پشاور میں مبینہ طور پر پولیس کی نجی گاڑی کے استعمال، شہری پر تشدد اور ہوائی فائرنگ کا واقعہ، تحقیقات کا مطالبہ

پشاور (رپورٹ۔ خالد خان) پشاور میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک نجی گاڑی کے استعمال، ایک نوجوان کو زبردستی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش اور بعد ازاں رہائشی علاقے میں فائرنگ کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ شہریوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس رپورٹر کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار ایک نوجوان کو زبردستی ایک نجی گاڑی میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں اہلکار مبینہ طور پر نوجوان کو مار پیٹ اور گالی گلوچ کرتے ہوئے گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوران نوجوان کی قمیض پولیس اہلکاروں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے اور وہ خود کو چھڑا کر برہنہ بھاگ نکلتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق نوجوان کے فرار ہونے کے بعد اہلکاروں کی جانب سے رہائشی علاقے میں فائرنگ بھی کی گئی۔ واقعے کے وقت موقع پر بڑی تعداد میں شہری موجود تھے جنہوں نے تمام صورتحال کا مشاہدہ کیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آبادی والے علاقے میں فائرنگ سے انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا تھا اور ایسے اقدامات شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے ایک شہری نے اس رپورٹر کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا ہے کہ مذکورہ نجی گاڑی کو وہ اس سے قبل بھی مختلف مقامات پر دیکھ چکا ہے۔ اس کے مطابق پہلی مرتبہ اس نے زاہد مارکیٹ کے قریب اسی گاڑی کے ساتھ ایک واقعہ دیکھا جہاں ایک پولیس اہلکار ایک نوجوان کو تشدد اور گالیاں دیتے ہوئے گاڑی کی طرف لا رہا تھا۔
شہری کا مزید کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ اس نے بنگش مارکیٹ کے باہر اسی گاڑی میں ایک اے ایس آئی اور ایک کانسٹیبل کو دیکھا۔ اس کے مطابق جب اہلکار وہاں موجود افراد کے شناختی کارڈ چیک کر رہے تھے تو اس نے ان سے سوال کیا کہ نجی گاڑی میں سرکاری کارروائی کس قانون کے تحت کی جا رہی ہے اور اہلکار چہرے کیوں چھپا رہے ہیں۔ اس طرح تو پولیس کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد بھی شہریوں کا اغوا برائے تاوان کر سکتے ہیں۔ مراسلہ نگار کا دعویٰ ہے کہ اہلکار اس موقع پر بعض نوجوانوں کو اپنے ساتھ بھی لے گئے۔
شہری کے مطابق جب اس معاملے کو اعلیٰ پولیس حکام کے نوٹس میں لایا گیا تو حیات آباد پولیس نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود معلوم کر رہے ہیں کہ گاڑی میں موجود افراد کون تھے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ گاڑی دراصل مالِ مقدمہ کی سپرداری پر دی گئی گاڑی ہے، جسے قانون کے مطابق پولیس اہلکار سرکاری یا ذاتی استعمال میں نہیں لا سکتے کیونکہ یہ امانت کے طور پر سپردار کے پاس ہوتی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پشاور میں اس نوعیت کی متعدد سپرداری شدہ گاڑیاں مختلف پولیس یونٹس کے زیر استعمال ہیں۔
قانونی حلقوں کے مطابق مالِ مقدمہ کی سپرداری شدہ گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے واضح احکامات اور فیصلے موجود ہیں جن میں ایسی گاڑیوں کے پولیس استعمال کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس عمل سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم اس مخصوص گاڑی کے بارے میں پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، نجی گاڑی کے استعمال کی قانونی حیثیت کے تعین، رہائشی علاقے میں مبینہ فائرنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مالِ مقدمہ کی گاڑیوں کے استعمال سے متعلق الزامات کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس واقعے اور مذکورہ گاڑی کے استعمال سے متعلق پولیس کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
واپس کریں