دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسرائیل میں مایوسی کی لہر
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی (Hebrew University) اور آگام انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ سروے نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ 17 سے 20 جون 2026 کے درمیان 3,644 اسرائیلی شہریوں پر کیے گئے اس سروے کے نتائج نہ صرف اسرائیلی قیادت کے لیے ایک زبردست دھچکا ہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ذہنی کیفیت بھی ظاہر کرتے ہیں جو اپنی فوجی طاقت پر نازاں تھا مگر آج اپنی ہی حکمت عملی پر سوال اٹھا رہا ہے۔
سروے کے مطابق 92.1 فیصد اسرائیلی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران اس تنازع میں فاتح رہا یا اسے اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل ہوئے۔ یہ تعداد اتنی حیران کن ہے کہ اسے محض اپوزیشن کے جذبات سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ووٹرز میں بھی 93.1 فیصد افراد کا خیال ہے کہ ایران جنگ جیت گیا۔ یہ وہی ووٹرز ہیں جنہیں حکومت اپنا "کور ووٹ بینک" سمجھتی ہے اور وہ بھی اب حکومتی بیانیے سے مکمل طور پر بیزار نظر آتے ہیں۔
اسی سروے میں 82.9 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اس جنگ اور اس کے نتائج نے اسرائیل کی طویل مدتی سیکیورٹی کو شدید کمزور کیا ہے۔ 86 فیصد نے جنگ کے نتائج کو منفی قرار دیا، جبکہ 87.8 فیصد کا ماننا ہے کہ اسرائیل اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا یا صرف جزوی طور پر کامیاب ہوا۔
نیتن یاہو پر عوام کا اعتماد ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ 72.5 فیصد اسرائیلیوں نے نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف "اہم کامیابیاں" حاصل کی ہیں۔ 56.4 فیصد نے وزیراعظم کی جنگی مہم کی قیادت کو "ناکام" یا "ناقص" قرار دیا۔ نیتن یاہو کی حمایت مارچ 2026 کے 40.5 فیصد سے گر کر جون میں 29.4 فیصد رہ گئی یہ کمی اتنی تیز ہے کہ اسے سیاسی زلزلہ کہا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ جیو پولیٹکس کے مطابق اسرائیلی عوام کا یہ ریکارڈ عدم تحفظ محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ٹھوس معاشی اور سفارتی حقائق کا عکس ہے۔ امریکہ ، ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ، جس میں اسرائیل براہِ راست شریک نہیں تھا امریکہ نے ایران کو معاشی ریلیف فراہم کیا اور اس کی تیل برآمدات پر پابندیاں ختم کر دیں۔ اس معاہدے کے خلاف اسرائیلی عوام کی بھاری اکثریت (63.2 فیصد) ہے اور صرف 12.1 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی وائس پریزڈنٹ جے ڈی وینس نے اسرائیل کو واضح انتباہ دیا کہ اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ اپنا آخری بڑا اتحادی بھی کھو سکتا ہے۔ مزید جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل میں کوئی بھی شخص جو یہ سوچتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی صدر ہے، اسے اپنے ملک کی حقیقت سے آنکھیں کھولنی چاہئیں۔
فرانس جیسے ممالک نے اسرائیلی ہتھیاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ ایران کو معاشی امداد کے 300 بلین ڈالر کے فنڈ کے قیام پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ اسرائیل خود کو سفارتی طور پر الگ تھلگ پا رہا ہے اور عوام اس حقیقت کو بخوبی سمجھ رہے ہیں۔
یروشلم پوسٹ میں شائع ایک تجزیے کے مطابق اسرائیل نے ایران کو بنیادی طور پر ایک "فوجی مسئلہ" سمجھا، جبکہ ایران نے اسرائیل کو ایک "سیاسی، علاقائی اور اسٹریٹجک مسئلہ" قرار دیا۔ یہی فرق ہے جس نے ایران کو اپنی معاشی کمزوری اور بین الاقوامی تنہائی کے باوجود علاقے میں اتنا مؤثر طریقے سے اثر و رسوخ پھیلانے کا موقع دیا۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف خاطر خواہ فوجی نقصان پہنچایا، لیکن اس نے اسرائیل کا "ایران مسئلہ" حل نہیں کیا۔ جب تک ایران میں موجودہ نظام برقرار ہے، اسرائیل کو ایک مخالف حکومت کا سامنا رہے گا جو اپنی صلاحیتوں کو بحال کرنے اور تصادم جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
نیتن یاہو حکومت اور بین گویر جیسے وزراء کے سخت بیانات کے باوجود جنہوں نے ایران کے خلاف "مکمل فتح" کے دعوے کیے زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ اسرائیلی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ فوجی طاقت کے باوجود ایران نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے ذریعے اسے سفارتی اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔
یہ سروے اسرائیلی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ جب کسی ملک کے 92 فیصد شہری بشمول حکمراں جماعت کے ووٹرز یہ تسلیم کریں کہ ان کا بڑا حریف جنگ جیت گیا، اور 83 فیصد یہ مانیں کہ ان کی اپنی طویل مدتی سلامتی کمزور ہوئی ہے، تو یہ محض ایک سروے نہیں رہ جاتا یہ ایک قومی مکالمے کا آغاز ہے۔
اسرائیلی عوام نے اپنی حکومت کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیتن یاہو حکومت اس عوامی عدم اعتماد کے سیلاب کا سامنا کیسے کرتی ہے اور کیا یہ مایوسی کی لہر اسرائیلی سیاست میں کوئی نیا راستہ تلاش کر پائے گی۔ ایک بات تو طے ہے اسرائیل میں عوام اب اپنی آنکھوں سے دیکھی حقیقت پر یقین کرتے ہیں، نہ کہ وزراء کے سنے سنائے بیانات پر۔
واپس کریں