
وفاقی اور صوبائی میزانیوں کے پیش ہونے کے بعد اب مختلف اخراجات کی منظوریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں اسمبلیوں اور سینیٹ سمیت تمام تگڑے اداروں، شعبوں اور محکموں کے لیے تو بڑی بڑی رقوم منظور کی جا رہی ہیں لیکن عوام کے لیے وہی وعدے اور دعوے ہیں جو نصف صدی سے زائد عرصے سے مسلسل سیاست دانوں کی زبان پر ہیں۔ ہر سال بجٹ پیش کرنے سے پہلے، اس دوران اور بجٹ پیش کیے جانے کے بعد، حکومت کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ عوام کی مشکلات کا خیال رکھا جا رہا ہے لیکن مسائل بہت زیادہ ہیں، ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، امید ہے کہ سب کچھ بہتر ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ دوسری جانب، حزبِ اختلاف کہتی ہے کہ عوام دشمن بجٹ ہے، اس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا، عوام کی ہرگز کوئی پروا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہی حزبِ اختلاف جب خود حکومتی بنچوں پر جا کر بیٹھی ہے اور حکومتی بنچوں والے اٹھ کر ایوان کی دوسری طرف بیٹھ جاتے ہیں تو بیانات اور لہجے یکسر مختلف ہو جاتے ہیں، اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
رواں برس وفاقی حکومت نے عوام پر جو نظرِ کرم کی ہے وہ تو سب کے سامنے ہے اور اپنا اور اپنی امداد و اعانت کے لیے کام کرنے والے محکموں، شعبوں اور اداروں پر جو عنایات کی ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہفتے کے روز ایوان میں وفاقی مجموعی فنڈ میں سے لازمی اخراجات کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں مجموعی طور پر 40 ہزار 741 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد کے لازمی اخراجات شامل ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے لازمی اخراجات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو بتایا کہ لازمی اخراجات میں ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے 25 ہزار 992 ارب سے زائد، غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی کے لیے 5 ہزار 836 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد، غیر ملکی قرضہ جات کے مصارف کی مد میں ایک ہزار 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد، وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضے اور ایڈوانسز کی مد میں 607 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد رکھا گیا ہے۔ قلیل المیعاد بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں 130 ارب 29 کروڑ روپے، گرانٹس، اعانتیں اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب، انتخابات کے لیے 10 ارب، سپریم کورٹ 7 ارب 44 کروڑ، وفاقی آئینی عدالت 6 ارب 4 کروڑ سے زائد، اسلام آباد ہائیکورٹ 2 ارب 36 کروڑ سے زائد، آڈٹ کے لیے 9 ارب 82 کروڑ سے زائد، صدر کا عملہ خانہ داری و الاؤنسز (پرسنل) کے لیے ایک ارب 83 کروڑ 66 لاکھ جبکہ صدر کا عملہ، خانہ داری اور الاؤنسز کے لیے 96 کروڑ، سینیٹ کے لیے 6 ارب 45 کروڑ، قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ، الاؤنسز و پنشنز کے لیے 6 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی کی طرف سے مذکورہ اخراجات کی منظوری تو دے دی گئی تاہم آئین کے مطابق اس موقع پر ووٹنگ نہیں ہوئی۔ لازمی اخراجات کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن ارکان نے بحث میں حصہ لیا جبکہ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل اور وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس اجلاس کا مرکزی نقطہ لازمی اخراجات میں ہونے والے اضافے اور ملکی و عوامی فلاح و بہبود پر اس کی وجہ سے پڑنے والے اثرات ہونا چاہیے تھا اس میں سیاسی رہنماؤں کے مابین یہ بحث چلتی رہی کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے معاملات کیا تھے، کیا ہیں اور کیا ہونے چاہئیں۔ اس ایک مثال ہی سے عوام پر یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ سیاسی قیادت کو ملک اور عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے اور ایوان میں بیٹھ کر لی جانے والی بھاری تنخواہوں اور مراعات و سہولیات کے بدلے میں صرف یہ کیا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے قائدین پر سوال اٹھائے اور ان کے جوابات دیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں حزبِ اختلاف کے کچھ ارکان نے بعض اہم نکات اور تجاویز پیش کیں جن پر نہ صرف مسلسل بات ہونی چاہیے بلکہ عملی اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں۔ اپوزیشن رکن ثناءاللہ مستی خیل نے کہا کہ ملک پر 83 ٹریلین ڈالر کے قرضے ہیں، 44 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے ہے، ملک کے وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ 100 ارب ڈالر ملک سے چلا گیا۔ علی محمد خان نے غیر تصویبی اخراجات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مغرب کے سودی نظام نے دنیا کو دو عالمی جنگوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ ہماری قائمہ کمیٹیاں مکمل نہیں ہیں، ان کو فعال کیا جائے۔ عمیر خان نیازی کا کہنا تھا کہ بجٹ کا 75 فیصد لازمی اخراجات پر جا رہا ہے، اسی وجہ سے معیشت کو سنبھالا نہیں مل رہا۔ عامر ڈوگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سالانہ اربوں کی گرانٹ اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ صاف شفاف انتخابات کا انعقاد کرائے تاہم شفاف انتخابات نہیں کرائے جاتے۔ شفقت عباس نے کہاکہ عدلیہ کے لیے سات ارب روپے بجٹ دیاگیاہے، انصاف کی فراہمی کا نظام درست ہونا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرے۔
ادھر، وفاقی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے پر زور دیا ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ریٹیلرز کو نظام کا حصہ بنانے پر کام جاری ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی پر تنقید کی گئی، ہماری حکومت نے دو سال میں 14 ارب ڈالر کے اضافی محصولات جمع کیے۔ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ بعض تجاویز کو فنانس بل میں شامل کرنے کا ارادہ ہے، اس سال اکتالیس ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا ہدف پورا کردیں گے، آئی ٹی ایکسپورٹ ساڑھے چار ارب ڈالر ہونے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے یہ تو بتا دیا کہ ان کی حکومت نے 14 ارب ڈالر کے اضافی ٹیکس اکٹھے کیے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ ٹیکس عوام کی ہڈیوں سے نکالے گئے ہیں اور ان میں اشرافیہ کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ علاوہ ازیں، ہر بجٹ میں حکومت جس طرح اپنے اخراجات بڑھاتی جا رہی ہے اور جس طرح اشرافیہ کو نوازا جا رہا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قابلِ قیاس مستقبل میں حکومت کا آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جب تک آئی ایم ایف کا طوق ہمارے گلے میں پڑا رہے گا یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہیں بلکہ اشرافیہ کے اللوں تللوں کے لیے حاصل کیے جاتے ہیں اسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ عوام کی حالت ابتر اور اشرافیہ کے حالات بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں۔ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں