دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تاریک مثلث کا اسیر۔ ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
No image تاریخ کے اوراق پر جب کوئی آمر اپنے اقتدار کی بساط بچھاتا ہے، تو وہ صرف وقت کا حکمران نہیں بنتا بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر کا قلمدان بھی چھین لیتا ہے۔ پانچ جولائی ۱۹۷۷ء کی وہ تاریک رات پاکستان کی تاریخ کا وہ موڑ تھی جہاں بظاہر ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا، مگر درحقیقت اس مصلحت پسند شب خون نے ملک کی رگوں میں عقوبت، نظریاتی تفاوت اور تزویراتی زہر کا وہ بیج بو دیا جس کی تلخ فصل ہم آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی کاٹ رہے ہیں۔ اس دورِ استبداد نے جس 'افغان جہاد' کا دامن تھاما، وہ دراصل عالمی طاقتوں کے مفادات کی وہ شطرنج تھی جس نے سوویت یونین کی تحلیل کے بعد دنیا کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ طاقت کا وہ توازن جو عالمی امن کے لیے ایک حفاظتی حصار تھا، اس کے گرتے ہی دنیا 'نیو ورلڈ آرڈر' کے اس استعماری چنگل میں پھنس گئی جہاں مشرقِ وسطیٰ کی خود مختاری سے لے کر ہندوکش کے دامن تک، ہر سو بارود اور انارکی کی بساط بچھا دی گئی۔ یوں ایک آمر کی بقا کی جنگ نے خطے کو ابدی جنگ و جدل کے ایسے الاؤ میں جھونک دیا جہاں کل کے پالے ہوئے مہرے آج خود ہمارے وجود کے درپے ہیں۔
اس تزویراتی سراب کا سب سے گہرا زخم پاکستان کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر لگا، جہاں فکری ارتقا کا گلا گھونٹ کر ایک مصنوعی قیادت کی نرسری تیار کی گئی۔ جب عالمی سامراج نے ۱۹۷۴ء کی تاریخی اسلامی سربراہ کانفرنس کی کامیابی اور امتِ مسلمہ کے معاشی اتحاد سے خوفزدہ ہو کر ایک مدبر قیادت کو عبرت کا نشان بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس کے لیے مہرے اسی دیسی ساختہ آمریت کی آستین سے برآمد ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے پسے ہوئے طبقات کو زبان دی اور ملک کو دفاعی طور پر ناقابلِ تسخیر بنانے کا خواب دیکھا، مگر اس خواب کی تعبیر کو کوڑوں، سرعام پھانسیوں، ہیروئن کلچر اور کلاشنکوف کے تعصب آمیز ماحول سے بدل دیا گیا۔ سیاست کو کرپشن اور روبوٹ نما کرداروں کے تابع کر کے عوامی نمائندگی کے تصور کو اس حد تک مسخ کیا گیا کہ عام آدمی ریاست کے بنیادی ستونوں سے ہی بدظن ہو جائے۔ آئینِ نو کو بارہ صفحات کی معمولی کتاب گرداننے کی اس روش نے ملک کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا جہاں قانون کی حکمرانی محض ایک سراب بن کر رہ گئی۔
ریاستوں کے وجود میں جیو پولیٹیکل سرحدیں جتنی حساس ہوتی ہیں، وہاں اندرونی استحکام کی ضرورت اتنی ہی ناگزیر ہوتی ہے، مگر ایوب خان کی بوئی ہوئی نفرت سے لے کر یحییٰ خان کی نااہلی تک، اور پھر ضیا الحق کی مکارانہ آئینی ترامیم تک، ہر صدمے نے ملکی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ وہ ۵۸ ٹو بی جیسی آئینی شقیں ہوں یا سیاسی انجینئرنگ کے مکروہ کھیل، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ جمہوریت کا پودا کبھی تناور درخت نہ بن سکے اور اقتدار کی باگ ڈور ہمیشہ پسِ پردہ قوتوں کے ہاتھ میں رہے۔ آج پاکستان جس معاشی تنہائی اور نظریاتی تصادم کی لپیٹ میں ہے، یہ اسی گیارہ سالہ دورِ جبر کا تسلسل ہے جس نے ہماری مغربی سرحدوں کو محافظوں کے بجائے پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین سلگتی ہوئی حالیہ جنگی چنگاریاں اور عالمی سطح پر اٹھنے والے احتجاجی طوفان اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جب تک عالمی اور علاقائی سطح پر طاقت کا منصفانہ توازن قائم نہیں ہوتا، تب تک امن کا ہر دعویٰ محض ایک تمثیلی دھوکہ رہے گا۔
ان تمام تلخ حقائق اور ماضی کے نوحوں کے درمیان، مستقبل کا واحد راستہ صرف اور صرف غیر متزلزل جمہوری عمل کے تسلسل میں پنہاں ہے۔ آمریت کا قبرستان جیسا سکوت اگرچہ بظاہر نظم و ضبط کا دھوکہ دیتا ہے، مگر وہ درحقیقت قوموں کی فکری موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے، جبکہ جمہوریت کا ابتدائی شورو غوغا اور اس کا تلاطم ہی وہ فطری ارتقا ہے جو وقت کے ساتھ قوموں میں سنجیدگی، پختگی اور مثبت کلچر کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان اب مارشل لا جیسے کسی نئے صدمے کا متحمل نہیں ہوسکتا، اور پانچ جولائی کی ہلاکت آفرینیوں کا واحد تریاق یہ ہے کہ جمہوری اداروں کو ہر قسم کی مداخلت سے پاک کر کے مستحکم کیا جائے۔ ماضی کی زنجیروں کو توڑنے اور عالمی سامراج کے سحر سے نکلنے کے لیے لازم ہے کہ عوامی حاکمیت کا احترام کیا جائے، کیونکہ اسی فکری تجدیدِ عہد سے ایک ایسا خود مختار، پرامن اور باوقار پاکستان جنم لے سکتا ہے جس کا خواب اس مٹی کے حقیقی بیٹوں نے دیکھا تھا۔
واپس کریں