دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز میں وفاقی حکومت کا تیسرا اور متوازن قومی بجٹ۔
No image وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقدہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ روز 18 ہزار 771 ارب روپے کے حجم پر مشتمل قومی بجٹ پیش کر دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا، اور ارکانِ اسمبلی بشمول اپوزیشن ارکان اجلاس میں موجود تھے۔ اپوزیشن ارکان نے وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی شور شرابا اور دھکم پیل سے ہاؤس کو مچھلی منڈی بنائے رکھا اور سرکاری بنچوں پر موجود ارکان سے گتھم گتھا ہوتے رہے۔ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی ارکان نے وزیراعظم کے گرد حفاظتی حصار بنائے رکھا جبکہ سکیورٹی اہلکار اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے دوران گتھم گتھا ہوئے اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں بیچ بچاؤ کراتے رہے۔ اپوزیشن ارکان بجٹ دستاویز کے اوراق پھاڑ پھاڑ کر وزیراعظم اور وزیرخزانہ کی جانب پھینکتے رہے تاہم وزیرخزانہ نے اپوزیشن کے سخت شور شرابا کے باوجود اپنی تقریر جاری رکھی۔ ان کی تقریر کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں کامیابی کے ساتھ ہاؤس میں بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی۔ ان کے پیش کردہ 27-2026ء کے بجٹ میں 7020 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ محصولات کی وصولی کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں 150 ارب روپے کے نئے ریونیو اقدامات بھی شامل ہیں۔ مجوزہ بجٹ میں سرکاری ملازمین اور کم تنخواہ والے طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافہ اور کم تنخواہ والے ملازمین کی کم از کم تنخواہ میں دس فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے اور انہیں ٹیکس میں بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ بجٹ میں بڑی گاڑیوں اور درجنوں ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے یہ اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ فائلرز کے لیئے جائیداد منتقلی پر محصول کی شرح کم کی گئی ہے اور سولر پینل پر عائد ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا اور ڈاکٹرز، انجینئرز اور پروفیشنلز کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے۔ بجٹ میں صنعتی ترقی کے لیئے 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والی بلٹ پروف گاڑیوں کی درامد پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے۔ وفاع کے لیئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کی معرکہ حق میں کامیابی کے بعد نئے درپیش چیلنجز سے عہدہ براء ہونے کے لیئے ضرورت تھی تاکہ افواج پاکستان کو حالات کے تقاضوں کے مطابق جنگی دفاعی سازوسامان سے لیس کیا جا سکے۔ بجٹ میں ایوان صدر کے لیئے دو ارب روپے اور وزیراعظم پبلک آفس کے لیئے 92 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ کھیلوں کے منصوبوں کے لئے 18 ارب 51 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ وزیرخزانہ کی پیش کردہ بجٹ دستاویز کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لئے 71 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ میں اگلے سال مہمند ڈیم پر 22 ارب روپے، داسو ڈیم پر 15 ارب روپے اور دیامیر بھاشا ڈیم پر 14 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ جبکہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لئے بجٹ میں 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آئیندہ مالی سال میں اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیئے 8 ہزار 54 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ بجٹ میں پنشنز کے لیئے 1169 ارب روپے مختص ہوئے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم پر46 ارب روپےاور صحت کے منصوبوں پر25 ارب10 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ بجٹ میں آزاد کشمیر کے لئے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لئے88 ارب روپے اور ضم شدہ احلاع کے لیئے95 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔ یہ بجٹ فی الواقع ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان کو ایک طرف داخلی معاشی مشکلات، مہنگائی، قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی خسارے جیسے مسائل کا سامنا ہے اور دوسری طرف خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور قومی دفاع کے تقاضے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسی تناظر میں اپنی حکومت کے پیش کردہ تیسرے بجٹ کو شاندار بجٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے باوجود آج ملکی معیشت مستحکم ہے اور موجودہ بجٹ کے ساتھ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور یہ بجٹ ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ اپوزیشن نے اسے عوام دشمن اور آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے مجوزہ بجٹ کے چیدہ چیدہ نکات مندرجہ زیل ہیں
محصولات کے اہداف اور مالیاتی نظم و ضبط۔
بجٹ میں محصولات کی وصولی کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ 150 ارب روپے کے نئے ریونیو اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بجٹ خسارہ 7020 ارب روپے ظاہر کیا گیا ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کو اب بھی اخراجات اور آمدنی کے مابین ایک بڑے فرق کا سامنا ہے۔ اگرچہ مالیاتی نظم و ضبط کے لیے حکومت کی کوششیں قابل ذکر ہیں، تاہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے اور معیشت کو دستاویزی شکل دیے بغیر محصولات کے یہ بلند اہداف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پاکستان میں طویل عرصے سے تنخواہ دار طبقہ اور محدود تعداد میں رجسٹرڈ کاروبار ٹیکسوں کا اصل بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ معیشت کے کئی شعبے اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو مزید منصفانہ بنایا جائے تاکہ قومی آمدنی میں اضافہ بھی ہو اور عوام پر اضافی بوجھ بھی نہ پڑے۔تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور مہنگائی کا دباؤ۔
بجٹ میں کم تنخواہ والے طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے اور کم از کم اجرت میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات عوامی ریلیف کی جانب مثبت پیش رفت ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی کے تناظر میں یہ اضافہ کافی ثابت ہوگا؟
