دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نتیجہ ایک ہی جیسا نکلنا ہے۔
No image ”اڑان پاکستان“ والے تجربہ کاروں اور بنک ملازموں کی معاشی پالیسیوں کے طفیل ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیئے ماحول تباہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف والی پاکستان مسلم لیگ ن جو سرمایہ کار اور کاروباری طبقے کی پہچان تھی، کے موجودہ دور حکومت یعنی شہباز شریف والی ن لیگ کے اس دور میں مقامی کاروباری اور سرمایہ کار مایوس ہے جبکہ بڑی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہیں۔
”اڑان پاکستان“ کا بینک ملازم وزیر خزانہ تسلیم کرتا ہے کہ مہنگی توانائی، زیادہ ٹیکسز اور فرسودہ کاروباری ماڈلز مجبور کر تے ہیں کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہ سکے۔ ایف بی آر کے سخت گیر اور کاروبار کش اقدامت، ریگولیٹری مسائل، کم منافع، نا مناسب سیکورٹی اور تاجروں سے بھتہ خوری والا بزنس ماحول بڑی وجوہات ہیں۔ SECP کے مطابق 2022-2025 کے دوران”صرف“ 19 غیر ملکی کمپنیاں بند ہوئیں جبکہ اس ملک سے کتنا سرمایہ باہر فرار کروایا گیا؟ اس حقیقت کا اعتراف وفاقی وزیر داخلہ گزشتہ دنوں کراچی میں خود فرما چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آخر بہتر کاروباری ماحول اور پر کشش معاشی پالیسیاں، کوئی فرشتہ آسمانوں سے پاکستان میں اتر کر مرتب کرے گا کیا؟
اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ میں رد و بدل ہونے جا رہا ہے،جس میں ظاہر ہے کہ وزیر خزانہ کی تبدیلی سر فہرست ہو گی تا کہ عوام کے سامنے حکومت سمارٹ بن سکے ایک نالائق وزیر کو فارغ کر دیا گیا ہے لیکن فائدہ پھر بھی ہونے والا کیونکہ آئی ایم ایف کے زیر اثر وزیر خزانہ کون سی پالیسیاں عوام کی امنگوں کے مطابق مرتب کرتا ہے۔ اڑان پاکستان والے اپنے کان کو بے شک اِدھر سے پکڑیں یا اُدھر سے نتیجہ ایک ہی جیسا نکلنا ہے۔
واپس کریں