دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اذان اور اقامت پر مسجد میں فائرنگ، نوشہرہ ایک بار پھر مذہبی تنازعے کی لپیٹ میں
No image خالد خان۔ ( نوشہرہ) ترقی کے میدان میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے، انسان مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، جدید طب اور سائنسی ایجادات کے ذریعے نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے تنازعات جنم لے رہے ہیں جو جہالت، عدم برداشت اور تنگ نظری کی بدترین مثال بن چکے ہیں۔ ضلع نوشہرہ کی تحصیل پبی کے علاقے “ڈاگ بیسود” میں واقع ایک مسجد میں اذان اور اقامت کے معاملے پر ہونے والی خونریز جھڑپ نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بروز جمعۃ المبارک، 29 مئی 2026ء، عیدالاضحیٰ کے تیسرے روز مسجد میں دو فریقین کے درمیان اُس وقت شدید تنازعہ پیدا ہو گیا جب اذان اور اقامت دینے کے معاملے پر اختلاف شدت اختیار کر گیا۔ ابتدا میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، ماحول کشیدہ ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی افراد کے مطابق یہ تنازعہ آج کا نہیں بلکہ کئی برس پرانا ہے۔ سن 2014ء میں بھی اسی معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان شدید جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد علاقے کے مشران نے جرگہ منعقد کیا تھا۔ اُس وقت جرگے نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک فریق اذان دے گا جبکہ دوسرا فریق اقامت کہے گا تاکہ مسجد میں امن قائم رہے اور مزید تصادم سے بچا جا سکے۔ کچھ عرصہ تک یہ فیصلہ چلتا رہا لیکن حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر اختلافات شدت اختیار کر گئے اور معاملہ خونریزی تک جا پہنچا۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مقامی عمائدین اور انتظامیہ نے مزید کشیدگی روکنے کے لیے مسجد کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مسجد کو تالے لگا دیے گئے ہیں اور اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ دو روز تک مسجد بند رہے گی۔ اب دوبارہ جرگہ طلب کیے جانے کا امکان ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ مسجد کب کھولی جائے گی اور دونوں فریقین کے درمیان مستقل بنیادوں پر تنازعہ کس طرح حل کیا جائے گا۔
علاقے کے سنجیدہ حلقوں نے اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہیں امن، اتحاد، برداشت اور بھائی چارے کی علامت ہونی چاہئیں، مگر بدقسمتی سے بعض مقامات پر مساجد بھی ذاتی انا، گروہی بالادستی اور مقامی اثر و رسوخ کی جنگ کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بعض لوگ مسجد کے معاملات کو اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نہ اذان دینے دیتے ہیں اور نہ ہی اقامت کہنے کی اجازت دیتے ہیں۔
سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس واقعے کو پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علما، مشران اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر سنجیدہ کردار ادا کریں تاکہ مساجد کو اختلاف، نفرت اور تصادم کے بجائے اتحاد، اصلاح اور دینی اخوت کا حقیقی مرکز بنایا جا سکے۔
واپس کریں