
ایسی نازک اور تشویش ناک صورت حال میں، جب بیرون ممالک اور آذاد کشمیر بھر کی ہزاروں خواتین،بچے،بوڑھے اور جوان کئی دنوں سے اپنے بنیادی حقوق، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک،سینکڑوں زخمی اور گرفتار ہیں۔ پورے آذاد کشمیر میں مکمل شٹر ڈاون ہڑتال جاری ہے اور تمامانٹری پوائنٹس مکمل بند ہیں جس باعث خوارک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، عوام سراپا احتجاج ہیں اور اس ساری صورت حال کو عالمی میڈیا نمایاں کوریج دے رہا ہے۔ ایسے میں آذاد کشمیر کے روائیتی سیاسی لیڈران تشویش ناک اور افسوس ناک حالات کو بہتر کرنے کے بجائے اپنی اپنی اقتدار کی باری کے انتظار میں بے چین ہیں اور الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، گویا عوام یا اپنے ووٹران اور سپورٹران کے دکھوں،تکالیف اور ان کے مسائل، آذاد کشمیر کے روایتی سیاسی لیڈران کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی واحد ٹھیکیدار سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور ووٹ کو عزت دو والی پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی قیادت آمدہ الیکشن کو لے کر آپس میں سیاسی اختلافات کا شکار ہے۔ اپنے جائز حقوق کی خاطر احتجاج کرنے والے نہتے کشمیری عوام پر پر بدترین تشدد ہوا لیکن آذاد کشمیر کے سیاسی لیڈران نے تا حال مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کی قوم ان کے ووٹرز مشکل ترین وقت سے گزر رہے ہیں اور یہ سیاسی ڈرامہ باز اور منافق اقتدار کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ ان سیاسی منافقوں کا مکروہ اور بھیانک کردار رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
لگتا ہے ریاست آزادکشمیر کے حکومتی ایوانوں میں سرکس لگا ہوا ہے۔ گیند ایک سے دوسرے اور تیسرے سے ہوتی ہوئی واپس پہلے کے پاس پہنچتی ہے یعنی پی پی پی کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ الیکشن ملتوی ہونے چائیں جبکہ ن ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر بیان داغتا ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہے اور یہ کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفیکشن کی ذمہ دار حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔
کھلی حقیقت یہ ہے کہ مقتدرہ کے ترجمان شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر اور دیگر ن لیگی جو پریس کانفرنس کر کے کہہ رہے ہیں کے”ہم اپوزیشن لیڈر ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں“
امر واقع یہ ہے کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کا وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو بنایا گیا تھا تو تمام ن لیگی ارکان اسمبلی نے بڑھ چڑھ کر انہیں ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا تھا اور پھر اپوزیشن میں بھی خود ہی بیٹھ گئے تھے۔
گویا ان دونوں سیاسی جماعتوں میں کوئی بڑا اختلاف نہیں اور یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے فائدوں اور اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے آگے پیچھے کھڑی ہیں جبکہ کشمیری قوم آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس سمیت ان دونوں سیاسی جماعتوں کے مکروہ اور بھیانک چہرے دنیا کے سامنے لا چکی ہے۔
واپس کریں