دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکی پابندیوں کا خاتمہ، ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت
No image امریکا اور ایران کے مابین پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن سٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے جو مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں امید کی جا رہی ہے کہ پوری دنیا ان سے مستفید ہو گی۔ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کو 21 اگست تک بین الاقوامی منڈی میں تیل بیچنے کی اجازت ملنا بہت اہم پیش رف ہے جس سے بہت سے ملک فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کو ان ممالک میں سرِ فہرست ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ثالثی کے فوائد کے طور پر صرف تعریف و تحسین ہی نہ ملے بلکہ ایسے مادی اور مالی ثمرات بھی حاصل ہوں جن سے ملک اور عوام کی بہتری کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے اگلے مراحل مزید بہتر نتائج کے حامل ہوں گے جن کی بنیاد پر ایران کو مستقل طور پر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی جس سے ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام ممالک فائدہ اٹھائیں گے۔
مذاکرات کے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے ساٹھ روزہ روڈ میپ طے کیا گیا ہے اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح پر مذاکرات کا پہلا دور برگن سٹاک میں اختتام پذیر ہوا جس میں ایران، امریکا اور ثالثی کرنے والے دو ممالک پاکستان اور قطر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مذاکرات میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی جس میں مزید تکنیکی بات چیت کے لیے ایک نئے طریقۂ کار کا قیام بھی شامل ہے۔ مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے تاکہ مفاہمتی یادداشت اور دیگر معاملات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جس سے فوری طور پر مزید تکنیکی مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا۔
علاوہ ازیں، مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف 5 میں مذکور مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ لائن بھی قائم کی گئی ہے تاکہ غلط فہمیوں اور حادثات سے بچا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ فریقین نے تنازعہ سے بچاؤ کے ایک رابطہ مرکز کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس میں فریقین اور جمہوریہ لبنان شامل ہوں گے اور ثالث ممالک کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ تمام امور پر تکنیکی مذاکرات ہفتے کے بقیہ دنوں میں برگن سٹاک میں جاری رہیں گے۔ اعلامیے کے مطابق، ثالثی کرنے والے ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے کہ مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں آگے بڑھتے رہیں اور بالآخر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق، ایران کی جانب سے دو اہم شرائط پر عمل درآمد کی یقین دہانی پر امریکا نے بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری تعمیری مذاکرات کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں دنیا کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس پیش رفت کے بعد 60 روزہ عارضی جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے اور آئندہ اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور مذاکرات کی پیش رفت پر ہوگا۔ تاہم ایرانی تیل کی شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرائن کو ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی۔
دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئیں، ناکہ بندی اٹھا لی گئی، کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی۔ مفاہمتی یاد داشت کے مؤثر نفاذ کے لیے تکنیکی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
ادھر، امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور ایران نے ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ تکنیکی ٹیمیں مختلف امور پر گفتگو کررہی ہیں۔ تکنیکی گفتگو آنے والے ہفتوں اور دنوں میں جاری رہے گی۔ ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ لبنان معاملے پر مناسب ہم آہنگی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ہم لبنان میں کشیدگی میں کمی کے لیے طریقۂ کار پر گفتگو کررہے ہیں۔ ہم علاقائی جنگ بندی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کو کنٹرول میں رکھے۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ صدر پزشکیان صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات اور وزیراعظم کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے نئی راہوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ دورہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی روابط نیز باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کا بھی اہم موقع ہے۔
بے شک پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ہی خطے اور دنیا بھر میں امن کے راستے کھلے ہیں۔ ایران پر امریکی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں تو ہمیں ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو وسیع کر کے اس کے ساتھ تیل کی درآمد کے معاہدے کرنے اور گیس پائپ لائن کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کر دینا چاہیے تاکہ ہمیں درپیش توانائی کے بحران سے نجات مل سکے۔ نیز، ہم ایران سے سستا پٹرول اور سستی گیس حاصل کر کے ملک کی معیشت اور عوام کے لیے آسانی پیدا کر سکیں۔ دنیا میں ہماری نیک نامی کے ہماری معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے نظر آنے چاہئیں۔ اگر ہم اس موقع پر ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے اپنی معیشت کی بہتری کے لیے راستہ کھولتے ہیں تو موجودہ حکومت کا یہ کارنامہ ہمیشہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا کیونکہ اس وقت ہم معاشی مشکلات کی وجہ سے آئی ایم ایف جیسے ساہوکار ادارے کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک اور عوام دونوں شدید پریشانی کا شکار ہیں اور جب تک معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑائی جاتی تب تک ملک اور عوام کے حالات میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی نظر نہیں آسکتی۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں