دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جو چیز نسخہ اکسیر ہے، وہ سیاسی مزاحمت ہے۔ فرنود عالم
No image جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہمت دکھائی ہے۔موجودہ مزاحمت میں خواتین کی بھرپور شمولیت نے اس تحریک کو پہلے سے زیادہ طاقتور کردیا ہے۔ شوکت نواز میر کی گرفتاری نے اس میں الگ سے روح پھونک دی ہے۔
معاملہ مہاجرین کی سیٹوں پر پھنسا ہوا ہے۔ یہ معاملہ اہم ہے۔ ایکشن کمیٹی کا موقف اس حوالے سے بہترین ہے۔
مگر اس مسئلے کے حل کیلیے ایکشن کمیٹی نے انقلابی راستہ چنا ہے، اور انقلاب خسارہ ہے۔
پاکستان میں انقلاب کے راستے پر نکلے ہوئے قافلے یا تو خود بھٹک جاتے ہیں یا پھر بھٹکا دیے جاتے ہیں۔ ان کے بھٹک جانے میں بھی ہزار پہلو حسن کے ہوتے ہیں۔ مگر اس کا نتیجہ حق اور باطل جیسے غیر سیاسی معرکوں کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
کشمیر کے موجودہ سیاسی بحران کے حوالے سے حکومتی بینچوں سے سیاسی موقف صرف بلاول بھٹو نے اپنایا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے سیاسی موقف مولانا فضل الرحمن کا ہے۔
باقیوں کا بھی ہے، مگر ان میں بیشتر وہ ہیں جن کے کچھ پرانے ادھار ہیں۔وہ نظام پر دباو بڑھانے کیلیے ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں، اور بس۔! بات چیت انکو آتی ہے اور نہ وہ کرنا چاہتے ہیں۔ خود جو انقلابی ہیں۔
حکومت شاید مسئلہ حل کرنا چاہتی ہو، مگر انہیں اجازت نہیں ہے۔
ریاست نے بات چیت کو ریاست کیلیے نقصان دہ قرار دیا ہوا ہے۔اس فیصلے نے پورے ملک میں بے یقینی اور بے گانگی کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔
ریاستی قوتوں کو یہ فیصلہ کب تک فائدہ دے گا؟
امریکا کا کیا بھروسہ اور پھر ٹرمپ کا کیا بھروسہ۔ سر سے سائبان ہٹے گا تو انوارالحق کاکڑ اور فیصل واڈا بھی ریپلائی نہیں کریں گے۔
حکومت و ریاست نے حساس نوعیت کے بحرانی معاملات طارق فضل چوہدری کے حوالے کر رکھے ہیں۔
ایک تو ان صاحب کے کاغذات خراب ہیں، اوپر سے بات بھی خراب کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو بات چیت جیسے سنجیدہ عمل کا حصہ کون بناتا ہے۔ اور مرکزی حصہ کون بناتا ہے۔
بہر حال!
راستہ وہی ہے، جو بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن بتا رہے ہیں۔ وہ راستہ تین بینادی نکات سے نکلتا ہے۔ ایک، انگیجمنٹ۔ دوسرے، انگیجمنٹ۔ تیسرے، انگیجمنٹ۔
یہ راستہ اگر نہیں اپنایا جائے گا تو رہی سہی سیاست کا بھی مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔
اور یہ خسارہ صرف ریاستی طاقتوں کو وارا کھاتا ہے۔
واپس کریں