
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک تنگ اور انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ جغرافیائی طور پر ایران، عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گھرا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی "شہ رگ" کہا جاتا ہے کیونکہ دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20 سے 25 فیصد خام تیل اسی راستے سے گزر کر پوری دنیا تک پہنچتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
خلیجی ممالک سے تیل اور قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات کے لیے یہ واحد سمندری راستہ ہے۔ اگر یہ راستہ کسی وجہ سے بند ہو جائے تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی اور دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اپنی مخصوص جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی طاقتوں (جیسے امریکہ اور چین) اور علاقائی طاقتوں (جیسے ایران اور سعودی عرب) کے لیے انتہائی حساس ہے۔ اس راستے پر کنٹرول رکھنے کا مطلب عالمی توانائی کی سپلائی لائن پر اثر و رسوخ رکھنا ہے۔
تیل کے علاوہ، مشرق وسطیٰ کی جانب سے ہونے والی دیگر تمام بڑی تجارتی اشیاء کی نقل و حمل بھی اسی راستے سے ہوتی ہے، جو اسے بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بناتی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس راستے سے سالانہ 600 ارب ڈالرز ($600 Billion)سے زائد کی توانائی (تیل اور گیس) کی تجارت ہوتی ہے۔ اگر دیگر تجارتی سامان کو بھی شامل کیا جائے تو یہ مالیت 1.5 سے 2 ٹریلین ڈالرز تک جا پہنچتی ہے۔
اگر آپ کو میری انفارمیشن پسند آئی ہے تو جا کر گوگل کو لائک کریں کیونکہ میں نے بھی وہاں سے ہی پڑھا ہے۔
واپس کریں