گزشتہ چند برسوں میں اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سرکاری ملازمین اور کم آمدنی والے طبقات کو حقیقی معنوں میں ریلیف تبھی مل سکتا ہے جب مہنگائی کی رفتار کو بھی قابو میں رکھا جائے۔ اگر قیمتوں میں اضافہ برقرار رہتا ہے تو تنخواہوں اور اجرتوں میں معمولی اضافہ اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔
دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی۔
بجٹ میں دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی، سرحدی خطرات اور دہشت گردی کے مسلسل چیلنجز کے تناظر میں قومی دفاع کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ بے شک معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد ملک کو نئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے چنانچہ افواج پاکستان کو جدید جنگی سازوسامان سے لیس رکھنا قومی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والی بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ قومی سلامتی ہر ریاست کی اولین ترجیح ہوتی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دفاعی اخراجات اور ترقیاتی ضروریات کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ معاشی ترقی کا سفر بھی متاثر نہ ہو۔
ترقیاتی منصوبے اور مستقبل کی معیشت۔
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو حکومت کے ترقیاتی وژن کا اہم حصہ ہے۔ مہمند ڈیم، داسو ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ زرعی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کریں گے۔
اسی طرح وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔ ملک میں آبادی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔
سماجی تحفظ اور کمزور طبقات۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈ میں 17 فیصد اضافہ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشی مشکلات کے شکار طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ غربت اور بے روزگاری کے موجودہ حالات میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک میں غربت کی شرح اب بھی تشویشناک سطح پر موجود ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سماجی بہبود کے منصوبوں کو صرف مالی امداد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں تعلیم، صحت اور ہنرمندی کے پروگراموں کے ساتھ بھی جوڑا جائے تاکہ مستحق افراد مستقل بنیادوں پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
تعلیم، صحت اور انسانی ترقی۔
بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور صحت کے شعبے کے لیے 25 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ رقوم اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن انسانی ترقی کے عالمی اشاریوں کو سامنے رکھا جائے تو تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مزید وسائل درکار ہیں۔
کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی کا دارومدار انسانی سرمایہ پر ہوتا ہے۔ اگر تعلیمی ادارے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں، تحقیق کو فروغ دیا جائے اور صحت کی بنیادی سہولتیں عام آدمی کی دسترس میں ہوں تو معاشی ترقی کے ثمرات زیادہ پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت کو آئندہ برسوں میں ان شعبوں پر مزید توجہ دینا ہوگی۔
قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا بھاری بوجھ۔
بجٹ کی سب سے تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ آئندہ مالی سال میں سود کی ادائیگی پر 8 ہزار 54 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ سود کی ادائیگیوں کی یہ خطیر رقم اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے قرضوں کی واپسی پر صرف ہو رہا ہے۔
جب تک قومی آمدنی میں نمایاں اضافہ، برآمدات میں وسعت اور غیر ضروری اخراجات میں کمی نہیں لائی جاتی، قرض کے اس دباؤ سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین طویل المدتی اصلاحات پر زور دیتے ہیں تاکہ ملک کو قرضوں کے گھن چکر سے نجات دلائی جا سکے۔
سیاسی ماحول اور پارلیمانی رویے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی، دستاویزات پھاڑنے اور ایک دوسرے پر پھینکنے جیسے مناظر افسوسناک رہے۔ قومی اسمبلی ملک کا سب سے اہم منتخب جمہوری فورم ہے جہاں قومی معاملات پر سنجیدہ اور مدلل بحث ہونی چاہیے۔
اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن احتجاج اور شور شرابے کی ایسی صورتیں پارلیمانی روایات اور عوامی توقعات کے منافی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ قومی مفاد کے معاملات پر سنجیدگی، برداشت اور مکالمے کی روایت کو فروغ دیں۔
عوامی توقعات اور حکومت کی ذمہ داری۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تمام چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معاشی پہیہ مزید تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا۔ بجٹ کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی بھی عوام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
تاہم عوام کی اصل توقع یہ ہے کہ مہنگائی میں واضح کمی آئے، روزگار کے مواقع بڑھیں، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور عام آدمی کی قوت خرید بہتر ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف بجٹ اعلانات کافی نہیں بلکہ مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔
غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی وقت کی ضرورت۔
یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کو آج بھی مالی وسائل کی کمی، قرضوں کے بوجھ اور محدود ٹیکس بنیاد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر غیر ترقیاتی سرکاری اخراجات میں کمی لائی جائے، مراعات یافتہ طبقات کے لیے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جائے تو عوامی فلاح کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔
یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملکی معیشت کو استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے۔ حکومت نے بعض اہم شعبوں میں متوازن اقدامات اٹھانے کی کوشش کی ہے، تاہم اس بجٹ کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ، مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور عوامی ریلیف کے وعدوں کی عملی تکمیل پر ہوگا۔ قوم کی نظریں اب بجٹ اعلانات کے بعد ان کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ بجٹ کے منظور اور لاگو ہونے کے بعد عوام کو ریلیف ملتا محسوس ہوگا تو اپوزیشن کے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود یہ بجٹ عوام کے تمام طبقات کے لیئے قابلِ قبول ہو جا ئے گا۔
واپس کریں