دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبر پختونخوا میں تین ماہ کا عبوری بجٹ: انتظامی مجبوری یا معاشی بے سمت سفر؟
No image (پشاور) خالد خان ۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پورے مالی سال کے بجائے محض تین ماہ کا عبوری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک تکنیکی قدم دکھائی دیتا ہے، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ اقدام صوبے کی مالی حکمتِ عملی، انتظامی تسلسل اور اقتصادی اعتماد پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
یہ بات درست ہے کہ آئین و قانون کے تحت “ووٹ آن اکاؤنٹ” ایک جائز پارلیمانی طریقہ کار ہے، مگر اس کا استعمال عمومی طور پر غیر معمولی سیاسی حالات، انتخابی عبوری ادوار یا فوری بجٹ منظوری میں رکاوٹ کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ جب اسے معمول کے مالی سالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ پالیسی نہیں رہتی، بلکہ پالیسی کی غیر موجودگی بن جاتی ہے۔
معیشت کا بنیادی اصول پیش بینی، تسلسل اور طویل المدتی منصوبہ بندی ہے۔ کسی بھی صوبے کا سالانہ بجٹ صرف آمدن و خرچ کا حساب نہیں ہوتا بلکہ یہ ترقیاتی سمت، سرمایہ کاری کے اعتماد اور ادارہ جاتی استحکام کا نقشہ ہوتا ہے۔ تین ماہ کا عبوری بجٹ اس پورے نظام کو وقتی اور غیر یقینی بنا دیتا ہے۔
نتیجتاً نہ صرف ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ پالیسی کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ سرکاری محکمے “انتظار کی معیشت” میں چلے جاتے ہیں، جہاں ہر فیصلہ اگلے بجٹ تک معطل رہتا ہے۔
عبوری مالیاتی ڈھانچے میں حکومت کی ترجیح صرف جاری اخراجات—یعنی تنخواہیں، پنشن اور انتظامی اخراجات—تک محدود ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال میں نئے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز عملاً ناممکن ہو جاتا ہے۔
صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور مقامی حکومتوں کے وہ منصوبے جو پہلے ہی مالی تاخیر کا شکار ہیں، مزید غیر یقینی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع جیسے حساس اور ترقی پذیر علاقے اس اثر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جہاں پہلے ہی وسائل کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔
کسی بھی خطے کی معیشت میں سب سے اہم عنصر “اعتماد” ہوتا ہے۔ جب مالی سال کے آغاز میں ہی یہ تاثر قائم ہو جائے کہ حکومت مکمل سال کا بجٹ دینے کی پوزیشن میں نہیں، تو نجی شعبہ اور سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔
سرمایہ کاری کا فیصلہ ہمیشہ استحکام پر ہوتا ہے، نہ کہ عبوری اور غیر یقینی مالی ڈھانچے پر۔ اس طرح کا ماحول نہ صرف نئے سرمایہ کاروں کو روکتا ہے بلکہ پہلے سے موجود کاروباری سرگرمیوں کو بھی دوسرے خطوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔
صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان مالیاتی واجبات، این ایف سی ایوارڈ، نیٹ ہائیڈل منافع اور دیگر بقایاجات جیسے معاملات پہلے ہی ایک پیچیدہ تنازعہ بن چکے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک مکمل سالانہ بجٹ صوبے کا مالی مقدمہ زیادہ مضبوط بنیادوں پر پیش کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔
اس کے برعکس تین ماہ کا عبوری بجٹ اس مالی موقف کو وقتی اور کمزور بنا دیتا ہے، جس سے صوبے کی مذاکراتی پوزیشن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
جب بجٹ کا افق محدود ہو جائے تو بیوروکریسی اور انتظامی مشینری بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو جاتی ہے۔ فیصلے رک جاتے ہیں، منظوریوں میں تاخیر بڑھ جاتی ہے اور منصوبہ بندی کی جگہ “انتظار اور ردعمل” کی پالیسی لے لیتی ہے۔
یہ صورتحال انتظامی کارکردگی کو سست اور غیر مؤثر بنا دیتی ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑتا ہے۔
اس فیصلے پر سیاسی حلقوں کا اختلاف اور ممکنہ قانونی چیلنج صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف مالی بے یقینی ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی کشمکش اور عدالتی کارروائیاں پورے نظام کو مزید دباؤ میں لے آتی ہیں۔
تین ماہ کا عبوری بجٹ بظاہر ایک وقتی انتظام ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات وقتی ہرگز نہیں ہوتے۔ یہ فیصلہ اگر غیر معمولی حالات کا حصہ نہیں بلکہ ایک پالیسی رجحان ہے، تو یہ صوبے کو مالی استحکام کے بجائے مسلسل غیر یقینی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت جذباتی یا وقتی فیصلوں کی نہیں بلکہ ایک مربوط، سالانہ، اور قابلِ اعتماد مالی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے—ایسی حکمتِ عملی جو صرف آج نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی بنیاد بھی مضبوط کرے۔
کیونکہ معیشت میں سب سے خطرناک چیز خسارہ نہیں ہوتا،
بلکہ غیر یقینی اور عدم تسلسل ہوتا ہے۔
واپس کریں