دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیولین بالا دستی کا علمبردار کون؟
No image نواز شریف پاکستان کے تاریخ کے واحد سیاستدان ہیں جو تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کا تینوں مرتبہ اقتدار سے بے دخل کیا جانا، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا اور جلاوطنی کی اذیتیں سہنا، ان کے جمہوری ہونے اور ان کی جمہوری قربانیوں کا بڑا ثبوت ہے۔ تین مرتبہ عوام نے انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا اور ہر مرتبہ غیر منتخب طاقتوں (صدارت، فوج، عدلیہ) نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا، جو اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ نواز شریف عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے، نہ کہ کسی سازش، ڈیل یا پالش کر کے۔اگر نواز شریف اشٹبلشمنٹ کی جی حضوری اور بوٹ پالشی میں لگے رہتے تو تینوں مرتبہ اپنے اقتدار سے بے دخل نہ ہوتے بلکہ آج بھی اس ملک کے وزیر اعظم خود ہوتے۔
نواز شریف کی تین مرتبہ کی برطرفیاں بیرونی طاقتوں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اداروں کی کرپشن اور ٹکراؤ کا باعث بھی تھیں۔ پھر بھی، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مارشل لاء اور فوجی مداخلتیں عام رہی ہیں، ایک سیاستدان کا بار بار ووٹ کے ذریعے واپس آنا، اس کے اشٹبلشمنٹ مخالف ہونے، پاپولر اور جمہوری ہونے کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
نواز شریف کا تین مرتبہ اقتدار سے ہٹایا جانا، قید اور جلاوطنی ان کی عوامی حمایت کا ثبوت ہے۔ نواز شریف کی سیاسی کہانی، پاکستان میں سولین بالادستی اور ووٹ کی بالادستی کی لڑائی کی علامت ہے،جس کا ایک اور بڑا ثبوت سابق آمر پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کو عدالت میں چیلنج کرنا،اسے قانون کے کٹہرے میں لانا اور اسے منتقی انجام تک پہنچانا تھا اور یہی وجہ بنی کہ نواز شریف کو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں آر ٹی ایس کو بٹھا کر حکومت میں نہیں آنے دیا گیا۔یہی نہیں بلکہ آج بھی انہیں عملی طور پر حکومت چلانے سے دور رکھا گیا ہے لیکن سسٹم کے اندر ان کے بھائی اور بیٹی کی موجودگی،نواز شریف کے پاپولر ہونے کی کھلی دلیل ہے کیونکہ امر واقع یہی ہے کہ نواز شریف کی تصویر کے بغیر ان کی بیٹی اور بھائی بھی الیکشن نہیں جیت سکتے اور یہ حقیقت سسٹم میں موجود اس کے مخالفین بھی بخوبی جانتے ہیں اور سسٹم چلانا اشٹبلشمنٹ کی مجبوری تھی۔ اس ضمن میں اسلام آباد سے لندن جا کر کس کس نے نواز شریف کے پاوں نہیں پکڑے، ان سے معافی نہیں مانگی، یہ کسے معلوم نہیں۔
وقت نے یہ بار بار ثابت کیا ہے کہ نواز شریف ہی سول بالادستی کے علم بردار ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی بھی کسی ڈیکٹیٹر یا آمر کو”ڈیڈی“ نہیں کہا بلکہ ایک آمر کو فوجی بغاوت کے الزام میں عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا،جس کی سزا انہوں نے بھگتی اور بھگت رہے ہیں لیکن جھکے نہیں ہیں۔ سیولین بالا دستی کا علمبردار کون ٹہرا؟ اب یہ ثابت کرنا ضروری نہیں۔
نواز شریف کو غیر جمہوری اور غیر سیاسی سوچ رکھنے کے طعنے دینے والے بچے جمہوریئے اب اس بارے میں کہا کہیں گے کہ جو آج ان کے پارٹی چیئرمین نے کہا ہے کہ”ہم سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کریں گے“ کوئی جیالا اب کچھ بولے تو سہی۔
واپس کریں