زیرِ حراست تشدد و قتل پر عدالتی فیصلہ: قانون کے سامنے پولیس بھی جوابدہ ہے

خالد خان ۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم اور توجہ طلب فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے ریاستی اداروں کے اندر جوابدہی کے تصور کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ زیرِ حراست تشدد اور ایک شہری کی ہلاکت سے متعلق اس مقدمے میں عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کسی بھی فرد یا ادارے کے تابع نہیں، بلکہ سب اس کے تابع ہیں۔
یہ مقدمہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب ایک شہری کی پولیس تحویل کے دوران ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا۔ بعد ازاں اگرچہ متاثرہ خاندان اور ملزمان کے درمیان مالی تصفیہ اور دیت کی صورت میں تقریباً نو کروڑ اسی لاکھ روپے ادا کیے گئے، لیکن معاملہ صرف مالی ادائیگی تک محدود نہیں رہ سکا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس کیس میں مؤقف اختیار کیا کہ ایسے جرائم جن کا تعلق ریاستی تحویل، انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق سے ہو، وہ صلح یا مالی تصفیے سے ختم نہیں ہوتے۔ یہ جرائم فوجداری نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں ریاست اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ دیت اور صلح کا ایک قانونی پہلو موجود ہے، لیکن فوجداری ذمہ داری اور قانون کی عمل داری اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔
عدالت نے مقدمے میں ملوث تھانہ غالیگئی کے ذمہ دار افسران، جن میں تھانے کا ایس ایچاو، محرر، مدد محرر، چوکی انچارج اور تفتیشی افسر شامل تھے، مجموعی طور پر چھ اہلکاروں کو مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دے کر سزائیں سنائیں۔ فیصلے میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ ریاستی تحویل میں موجود کسی بھی شخص کی حفاظت مکمل طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری میں کسی قسم کی کوتاہی سنگین فوجداری جرم تصور کی جاتی ہے۔
یہ فیصلہ آئینِ پاکستان کے بنیادی حقوق کے تناظر میں بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے، جہاں ہر شہری کو زندگی، انسانی وقار اور تحفظ کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی صورت میں غیر انسانی سلوک کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح فوجداری قانون کے تحت بھی ایسے افعال جن کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو، انہیں محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ قابلِ سزا جرم تصور کیا جاتا ہے۔
اس مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش اور قانونی پیروی کو منظم اور مضبوط انداز میں پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں عدالت تک ایک واضح اور مؤثر کیس پہنچا۔ یہ عمل نہ صرف تفتیشی معیار کی بہتری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ قانونی نظام کے اندر ادارہ جاتی مضبوطی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ صرف چھ افراد کی سزا نہیں بلکہ ایک بڑے اصول کی توثیق ہے کہ ریاستی طاقت ذمہ داری کے بغیر نہیں دی جا سکتی۔ یہ فیصلہ آنے والے وقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پولیس یا کوئی بھی ریاستی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں، اور انسانی جان کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت ناقابلِ برداشت ہے۔
یہ مقدمہ مستقبل کے لیے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں قانون نے واضح کر دیا ہے کہ انصاف نہ صلح سے رک سکتا ہے اور نہ طاقت کے دباؤ سے جھک سکتا ہے.
واپس کریں