منشیات، طاقت اور منافع کا عالمی گٹھ جوڑ ۔ ڈاکٹر اکرام الحق

26جون کو دنیا بھر میں منشیات کے استعمال اور غیر قانونی تجارت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1987ء میں اس دن کے اجراء کا فیصلہ کیا تھا تاکہ دنیا کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرائی جا سکے کہ منشیات صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب، معاشی استحکام، قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ 2026ء کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم نے جو موضوع منتخب کیا ہے وہ ہے: ” منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور اختراعی جوابات”
یہ موضوع دراصل اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود دنیا منشیات کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ جیتنے میں ناکام رہی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ہزاروں ٹن منشیات ضبط کی جاتی ہیں۔ لاکھوں گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں۔ سرحدوں پر نگرانی بڑھائی جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود منشیات کی عالمی تجارت مسلسل پھیل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب صرف اسمگلروں یا نشہ فروشوں میں تلاش کرنا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ منشیات کی تجارت دراصل دنیا کے سب سے منافع بخش کاروباروں میں سے ایک ہے۔ تیل اور اسلحہ کے بعد غیر قانونی منشیات کا کاروبار کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر سب سے بڑی تجارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کاروبار سے پیدا ہونے والی دولت صرف مجرم گروہوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ مالیاتی نظام، جائیدادوں، تجارتی اداروں اور سیاسی ڈھانچوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ منشیات کی تجارت کبھی صرف جرائم پیشہ عناصر کا معاملہ نہیں رہی۔ انیسویں صدی میں برطانیہ نے چین کے خلاف دو جنگیں اس لیے لڑیں کہ چین افیون کی درآمد روکنا چاہتا تھا۔ برطانوی سلطنت نے ہندوستان میں افیون کی پیداوار اور تجارت کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی فراہم کی کیونکہ اس سے خزانے کو آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ یوں منشیات اور ریاستی مفادات کا تعلق کوئی نیا مظہر نہیں۔
بیسویں صدی میں جب دنیا نے منشیات کے خلاف بین الاقوامی معاہدے کیے تو امید پیدا ہوئی کہ شاید اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ جہاں منافع غیر معمولی ہو وہاں صرف قوانین کافی نہیں ہوتے۔
افغانستان اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ چار دہائیوں کی جنگوں نے اسے افیون کی پیداوار کا عالمی مرکز بنا دیا۔ لاکھوں کسان غربت، بدامنی اور ریاستی کمزوری کے باعث پوست کی کاشت پر انحصار کرنے لگے۔ مختلف مسلح گروہوں، جنگجو سرداروں اور اسمگلنگ نیٹ ورکس نے اس تجارت سے بے پناہ دولت کمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ منشیات، اسلحہ اور دہشت گردی ایک دوسرے سے جڑتے چلے گئے۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں نمایاں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک نئی تشویش بھی پیدا ہوئی ہے۔ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین، تیزی سے روایتی منشیات کی جگہ لے رہی ہیں۔ ان کی تیاری کے لیے وسیع زرعی رقبے درکار نہیں ہوتے اور انہیں نسبتاً آسانی سے خفیہ لیبارٹریوں میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے اب مصنوعی منشیات کو آئندہ دہائی کا سب سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان واقع ہے۔ یہی محل وقوع اسے تجارت اور مواصلات کے لیے اہم بناتا ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ کے راستوں کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی بین الاقوامی نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹیجی رپورٹ اور اقوامِ متحدہ کی مختلف رپورٹس مسلسل نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کی بڑی مقدار پاکستان کے زمینی اور سمندری راستوں سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو اس چیلنج کا سامنا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ منشیات کی تجارت کا اصل محرک ان کی طلب ہے۔ جب تک دنیا کے امیر ممالک میں منشیات کی کھپت برقرار رہے گی، سپلائی کے نئے راستے اور نئے ذرائع پیدا ہوتے رہیں گے۔
منشیات کی تجارت کا ایک اور پہلو منی لانڈرنگ ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی دولت کو قانونی معیشت میں شامل کرنے کے لیے پیچیدہ مالیاتی ڈھانچے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آف شور کمپنیاں، فرضی کاروبار، غیر شفاف مالیاتی مراکز اور غیر رسمی رقوم کی منتقلی کے نظام اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے آج دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ اصل میں مالیاتی شفافیت کی جنگ بھی ہے۔
بدقسمتی سے اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نشے کا عادی نوجوان اپنی صحت، تعلیم اور مستقبل کھو دیتا ہے۔ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔ جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ صحت عامہ کے نظام پر بوجھ بڑھتا ہے اور ریاستوں کو اربوں ڈالر سماجی اور معاشی نقصانات کی صورت میں برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ منشیات کو کیسے روکا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس معاشی اور سیاسی نظام کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے جو منشیات کی تجارت کو زندہ رکھتا ہے؟
جب تک غربت، ناانصافی، جنگ، بدعنوانی اور غیر شفاف مالیاتی ڈھانچے موجود رہیں گے، منشیات کی تجارت نئے راستے تلاش کرتی رہے گی۔ اسی لیے 2026ء کا موضوع محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے کہ پرانے مسائل اب نئی شکلوں میں ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ان کے حل کے لیے محض طاقت نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور عالمی تعاون درکار ہے۔
بشکریہ: اردو نیا دور
واپس کریں