
پاکستانی سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ۔ پل میں تولہ، پل میں ماشہ۔ پل میں غدار اور پل میں محب وطن۔ ملک عزیز میں کوئی بھی صورتحال مستقل نہیں ۔ آج جو شخص اقتدار کی بلندیوں پر ہوتا ہے، کل وہی غدار بن کر جیل کی دیواروں میں قید نظر آتا ہے۔ آج جو فیصلہ حتمی لگتا ہے، کل وہی بدل جاتا ہے۔ یہاں سیاست کا رخ منٹوں میں بدلتا ہے اور کوئی بھی حتمی پیشین گوئی کرنا مشکل ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں سیاسی اتحاد و دشمنی، حکومت ، اپوزیشن، آزادی اور قید سب کچھ عارضی ہے لیکن مارے عام سیاسی کارکن جاتے ہیں جن کا کوٗی نام لیوا نہیں ہوتا۔
نواز شریف، بینظیر بھٹو، آصف زرداری اور اب عمران خان سب نے اس کھیل کے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔اشٹبلشمنٹ کی جانب سے آج کسی کو طاقتور بنایا جاتا ہے تو کل اسی کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔ آج کوئی عدالتی حکم کسی کے حق میں آتا ہے تو کل وہی عدالت دوسرے رخ پر نظر آتی ہے۔ پاکستانی سیاست کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ یہاں "پل میں تولہ، پل میں ماشہ" کا اصول کام کرتا ہے۔اس اصول کی تازہ ترین مثال 18 اگست 2026 کو سامنے آئی جب سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے، نے حکم دیا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ وہ وہاں کم از کم 16 ستمبر تک رہیں گے جب اگلی سماعت مقرر ہے۔عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا جس میں ماہرین کے ساتھ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی شامل کیا گیا۔ اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتیں اور بیرون ملک مقیم بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اجازت بھی دی گئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ قیدی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو بنیادی طبی سہولیات اور انسانی سلوک سے محروم کر دیا جائے۔یہ حکم اس وقت آیا جب مہینوں سے عمران خان کی صحت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ آنکھوں کے مسائل، بلڈ پریشر کی بے ترتیبی اور خاندان سے ملاقاتوں پر پابندیوں کے باعث ان کی صحت خراب ہونے کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایسا لگتا تھا کہ ان کی طبی ضروریات پر جان بوجھ کر خاص توجہ نہیں دی جا رہی، مگر پھر اچانک سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سامنے آ گیا۔ یہی پاکستانی سیاست ہے کہ ایک پل میں صورتحال بالکل بدل جاتی ہے۔ عدالت کا مذکورہ حکم یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں فیصلے صرف قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی ماحول، دباؤ اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی سیاست میں حتمی کچھ بھی نہیں۔ یہاں ہر فیصلہ، ہر صورتحال اور ہر تعلق عارضی ہے۔ پل میں تولہ، پل میں ماشہ یہ محاورہ یہاں کی سیاست کا سب سے بڑا سبق ہے۔ جو آج مضبوط ہے وہ کل کمزور ہو سکتا ہے اور جو آج کمزور ہے وہ کل مضبوط بن سکتا ہے۔
اشٹبلشمنٹ کا یہی وہ کھیل ہے جو کئی دہائیوں سے اس ملک میں جاری ہے اور شاید آگے بھی جاری رہے گا۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔
واپس کریں