دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حقوق یا ٹکٹ۔۔۔ گلے میں نیا پٹہ!آزاد کشمیر میں ایک عجیب تماشا۔مقصود منتظر
No image صرف ایک ماہ پہلے تک آزاد کشمیر کی ایکشن کمیٹی کا ایسا دبدبہ اور دباؤ تھا کہ محسوس ہوتا تھا اس بار سیاسی میدان بالکل ویران ہوگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے نہ کوئی سیاسی دنگل سجے گا، نہ انتخابی گہما گہمی ہوگی اور نہ ہی ٹکٹوں کے لیے روایتی دوڑ دھوپ نظر آئے گی۔
مگر آج منظر یکسر مختلف ہے۔
ایک طرف آزاد کشمیر کا امن جل رہا ہے، سکون خاکستر ہو رہا ہے، کاروبار تباہی کے دہانے پر ہے، سیاحت ماند پڑ چکی ہے، اور بچے، بوڑھے، نوجوان اور خواتین اپنے حقوق کے لیے یک زبان ہیں۔ عوام سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور برسوں سے چلے آنے والے مسائل کی جڑ سیاست دانوں اور حکمرانوں کو قرار دے رہے ہیں۔
دوسری طرف ٹکٹوں کے حصول کے لیے ایسی رسہ کشی جاری ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے سیاسی منظرنامے میں آنے کے بعد اس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ وہی چہرے، وہی نام، وہی سابق حکمران اور وہی سیاست دان، جنہیں عوام اپنے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، آج ایک بار پھر ٹکٹوں کی جنگ میں مصروف ہیں۔
نہ شرم، نہ حیا، نہ قوم کی فکر اور نہ عوام کے دکھ کا احساس۔
کل تک پیپلز پارٹی انتخابات موخر کرنے کی بات کررہی تھی لیکن آج سب سے پہلے اسی نے ٹکٹ جاری کرکے انتخابی بغل بجادیا ۔
یہ منظر دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جس سیاست کو عوام دھتکار رہے ہیں، اسی سیاست کو برسوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والے آج بھی پوری بے فکری سے اپنا حق سمجھ کر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس سارے منظرنامے میں ایکشن کمیٹی اور اس کے حامیوں کو ایک اہم حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے۔ وہ مسلسل مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان بارہ ارکان پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے آزاد کشمیر کے سیاسی نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
مگر آج کا منظر اس سوچ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
اصل مسئلہ صرف بارہ افراد کا نہیں، بلکہ پورے سیاسی کلچر کا ہے۔ یہ صرف "بارہ کا ٹولہ" نہیں، بلکہ "تریپن کا ٹولہ" ہے، جو ہر انتخاب میں ٹکٹ کی خاطر ایک در سے دوسرے در کا طواف کرتا ہے۔
آج پھر یہی تماشا دہرایا گیا۔
جسے ٹکٹ نہ ملی، اس کا نہ نظریہ باقی رہا، نہ سیاسی وابستگی۔ پل بھر میں جماعت بدل لی، گلے میں نئی پارٹی کا پٹہ ڈال لیا اور نئے نظریے کا ترجمان بن بیٹھا۔
اب تک کم و بیش چالیس سیاست دان جماعتیں بدل چکے ہیں، جن میں اکثریت آزاد کشمیر کے وہی روایتی "الیکٹبلز" ہیں۔
آزاد کشمیر کے باشعور عوام سے سوال ہے کہ آخر آپ کے سیاسی شعور کو کیا ہو گیا ہے؟
ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کو انتخابی میدان میں آنا چاہیے، تاکہ اس گندے تالاب کا پانی بدلا جا سکے۔
اگر آپ صرف بارہ افراد کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں تو شاید یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ جو لوگ محض ایک ٹکٹ کی خاطر لمحوں میں اپنا نظریہ، جماعت اور سیاسی شناخت بدل سکتے ہیں، وہ کل عوام کے مسائل کے لیے کس حد تک مخلص ثابت ہوں گے؟
ایک طرف گزشتہ ستائیس دنوں سے پورا آزاد کشمیر بند ہے۔ خوراک کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں، لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ دوسری طرف خود کو عوام کا خیرخواہ، خدمت گزار اور جمہوریت کا علمبردار کہنے والے سیاست دان ٹکٹوں کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔
آزاد کشمیر کا تعلیم یافتہ نوجوان یہ سب کچھ براہِ راست دیکھ رہا ہے۔ اس کے ذہن میں سیاست کے بارے میں کیا تاثر جنم لے رہا ہوگا، یہ سمجھنا مشکل نہیں۔
سیاست دانوں کو کم از کم حالات کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے۔
سیاست کرنا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن جب ایک طرف عوام مشکلات، اضطراب اور بے یقینی میں مبتلا ہوں اور دوسری طرف اقتدار کے خواب سجائے جا رہے ہوں تو یہ منظر کم ظرفی کی بدترین مثال محسوس ہوتا ہے؛ گویا ایک طرف ماتم برپا ہے اور دوسری طرف شادیانے بج رہے ہیں۔
یقین یہی ہے کہ اس بار کے انتخابات معمول کے انتخابات نہیں ہوں گے۔ شاید بہت سے امیدوار اپنے حلقوں میں بھی آسانی سے نہ جا سکیں، اور اگر گئے تو انہیں عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایسے حالات میں سیاست دانوں کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کریں، کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کریں اور موجودہ بحران کے کسی باعزت اور پائیدار حل کی تلاش میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
واپس کریں