللہ نے کیا ہے، لیکن پولیو کے قطرے تو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے اس ذمہ داری کے لیے جابجا ڈبلے رکھے ہیں، لیکن شاہ عالم کے ڈبلے لاجواب ہیں۔ اب یہ دیکھیے کہ عوام کتنی ذلیل، جھوٹی اور احسان فراموش ہے۔ جس خاتون نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے ڈبلے کو انکار کیا تھا، دوڑی دوڑی پشاور پریس کلب آئی اور مندرجہ ذیل الزام تراشی کی۔
"پولیو کے قطروں کے معاملے پر تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، انصاف فراہم کیا جائے ؛ ڈاکٹر رابعہ
پشاور: پشاور کے علاقے فقیر کلے، تھانہ مچنی کی حدود میں بچوں کو پولیو کے قطروں کے معاملے پر اے اے سی شاہ عالم الیاس اور ان کے گنرز کے مبینہ تشدد کا شکار بننے والی ڈاکٹر رابعہ زوجہ سعید نے پشاور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ سے انصاف طلب کیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رابعہ زوجہ سعید نے کہا کہ جمعرات کے روز صبح کے وقت پولیو کی ایک ٹیم ان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ان کے گھر آئی تو انہوں نے پولیو ٹیم کو بتایا کہ ان کے بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر گئے ہوئے ہیں۔ جس کے جواب میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم کے گنرز نے ان کے بھائی شوکت اور شوہر سعید کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی انہیں اپنی ڈبل کیبن گاڑیوں میں ڈال رہے تھے۔ میں نے شدید احتجاج کیا اور اپنے بھائی اور شوہر پر تشدد کے واقعے کی عکس بندی اپنے موبائل کے ذریعے کی، جو اے اے سی شاہ عالم اور ان کے عملے کو ناگوار گزری۔
انہوں نے کہا کہ وہ موبائل لے کر اپنے گھر میں پناہ لینے گئیں اور اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا، جس کے بعد ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے گنرز نے ہمارے گھر کا دروازہ توڑ کر، پختون روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے، مجھے بھی میرے گھر کے اندر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، میرے ہاتھ سے آئی فون لے کر توڑ دیا گیا اور میرے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران علاقے میں کافی شور شرابا ہوا اور علاقے کے سامنے ہماری بہت بے عزتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک موبائل میرے پاس موجود ہے، جس میں واقعے کی ریکارڈنگ محفوظ ہے۔
ڈاکٹر رابعہ نے کہا کہ یہ کون سا قانون ہے جس کے تحت پولیو کے قطرے نہ پلانے پر عوام کو اغوا کیا جا رہا ہے، خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے کپڑے پھاڑے جا رہے ہیں؟ کیا خیبر پختونخوا میں قانون نام کی کوئی چیز ہے؟
ڈاکٹر رابعہ نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور انسپکٹر جنرل پولیس سے انصاف کے حصول کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا اور ڈیوٹی پر جانے والے میرے شوہر اور بھائی کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا جیسے انہوں نے پولیس کے ساتھ کوئی مقابلہ کیا ہو۔ لہٰذا میری عزت کا بھی پوچھا جائے اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ آئندہ پولیو کے قطروں کے نام پر کوئی سرکاری ملازم کسی ماں، بہن کی عزت نہ اچھال سکے اور نہ کسی کو تشدد کا نشانہ بنا سکے۔
واپس کریں