دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دی گارڈین کی رپورٹ اور "وشو گرو" بیانیے پر اٹھتے سوالات
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی گزشتہ ایک دہائی سے خود کو عالمی سطح پر ایک غیر معمولی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سرکاری بیانیے میں ان کے ہر غیر ملکی دورے کو سفارتی کامیابی، ہر تصویر کو عالمی پذیرائی اور ہر اعزاز کو بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم برطانوی اخبار The Guardian کی حالیہ رپورٹ نے اس بیانیے پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مودی کو ملنے والے بعض غیر ملکی اعزازات ایسے ہیں جو ان کے دوروں سے کچھ ہی عرصہ قبل متعارف کرائے گئے یا پہلی مرتبہ انہی کو دیے گئے۔ اس بنیاد پر اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ اعزاز واقعی عالمی اعتراف کا اظہار تھے یا پھر سفارتی تقریبات کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا۔
اگر کسی سربراہِ حکومت کو ایسے اعزازات دیے جائیں جن کی تاریخ، حیثیت یا روایت واضح نہ ہو، تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں اعزازات اور تمغے معمول کی بات ہیں، لیکن جب ایک ہی شخصیت مسلسل ایسے اعزازات حاصل کرے جن کے بارے میں شفاف معلومات دستیاب نہ ہوں، تو ناقدین کے شکوک بڑھ جاتے ہیں۔
مودی حکومت نے برسوں سے "وشو گرو" یعنی دنیا کی رہنمائی کرنے والے بھارت کا تصور پیش کیا ہے۔ اس بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی فورمز، میڈیا مہمات اور بیرونی دوروں کو بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معتبر بین الاقوامی اخبار کی جانب سے اس بیانیے پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو اس کی بازگشت صرف بھارت تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں بھی سنی جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید سیاست میں امیج بلڈنگ ایک باقاعدہ صنعت بن چکی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں تعلقاتِ عامہ (PR) کی خدمات حاصل کرتی ہیں تاکہ اپنے رہنماؤں کی مثبت تصویر اجاگر کی جا سکے۔ تاہم اگر تشہیر اور حقیقت کے درمیان فاصلہ زیادہ بڑھ جائے تو وہی مہم الٹا سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔
بلاشبہ، عالمی اعزازات اس وقت حقیقی وقعت رکھتے ہیں جب ان کے انتخاب کا معیار، تاریخ اور وقار سب کے لیے یکساں اور شفاف ہوں۔ اگر کسی اعزاز کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ وہ کسی مخصوص دورے یا شخصیت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تو اس سے نہ صرف اس اعزاز کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ اسے قبول کرنے والے رہنما کی سیاسی ساکھ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
آج کی دنیا میں صرف طاقتور تشہیری مہمات کافی نہیں ہوتیں۔ عوام اور عالمی میڈیا اب محض تصویروں اور تقریبات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پس منظر، شفافیت اور حقیقت کو بھی جانچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر دی گارڈین کی رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو "وشو گرو" کا وہ بیانیہ، جسے برسوں کی محنت سے تعمیر کیا گیا، مزید تنقید کی زد میں آ سکتا ہے۔
قیادت کا اصل معیار اعزازات کی تعداد نہیں بلکہ عوامی اعتماد، معاشی کارکردگی، جمہوری اقدار اور عالمی ساکھ ہوتی ہے۔ اگر عالمی پذیرائی حقیقی ہو تو اسے کسی اضافی تشہیر کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن اگر اس کے گرد سوالات جنم لینے لگیں تو سب سے بڑا اعزاز بھی محض ایک علامتی تقریب بن کر رہ جاتا ہے۔
واپس کریں