
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ مساجد کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی حکومت کی جانب سے سڑک کو کشادہ کرنے اور شہری ترقیاتی منصوبے کے تحت کی گئی، جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔ حکام نے کہا ہے کہ مساجد منصوبہ بندی کے راستے میں آ رہی تھیں اور قانونی کارروائی اور پیشگی نوٹس کے بعد انہدام کیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق پانچ مساجد کی انتظامیہ نے منصوبے کے تحت کارروائی میں تعاون بھی کیا، جبکہ چھٹی مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ دوسری جانب مقامی مسلم تنظیموں اور بعض سماجی کارکنوں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھنے والی مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور حکومت کو متبادل راستے تلاش کرنے چاہیے تھے۔ انہوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔یہ اپنے آپ کو سیکولر بھارت کہلوانے والے ملک کا مکروہ ہندوتوا پر ملمع سازی کا مکروہ چہرہ ہے۔ مودی جیسی لیڈرشپ نے بھارت کو شدت پسند ہندو ریاست بنا دیا ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈرامے بازیاں کی جاتی ہیں۔ بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔ مسلم اور پاکستان دشمنی مودی کی شخصیت اور سرکار کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔نریندر مودی ڈرامے بازیوں سے دنیا کو بھارت کا سیاہ چہرہ روشن بنا کر پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔مودی دنیا کے چھوٹے موٹے ممالک کے دورے کر کے ایوارڈز اور اعزازات اپنے نام کروا کے دکھانا چاہتے ہیں کہ دنیا میں ان کی کتنی پذیرائی ہے۔ اس پر بھارتی اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا ملک بھی بلا لے تو یہ ایوارڈ لینے کے لیے بھاگے جاتے ہیں۔ایسے ایوارڈز کی حقیقت کو پاکستان کے وزراء کی طرف سے بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نریندر مودی کو دیے گئے مصنوعی اعزازات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے اب تک کی سب سے زیادہ شرمناک کہانی قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مودی کی آمد سے چند روز قبل ہی یہ ایوارڈز تخلیق کیے گئے، ان کے سرٹیفکیٹس کسی سستے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔ سرٹیفکیٹس میں واضح املا کی غلطیاں موجود تھیں اور نریندر مودی اس اعزاز کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بن گئے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت میں مصنوعی وقار کی سیاست سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ "ایکس" پر اپنے بیان میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک غیر ملکی دورے سے چند روز قبل اعزازات کی تخلیق سوالیہ نشان ہے، جبکہ اعزازی اسناد میں املا کی غلطیاں بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخصیت کا کسی اعزاز کو حاصل کرنے والا پہلا اور واحد فرد بن جانا امیج مینجمنٹ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارتی حکومت برسوں سے ایسے اعزازات کو عالمی پذیرائی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی رہی ہے اور نفرت پر مبنی پالیسیوں کے باوجود بیرونِ ملک اعزازات کی تشہیر کی گئی۔ عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی بیرونِ ملک اعزازی تقاریب میں شریک ہیں، جبکہ عام بھارتی عوام اندرونِ ملک سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔مودی سرکار کی اسلام اور پاکستان دشمنی پر دو رائے نہیں ہیں، بلکہ بھارت میں دیگر اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ مودی سرکار کے اقدامات علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ مساجد کا معاملہ عدالتوں میں ضرور گیا ہے، لیکن پوری دنیا نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا بھارتی سپریم کورٹ کا متعصبانہ فیصلہ بھی دیکھ رکھا ہے۔ اب مؤثر عالمی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اب بھارت کے اندر بھی دہرائے جا رہے ہیں۔معاملات درستی کیلئے مذمتوں قراردادوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں