دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تاریخ کے قہقہے۔محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
وائٹ ہاؤس کے وسیع ہال میں سجے ضیافت نامے، کرسٹل کے جام اور سفارتی مسکراہٹوں کے درمیان جب دو جملوں نے ایک دوسرے کا تعاقب کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں پرانی تاریخ اچانک اپنی گرد جھاڑ کر محفل میں آ بیٹھی ہو۔ ایک طرف امریکی صدر کا وہ معروف فقرہ کہ "اگر امریکہ نہ ہوتا تو آج یورپ والے جرمن بول رہے ہوتے"، دوسری طرف برطانوی شاہ چارلس سوم کا برجستہ جواب کہ "اگر ہم نہ ہوتے تو آپ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے۔" حاضرین نے اسے خوش طبعی سمجھ کر تالیاں بجائیں، مگر حقیقت میں یہ قہقہے تاریخ کے دو ایسے لشکروں کی بازگشت تھے جو اب بندوقوں سے نہیں بلکہ بیانیوں، یادداشتوں اور قومی فخر کے ذریعے اپنی اپنی فتوحات کا حساب مانگ رہے ہیں۔ گویا اقتدار کے ایوان میں دو کردار نہیں بلکہ دو سلطنتیں آمنے سامنے تھیں، جن میں ہر ایک اپنے ماضی کو موجودہ سیاسی سرمایہ بنا کر پیش کر رہی تھی۔ یہ مکالمہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ عالمی سیاست میں کبھی کبھی ایک مختصر جملہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل تاریخ سے زیادہ گہرا پیغام دے جاتا ہے۔
اگر تاریخ کو ایک طویل دریا تصور کیا جائے تو اس کے کناروں پر آباد قومیں صرف پانی سے نہیں بلکہ زبانوں، تہذیبوں اور طاقت کے بہاؤ سے بھی اپنی شناخت کشید کرتی ہیں۔ اٹھارہویں صدی کی سات سالہ جنگ محض برطانیہ اور فرانس کی عسکری کشمکش نہ تھی بلکہ آنے والی دنیا کی لسانی اور تہذیبی جغرافیہ نویسی بھی تھی۔ شمالی امریکہ کے جنگلات، کینیڈا کے قلعے اور بحرِ اوقیانوس کی لہریں اس وقت شاید یہ نہ جانتی ہوں کہ توپوں کی گھن گرج آئندہ نسلوں کی زبان کا فیصلہ بھی کرے گی۔ برطانیہ کی فتح نے انگریزی کو شمالی امریکہ میں قدم جمانے کا موقع دیا، مگر تاریخ نے اسی برطانیہ کی نوآبادیوں میں آزادی کی ایسی چنگاری بھی روشن کی جس نے امریکہ کو جنم دیا۔ پھر یہی امریکہ دوسری جنگِ عظیم میں یورپ کے دفاع کا سب سے طاقتور ستون بن کر ابھرا۔ گویا سلطنتیں ایک دوسرے کو جنم بھی دیتی ہیں اور ایک دوسرے کی بقا کا وسیلہ بھی بنتی ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بھی درست ہے کہ اگر برطانوی غلبہ نہ ہوتا تو امریکی انگریزی شاید وجود میں نہ آتی، اور اگر فرانسیسی امداد نہ ہوتی تو امریکی آزادی کی داستان بھی مختلف ہوتی۔ تاریخ کا یہی حسن ہے کہ وہ کسی ایک فاتح کی جاگیر نہیں بنتی بلکہ ہر کامیابی کے پس منظر میں کسی دوسرے کردار کا خاموش مگر فیصلہ کن حصہ ضرور موجود ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ تجارت، سودے بازی اور قومی مفاد کی زبان بولتی رہی ہے۔ وہ جنگوں کو بھی کاروباری معاہدوں کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں، اسی لیے وہ پاک بھارت کشیدگی سمیت مختلف تنازعات میں اپنی ثالثی کو تجارت کے نسخۂ کیمیا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب شاہ چارلس کا جواب ایک بادشاہ کا نہیں بلکہ ایک ایسی قدیم ریاست کا تھا جو یہ یاد دلانا چاہتی ہے کہ طاقت صرف موجودہ عسکری یا معاشی برتری کا نام نہیں بلکہ تاریخی سرمایہ بھی ایک مستقل قوت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے اخراجات، یورپی سلامتی، امریکی ذمہ داریوں اور برطانوی ورثے پر جاری بحث دراصل دفاعی بجٹ سے کہیں آگے بڑھ کر تاریخی قرض اور سیاسی شراکت کے سوالات میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ضیافت میں بلند ہونے والے قہقہے دراصل اس نئے عالمی منظرنامے کی آواز تھے جہاں اتحادی بھی ایک دوسرے کو اپنی خدمات کا حساب یاد دلاتے ہیں اور دوستی کے پردے میں مفادات کی باریک گنتی بھی جاری رہتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اب شکریے کے الفاظ کم اور تاریخی رسیدیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔
اس پوری داستان کا سب سے گہرا سبق یہی ہے کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ لغات، نصاب، تہذیب اور اجتماعی حافظے میں بھی اپنی فتح درج کر جاتی ہیں۔ فاتح لشکر واپس چلے جاتے ہیں مگر ان کی زبانیں صدیوں تک لوگوں کی سوچ، قانون، ادب اور معیشت پر حکمرانی کرتی رہتی ہیں۔ آج انگریزی کا عالمی غلبہ نہ صرف برطانوی سلطنت کی میراث ہے بلکہ امریکی طاقت، ٹیکنالوجی، تجارت اور سفارت کاری کا بھی حاصل ہے۔ اسی لیے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ مختصر لفظی نوک جھونک محض مزاحیہ تبادلہ نہیں بلکہ طاقت، تاریخ اور شناخت کے باہمی رشتے کی ایک زندہ تمثیل تھی۔ قومیں جب اپنی کامیابیوں کا جشن مناتی ہیں تو دراصل وہ اپنے ماضی کی تعبیر بھی نئے انداز سے لکھتی ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ اتنی فیاض رہتی ہے کہ ہر فاتح کے پہلو میں کسی دوسرے کردار کا حصہ بھی محفوظ رکھتی ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ سلطنتیں زمین فتح کرتی ہیں، مگر اصل فتح اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ان کی زبان، ان کا بیانیہ اور ان کی یادداشت آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں گھر کر لے۔ تب توپیں خاموش ہو جاتی ہیں مگر الفاظ صدیوں تک بولتے رہتے ہیں۔
واپس کریں