
سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ کمیٹی کا اجلاس گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرِ صدارت ہوا۔ اعلامیے کے مطابق اپریل اور مئی میں مہنگائی دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہوگئی۔ آئندہ چند ماہ مہنگائی دو ہندسوں میں رہنے کے بعد بتدریج کم ہونے کی توقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا، جس سے مہنگائی پر دباؤ بڑھا۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی نمو کا عبوری تخمینہ 3.7 فیصد رہا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معاشی ترقی میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال 2025-26 میں صنعتی اور خدمات کے شعبوں نے معاشی نمو میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں جولائی تا مارچ 6.5 فیصد اضافہ ہوا۔سٹیٹ بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بلند توانائی کی قیمتیں اور موسمی خدشات آئندہ مالی سال میں معاشی سرگرمیوں اور زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 30 کروڑ ڈالر خسارے میں رہا، تاہم مضبوط ترسیلاتِ زر کے باعث پورے مالی سال کا خسارہ پہلے کے تخمینوں کے نچلے درجے میں رہنے کی توقع ہے۔ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 5 جون تک 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔جولائی تا مارچ مالی سال 26ء کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی نے 6.5 فیصد کی مضبوط نمو دکھائی۔ زرعی شعبے کی کارکردگی ماند رہے گی، جس کا اثر مالی سال 27ء میں نمو کے منظرنامے پر پڑ سکتا ہے۔ پالیسی کے مطابق اپریل میں جاری کھاتے میں 0.3 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا، جس کے نتیجے میں جولائی تا اپریل مالی سال 26ء کے دوران مجموعی خسارہ 0.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔اس کی بنیادی وجہ اپریل میں توانائی کی درآمدات بڑھنے کے سبب تجارتی خسارے میں اضافہ تھا، جس نے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مضبوط کارکردگی کے مثبت اثرات کو زائل کر دیا۔ فنانسنگ کے لحاظ سے سرکاری ذرائع سے آنے والی رقوم میں اضافہ بیرونی واجبات کی ادائیگی میں اہم معاون ثابت ہوا۔ ان تبدیلیوں سے سٹیٹ بینک کو زرمبادلہ کی خریداری اور ذخائر میں اضافے میں مدد ملی۔مالی سال 27ء میں جاری کھاتے کا خسارہ کچھ بڑھنے کی توقع ہے۔ ایف بی آر نے مالی سال 26ء کا اپنا ہدف کم کرکے تقریباً 13 ٹریلین روپے کر دیا۔ محاصل کے ہدف میں اس کمی کے باوجود حکومت کو توقع ہے کہ وہ اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے جی ڈی پی کا 2.5 فیصد سرپلس پرائمری بیلنس حاصل کر لے گی۔عمومی مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو مارچ کے 7.3 فیصد کے مقابلے میں اپریل میں بڑھ کر سال بہ سال 10.9 فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعہ نے توانائی کی ملکی قیمتیں بڑھا کر براہِ راست، اور نقل و حمل و پیداواری لاگت میں اضافہ کرکے بالواسطہ طور پر مہنگائی بڑھانے میں کردار ادا کیا۔قومی اقتصادی سروے رپورٹ میں بھی مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ میں عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے معیشت کی کبھی خوش کن اور کبھی مایوس کن تصویر پیش کی جاتی ہے۔ کبھی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر بتائے جاتے ہیں اور کبھی 17 ارب ڈالر۔امریکہ۔ایران جنگ شروع ہونے پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر معمولی اضافہ ہوا تو ملک میں فوری طور پر ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا۔ اب کمی ہونے کے بعد قیمتیں 28 فروری کی سطح پر آ گئی ہیں، مگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔حکومت مالی مشکلات کی بات کرتی ہے۔ کیا اس کا ایندھن صرف عام آدمی کو بنانا ہے؟ ایوانوں کے اخراجات بڑھائے گئے، جبکہ پارلیمنٹیرینز کی مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کیا گیا۔آج عوام کو غربت، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے بڑے مسائل درپیش ہیں، جن کے ازالے کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھایا جاتا نظر نہیں آ رہا۔ حکومت کو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی انہیں ریلیف دے کر مطمئن کرنا چاہیے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں