
عبدالعلیم خان نے کاروبار کی طرح اب سیاست کو بھی چار چاند لگا دیے ہیں۔ جس طرح انہوں نے زمینیں حاصل کیں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں، ان پر خوابوں کے محل تعمیر کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئے، اسی طرح اب ان کی سیاست بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔
چند ہفتے قبل گلگت بلتستان میں الیکشن ہوا۔ آزاد امیدوار پہلے پیپلز پارٹی کے پاس گئے۔ بات نہ بنی تو عبدالعلیم خان کی استحکام پارٹی میں شامل ہو گئے، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے حکومت سازی میں شریک ہو گئے۔
تمام تر بدامنی، اضطراب اور سیاسی بے یقینی کے باوجود جولائی کے آخری ہفتے میں آزاد کشمیر میں انتخابی معرکہ برپا ہونا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے کئی متوقع امیدوارانِ اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیے، تو عبدالعلیم خان کی پارٹی نے ان کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیے۔ اب یہی امیدوار استحکام پارٹی کے نام سے الیکشن لڑیں گے، اور کچھ کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ یوں آزاد کشمیر میں بھی استحکام پارٹی ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے جا رہی ہے۔
غالباً اس کی قیادت سردار تنویر الیاس کریں گے، جو کچھ عرصہ پہلے استحکام پارٹی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ تحریک انصاف کا حصہ تھے۔ اس سے قبل مسلم کانفرنس میں رہے، اور اس سے بھی پہلے قاف لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹ کے امیدوار تھے۔
عبدالعلیم خان اور تنویر الیاس نے سیاست میں ایک کارپوریٹ ماڈل متعارف کرایا ہے، جس کا بنیادی اصول نظریہ نہیں، بلکہ متوقع کامیابی اور منافع ہے۔ سیاست ان کے لیے نہ اصول کا نام ہے، نہ نظریے کا، نہ کسی عوامی وابستگی کا۔ یہ محض کاروبار کو وسعت دینے، سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنے اور اقتدار کے قریب رہنے کا ایک ذریعہ رہی ہے، اور آج بھی ہے۔
لیکن اس طرزِ سیاست کے نتائج قومی سیاست کے لیے نہایت تباہ کن نکلے ہیں، خاص طور پر آزاد کشمیر میں، جو پہلے ہی احتجاج، بے چینی اور عوامی غصے کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان اپنی ساکھ بری طرح کھو چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں جس انداز سے استحکام پارٹی نمودار ہوئی ہے، اس نے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو مزید بے توقیر کر دیا ہے۔
اس لیے جب لوگ پوچھتے ہیں کہ کشمیری نوجوانوں کو مسئلہ کیا ہے؟ وہ ناراض اور بیزار کیوں ہیں؟ تو وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مظفرآباد میں چار حکومتیں بدل چکی ہیں۔ وہی چہرے، وہی سیاستدان، کبھی ایک پلیٹ فارم پر، کبھی دوسرے پر، اور کبھی تیسری چوکھٹ پر۔ ادھر شہریوں کے مسائل پہلے سے زیادہ الجھتے چلے گئے۔
اسی دوران کشمیریوں کے تشخص پر شب خون مارنے کی باتیں زبان زدِ عام ہوئیں۔ ریاستی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے خدشات زیرِ بحث آئے۔ نتیجتاً کشمیر کے پیر و جوان عوامی ایکشن کمیٹی کی پشت پر کھڑے ہو گئے۔ سیاسی جماعتوں اور روایتی قیادت کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملنے لگی۔
اب عالم یہ ہے کہ الیکشن سر پر کھڑا ہے، مگر نہ انتخابی مہم دکھائی دیتی ہے، نہ جلسے ہو رہے ہیں، نہ جلوس نکل رہے ہیں۔ ہر طرف ماتم کی سی کیفیت ہے، فضا سوگوار ہے، دل دکھی اور زخمی ہیں۔ گزشتہ چار ہفتوں نے آزاد کشمیر کی سیاست کو کلیتاً تبدیل کر دیا ہے۔ سیاستدان، حکمران اور مقتدرہ، تینوں اپنی ساکھ، توقیر اور رٹ کھو چکے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ اگلے چند ماہ میں آزاد کشمیر کا سیاسی منظرنامہ کیا شکل اختیار کرے گا، لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس خطے کو دوبارہ سنبھلنے میں بہت وقت لگے گا۔ یہاں کے باسی اسلام آباد، اپنے مقامی سیاستدانوں اور مقتدرہ سے ذہنی طور پر بہت دور جا چکے ہیں۔ اسلام آباد کا فاصلہ مظفرآباد سے شاید آج بھی ایک سو کلومیٹر ہے، مگر ذہنی فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر سے بھی بڑھ چکا ہے۔
یہ وہ وقت تھا جب اسلام آباد کو زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے تھا، فاصلے کم کرنے چاہیے تھے، نوجوانوں کی بیزاری دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے تھے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے راولاکوٹ میں کرفیو لگا دیا، پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ بند کر دیا، خوراک کی ترسیل متاثر ہوئی، حتیٰ کہ ادویات تک کی فراہمی مشکل بنا دی گئی۔
ایسے میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ چند انتخابی جوڑ توڑ، چند لوٹے، چند ٹکٹوں کی بندر بانٹ، اور چند کاروباری سیاستدان آزاد کشمیر کے عوام کو مطمئن کر دیں گے، تو وہ زمینی حقیقت سے بے خبر ہے۔
آزاد کشمیر بدل چکا ہے۔ اس کی سیاست بدل رہی ہے۔ اس کا نوجوان بدل چکا ہے۔ اس کا شعور ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب پرانے نسخے، پرانی چالیں، پرانے چہرے اور پرانی سرپرستیاں شاید وہ اثر نہ دکھا سکیں جو کبھی دکھایا کرتی تھیں۔
واپس کریں