
آزاد جموں کشمیر کی اسمبلی میں کل 53 نشستیں ہیں۔ جن میں سے 8 مخصوص نشستیں ہیں اور 33 وہاں کے مقامی حلقوں کے باشندوں کے لیے ہیں۔ ان 33 ممبران اسمبلی کا چناؤ آزاد کشمیر میں مقیم 43 لاکھ عوام کرتی ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ 12 نشستوں کا ہے جو کہ مہاجرین حال مقیم پاکستان کے لیے بنائی ہوئی ہیں۔ان 12 نشستوں میں سے اکثریت منتخب نمائندے بھی پاکستان میں ہی مقیم ہیں، کوئی پشاور ، کوئی لاہور ، کوئی کراچی، کوئی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔
اہم وزارتیں اکثر انہی 12 نمائندوں کو دی جاتی ہیں مثلاً ماضی قریب میں یہ اہم وزارتوں پر تعینات تھے لیکن پاکستان کے کسی شہر سے ہیں۔
Finance minister --- پشاور
Sport minister--- ملتان
Transport minister---راولپنڈی
Minster of industry and commerce--- اٹک
مطلب جو باقی 4 صوبے ہیں وہاں سے لوگ آئے آزاد کشمیر میں مینڈیٹ لیتے ہیں اور اکثر بڑی بڑی پوسٹ پر بیٹھتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ یہ 12 ممبران آزاد کشمیر حکومتوں کو بنانے اور گرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے لیے پچھلے پانچ سال میں 4 بار وزیراعظم کی تبدیلی میں ان کا عمل دخل دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ حقیقی طور پر مسئلہ کشمیر کے حل میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے لیے تو وکیل پاکستان کے اور ان میں سے کوئی بھی بین الاقوامی فورم پر کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر بجٹ میں پاکستان میں اپنے حلقہ انتخاب کے لیے یہ فونٹ لیتے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے عوام اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ مثلاً پنجاب میں رہائش پذیر خیبرپختونخوا اسمبلی کا نمائندہ فنڈ لے کہ اس نے پنجاب میں بسنے والے پختونوں پر خرچ کرنا ہے۔ کیا اس بات کی اجازت دی جائے گے؟
جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) کوئی باقاعدہ رجسٹر ڈ سیاسی پارٹی نہیں بلکہ عام عوام پر مشتمل ایک طبقہ ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ 12 نشستیں ختم ہونی چاہیے کیونکہ یہ غیر سیاسی قوتوں کو سیاسی انجینئرنگ اور حکومت بنانے گرانے کا نہایت ہی آسان ٹول مہیا کرتی ہیں۔ جو کہ حقیقت بھی ہے۔ اس بات کا اعتراف ابھی چند روز قبل خود آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے بھی ایک انٹر ویو میں کیا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ منتخب سیاسی حکومت کے سر پر ہر لمحہ ایک تلوار لٹکتی رہتی ہے اور وہ آزادانہ قانون سازی اور فیصلہ سازی نہیں کر سکتے۔
یہ 12 نشستیں 1970 سے پہلے نہیں تھیں۔ 1970 میں یہ نشستیں تخلیق کی گئی۔ لیکن اس کے بعد نقصان یہ ہوا کہ آزاد کشمیر کی عوام جب اپنے ووٹ سے حکومت کو منتخب کرتے ہیں تو یہ 12 نمائندے پولیٹیکل گیم کو تبدیل کر دیتے ہیں۔
2025 میں حکومت پاکستان کے نمائندوں ، آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی میں سہ فریقی معائدہ کے معاہدہ طے پایا کہ اگلے سال سے یہ نشستیں ختم کر دی جائیں لیکن اب پاکستان اور آزاد کشمیر کے چند سیاسی رہنما مستقبل قریب کے انتخابات میں اپنے ذاتی فائدے کے لیے معاہدے سے انحراف کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات عیاں ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے اس مسئلہ کو مذاکرات سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر غیر سیاسی قوتوں نے اختیارات کو ہی محدود رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ بھی بے بس نظر آتے ہیں۔
عوام نے اس پر احتجاج کیا ہے تو عوام پر گولیاں برسادی گئی ہیں۔ 20 سے زیادہ لوگ فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ھو گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت جن کے سروں کی گورنمنٹ نے قیمتیں لگائی ہیں، یہ کوئی بہت بڑے لوگ نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بک شاپ کا مالک ہے تو کسی کی دکان، کوئی بیکری کا مالک ہے تو کوئی وکیل۔ اور آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں سے تیس لوگ ہیں۔ جنہوں نے پچھلے تین سال میں دن رات محنت کر کہ عوام کو نہ صرف اپنی نیت کی سچائی اور قابلیت کا یقین دلایا بلکہ عوام کو ان کی اصلی طاقت سے بھی روشناس کرایا۔ اب عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ وہ عوام کے بنیادی حقوق کی خاطر نکلے ہیں۔
یہاں کی عوام متحد ہے اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے کسی بھی مصلحت سازی کا شکار ہونے کے لیے تیار نہیں۔
آزاد کشمیر کی عوام کا یہ سیاسی حق ہے کہ وہ اپنی حکومت سے اپنے مطالبات کو احتجاج کے ذریعے منوا سکتے ہیں۔ ان سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اپنے حقوق مانگ سکتےہیں۔
لیکن ریاست کا ان کی بات سننے ، مطالبات ماننے اور عوام سے کئے معاہدے پر عمل درآمد کرنے کی بجائے تشدد کار استہ اپنانا اور پاکستان سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عوام کے سامنے لا کر کھڑا کرنا کسی صورت میں نہ سیاسی رویے کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی اس سے مقامی سیاسی قیادت کی صلاحیتوں کو اچھی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے بلکہ یہ کسی بھی صورت منصفانہ نہیں ہے۔
واپس کریں