
کیا خیبرپختونخوا میں ایسے بیجوں کو منظوری دی گئی جن پر وفاقی سطح پر پہلے ہی اعتراضات یا عدم منظوری موجود تھی؟ اگر سرکاری دستاویزات اپنی ظاہری شکل میں درست ہیں تو یہ محض ایک انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایسا معاملہ ہے جو صوبے کے زرعی نظام، کسانوں کے اعتماد اور قومی فوڈ سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی سیڈز کونسل کے 47ویں اجلاس میں بعض ایسی اقسام کی منظوری دی گئی جن کے بارے میں وفاقی سطح پر مختلف مؤقف اور تحفظات ریکارڈ پر موجود تھے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قواعد سے انحراف کیا گیا، کس اختیار کے تحت کیا گیا، اور آخر اس فیصلے سے فائدہ کس کو پہنچا؟
بیج صرف ایک زرعی ان پٹ نہیں بلکہ اربوں روپے کی معیشت کا حصہ ہیں۔ اسی لیے اگر منظوری کے نظام میں شفافیت متاثر ہو تو شکوک صرف ایک فیصلے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ممکنہ مفادات، اختیارات کے غلط استعمال اور ممکنہ بدعنوانی کے خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ اب محض تکنیکی اختلاف نہیں بلکہ عوامی مفاد کا سوال بن چکا ہے۔
ذرائع اور دستیاب ریکارڈ سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اجلاس میں شریک بعض ذمہ دار افسران وفاقی سطح پر ہونے والی کارروائی اور متعلقہ فیصلوں سے آگاہ تھے۔ اگر اس کے باوجود مختلف فیصلہ کیا گیا تو اس تضاد کی وجوہات کیا تھیں؟ کیا تمام قانونی اور سائنسی تقاضے پورے کیے گئے، یا فیصلہ کسی اور بنیاد پر کیا گیا؟
اس پورے معاملے کا سب سے بڑا متاثرہ فریق کسان ہے، جو سرکاری منظوری پر اعتماد کرتے ہوئے بیج خریدتا ہے۔ اگر منظوری کے عمل میں کسی بھی درجے کی بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو نقصان صرف کسان کا نہیں بلکہ زرعی پیداوار، عوامی وسائل اور غذائی تحفظ کا بھی ہوگا۔
یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے کہ اگر وفاقی سطح پر کسی بیج پر اعتراض موجود تھا تو صوبائی سطح پر اسے منظوری دینے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ کیا متعلقہ قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں، یا پھر قواعد کی ایسی تشریح اختیار کی گئی جس نے پورے نظام کو سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا؟
یہ رپورٹ کسی فرد کو مجرم قرار نہیں دیتی، لیکن دستیاب دستاویزات ایک آزاد، غیر جانبدار اور بااختیار تحقیقات کا تقاضا ضرور کرتی ہیں۔ اگر تمام فیصلے قانون کے مطابق ہوئے تو متعلقہ اداروں کو مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے رکھ کر شکوک ختم کرنے چاہییں۔ لیکن اگر قواعد سے انحراف، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کسی ممکنہ مالی مفاد کا عنصر سامنے آتا ہے تو پھر ذمہ داران کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہوگی۔
فوڈ سیکیورٹی جیسے حساس شعبے میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ اس اعتماد کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ شفافیت، جواب دہی اور قانون کی بالادستی ہے۔ اب نظریں متعلقہ اداروں پر ہیں کہ وہ اس معاملے کو محض ایک انتظامی اختلاف قرار دیتے ہیں یا پھر قوم کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ زرعی نظام میں کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔
واپس کریں