دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مقبوضہ کشمیر کی آزادی بمقابلہ اندرونی سیاسی تنازع
No image آذاد کشمیر اور پاکستانی سیاست دانوں کو اپنی شہ رگ اور روح مقبوضہ جموں و کشمیر کی آذادی کے لیئے جدوجہد کرنی چاہیئے تھی جو کسی طور بھی نہیں کی جا رہی بلکہ الٹا مہاجرین کی بارہ سیٹوں کا جھگڑا کر دیا گیا ہے،یعنی کرنا کیا چاہیئے تھا اور تماشہ کیا لگایا ہوا ہے۔
پاکستانی اشٹبلشمنٹ اور آذاد کشمیر کے سیاست دانوں کے نزدیک کشمیر کا بنیادی مسئلہ، بھارت کے زیر تسلط اور زیر قبضہ مقبو ضہ جموں و کشمیر کی آزادی، حقِ خود ارادیت اور انسانی حقوق کی جدوجہد ہونا چاہیے تھا لیکن افسوس ناک بلکہ شرم ناک حالات یہ ہیں کہ پاکستانی اور آزاد کشمیر کے سیاست دانوں کی توجہ آذاد کشمیر کی اندرونی سیاسی لڑائیوں، آئینی تنازعات اور اقتدار کی بندر بانٹ والی سیاست بازی پر مرکوز ہے۔ اس کی تازہ مثال آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجرین نشستوں کا جھگڑا ہے۔
اس ضمن میں حامیوں کا موقف ہے کہ یہ بارہ نشستیں مقبوضہ کشمیر سے بے گھر ہونے والوں کی نمائندگی، ریاست جموں و کشمیر کی وحدت اور کشمیر کاز کی علامت ہیں۔ یہ UN قراردادوں اور خود ارادیت کے حق کی یاد دلاتی ہیں۔ ان کے خاتمے کو کشمیر کاز پر حملہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ مخالفین مثلاً جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ یہ بارہ نشستیں آزاد کشمیر کے مقامی رہائشیوں کے حق رائے دہی پر شب خون ہیں۔ مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، کراچی، راولپنڈی وغیرہ میں رہتے ہیں، وہاں کے مسائل نہیں بھگتتے مگر آذاد کشمیر کی حکومت بنانے، گرانے اور پالیسیاں بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سیٹیں سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر معاہدے اور وفاقی کمیٹی بن چکی ہے۔ بارہ سیٹوں کایہ جھگڑا حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور اب تحریک آذادی کشمیر کے بیس کیمپ کا”مرکزی اور ضروری مسئلہ“ بن چکا ہے۔
سیاسی لیڈران کو کرنا کیا چاہیے تھا؟ کشمیر کے حوالے سے متحد اور قابل عمل خارجہ پالیسی بنائی جاتی، پاکستانی اور آذاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کاز پر ایک آواز ہوتیں، سفارتی سطح پر OIC، UN، اور دیگر عالمی فورمز پر بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی فوجی دباؤ، آبادیاتی تبدیلی اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار کی پابندیاں کو مستقل اجاگر کرتیں۔
اندرونی استحکام کے طور پر آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوامی مسائل،بجلی، سڑکیں، معیشت اور تعلیمی مسائل کو حل کر کے ایک مضبوط، پرامن اور خودمختار انتظامی ڈھانچہ قائم کرتیں جو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے مثال بنتا لیکن نہیں بلکہ اس کے برعکس تحریک آذاد کشمیر کے بیس کیمپ کو مکمل طور پر سیاسی اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے،جہاں اقتدار کے حصول کے لیئے سیاسی لیڈر باولے بنے ہوئے ہیں۔
2025 کی پاک بھارت جنگ (پہلگام تنازع) کے بعد کشمیر ایک بار پھر فلیش پوائنٹ بن کر سامنے آیا رہا، لیکن پاکستان اور آذاد کشمیر کی داخلی سیاست، انتخابات، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مستقل، مؤثر اور متحدہ کوشش نظر نہیں آئیں جبکہ دوسری جانب بھارت 2019 کے آرٹیکل 370 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی پوزیشن مضبوط کر چکا ہے۔
پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کی پاداش میں، بھارتی افواج کی جانب سے قتل کیئے جانے والے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی جھنڈے میں لپیٹ کر دفن ہونے والے کشمیریوں کی روحیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مائیں،بہنیں اور بھائی، جو ایک عرصے سے پاکستان کی عملی مدد سے اپنی آذادی کی راہ کو ممکن ہوتا دیکھ رہے تھے،ہماری اندرونی سیاست بازی، منافقت اور کشمیر کاز سے سرد مہری دیکھ کر اب مکمل مایوس ہو چکے ہیں گو کہ اس ضمن میں مایوسی سابق جنرل باجوہ اور عمران نیازی کے دورہ امریکہ کے فوری بعد ہی پیدا ہو گئی تھی جب پتہ چلا تھا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کی سودے بازی کر دی گئی ہے۔
آذاد کشمیر کے عوام کو چاہیے کہ اپنے سیاست دانوں سے ضرور پوچھیں کہ تم 12 نشستوں پر لڑ رہے ہو یا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے؟
واپس کریں