
تجربہ کاروں کے ہاتھوں ملکی معیشت کی تباہی کی ذمہ داری عمران نیازی کی حکومت پر ڈالی جاتی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ خود تجربہ کار ساڑھے تین سالوں سے حکومت میں کیا کر رہے ہیں؟کیا صرف ادھر ادھر سے قرضے مانگ کر،پٹرول لیوی،بجلی،گیس ٹیرف مہنگا بیچ کر اور عوام کی جیبوں پر مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ہاتھ صاف کرنے کا نام حکومت چلانا ہے؟؟؟بحرحال اب کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
بنیادی اور واحد مشکل ملکی اور غیر سرمایہ کاری کا نہ ہونا ہے اور ملکی سرمایہ کار کو باہر جانے سے بھی روکنا ہے۔ موجودہ حکومت یا سابقہ حکومتوں کی پے در پے بدلتی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کی بدولت چونکہ بزنس مین اور اس کا پیسہ سسٹم سے نکل چکا ہے،اسی لیئے مہنگائی،بے روزگاری،کاروباری مندی اور معاشی افراتفری اپنے عروج پر ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں،اس کے لیئے، تجربہ کار حکومت کو کاروباری اور تجارتی پالیسوں میں بہت بڑی نرمی لانی ہو گی۔لوگوں کے پاس پیسہ ہے لیکن وہ اسے باہر نکالنے میں ڈرتے ہیں، کاروبار کرنے سے ڈرتے ہیں کہ تجربہ کاروں اور سرکاری اداروں نے ڈرایا ہوا ہے۔ ایف بی آر اور متعلقہ ادارے بزنس مین پر ایسے پڑتے ہیں جیسے کسی نے کاروبار شروع کر کے کوئی جرم کر دیا ہو۔ملک کنگال اور قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، تجربہ کاردو نفل ادا کریں کہ کوئی نیک بخت سرمایہ کاری کرنے لگا ہے لیکن نہیں، اسے ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا کنگال حکومت سرمایہ کاروں پر کوئی بڑا احسان کر رہی ہو۔
پھر عرض کرتا ہوں کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیئے فری اکانومی(دبئی جیسی) جیسا ماحول فراہم کیا جائے،جس کے پاس جتنا پیسہ یا کالا دھن ہے وہ مارکیٹ میں لے آئے کم ا زکم دس سال کوئی اسے نہیں پوچھے گا،تا کہ پیسہ کنگال ہوئے مالی سسٹم میں آئے اور وینٹی لیٹر پر پڑی ہماری مردہ معیشت کو آکسیجن مل سکے۔
ناچیز کو ملک ریاض سے لینا دینا نہیں، بحریہ ٹاون کے ملک ریاض نے جو بھی کانڈھ کیا اس سے قطع نظر، اس ایک فرد کے سسٹم میں سے نکل جانے کے بعد رئیل اسٹیٹ کی پوری مارکیٹ ہی بیٹھ گئی۔ملک ریاض نے دبئی میں یہی پراپرٹی کا کاروبار شروع کر لیا،وہاں کی حکومت نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا،اسے دبئی کی شہریت بھی شائد دی لیکن اس کے ہمارے سسٹم میں سے نکل جانے سے پاکستان میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کاروباری افراد کا بھٹہ بیٹھ گیا اور جس سے یقیناریت،سیمنٹ،بجری،الیکٹرک، سریا انڈسٹری اور تعمیرات کے کام سے وابسطہ افراد کے کاروبار کو بھی شدید دھچکا لگا۔ ہمارے معاشی اور تجربہ کار سائنس دانوں کے لیئے یہ باتیں اسے یہاں سے فرار کرواتے وقت سوچنا ضروری تھیں۔
حالات یہ ہیں کہ ہمارے اسٹیٹ بینک کے پاس صرف 15 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر ہیں وہ بھی مانگے تانگے کہ جبکہ اگلے ایک سال میں 21 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہیں۔یعنی ملک کے خالص ذخائر منفی 6 ارب ڈالر پر جا چکے ہیں۔ یہ صرف معاشی کمزوری نہیں بلکہ تجربہ کاروں کی کھلی ناکامی اور بدترین مالی بدانتظامی کی مثال ہے۔
آخر میں عرض کروں گا کہ معیشت چلانا بینک ملازموں کا کام نہیں، پاکستانی معیشت کو لوکل بزنس مین ہی سمجھ اور اسے چلا سکتا ہے۔ اس لیئے تجربہ کار ملکی معیشت کی پالیسی سازی میں ملک کے نامور کاروباری طبقہ کو بھی نہ صرف شامل کریں بلکہ ان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیں۔
واپس کریں