دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبرپختونخوا: دہشتگردی کے چھ ماہ، 413 شہداء اور 979 زخمی — ایک تشویشناک تجزیہ
No image (پشاور۔رپورٹ۔ خالد خان) خیبرپختونخوا میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 413 افراد اور سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 979 زخمی ہوئے، سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ صورتحال صوبے میں سکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو پہنچا، جن میں 179 افراد شہید اور 534 زخمی ہوئے۔ پولیس فورس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس میں 124 اہلکار شہید اور 176 زخمی ہوئے۔
دستاویزات کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 66 اہلکار مختلف اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید اور 112 زخمی ہوئے، جبکہ دیگر سکیورٹی فورسز کے 41 اہلکار شہید اور 152 زخمی ہوئے۔
ضلع بنوں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار کیا گیا ہے، جہاں 52 پولیس اہلکار شہید اور 64 زخمی ہوئے، جبکہ 43 شہری بھی جان کی بازی ہار گئے اور 165 زخمی ہوئے۔
شمالی وزیرستان میں 37 شہری شہید اور 195 زخمی ہوئے، جبکہ باجوڑ میں 16 پولیس اہلکار، 16 شہری اور 18 ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی 20 پولیس اہلکار، 18 ایف سی اہلکار اور 15 شہری شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق سوات، دیر، پشاور، کوہستان اور دیگر قبائلی و میدانی اضلاع میں بھی دہشتگردی کے مختلف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جو مجموعی سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نہ صرف سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں بلکہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ رپورٹ
واپس کریں