دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آزادکشمیر: لوکل اتھارٹی یا پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت؟
No image ( تحریر، خواجہ کاشف میر ) نامور قانون دان راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ سمیت دیگر کئی دانشوروں کا یہ مؤقف کہ چونکہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974ء اور پاکستان کے آئین نےاس آزاد خطے کو محض ایک انتظامی یا لوکل اتھارٹی کی حیثیت دی ہے اور اسے مسئلہ کشمیر، ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت یا اس کی منقسم اکائیوں کی نمائندگی کے حوالے سے کوئی مؤثر آئینی کردار نہیں دیا لہذا اس آئینی سقم کو ٹھیک کرنے کی بجائے اس خطے کو لوکل اتھارٹی کے طور پر ہی تسلیم کرتے ہوئے لوکل اتھارٹی کے ہی تمام حقوق لیے جائیں اور یہ حتمی نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ اس خطے کے رہنے والے تمام کشمیری اپنا سیاسی، قومی اور تاریخی کردار اسی محدود دائرے میں قید کر لیں، میرے نزدیک یہ موقف نہ دانشمندی ہےاور نہ ہی یہ کشمیری عوام کےتاریخی مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔
اگر ہم اس منطق کو تسلیم کر لیں تو پھر آزاد جموں کشمیر کے ایکٹ 74ء کی طرح پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بھی آزاد جموں و کشمیر کو مسئلہ کشمیر اور ریاست کی منقسم اکائیوں کے حوالے سے جو محدود انتظامی حیثیت دی گئی ہے، اسے بھی کیا حرفِ آخر مان لینا چاہیے؟ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قومیں ایسی آئینی پابندیوں کو تقدیر نہیں سمجھتیں بلکہ اپنے تاریخی حقوق اور سیاسی تشخص کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی ہیں۔
اس تنازعے اوراسکے حل کی سمت کا ادراک کے ایچ خورشید نے کئی دہائیاں پہلے کر لیا تھا۔ ان کا وژن یہ نہیں تھا کہ آزادکشمیر کو ایک محدود انتظامی خطے کے طور پر قبول کر لیا جائے، بلکہ وہ مظفرآباد حکومت کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ اور تسلیم شدہ حکومت کے طور پر منوانا چاہتے تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پاکستان کی اس وقت کی سیاسی و مقتدرہ کی قیادت کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ آزاد کشمیر کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کی راہ ہموار کی جائے اور مختلف ممالک میں اس کے سفارتی مشنز اور سفارت خانے قائم کیے جائیں۔
اس وقت پاکستانی حکومت کی سفارتی کوششوں سے دنیا کے29 ممالک آزادکشمیر کو ریاست جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکے تھے اور اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کے امکانات روشن تھے۔ تاہم پاکستان کے اندر سیاسی حالات تبدیل ہو گئے، ترجیحات بدل گئیں اور یہ تاریخی مشن ادھورا رہ گیا۔ آج بھی وہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ کیا ہم اس ادھورے مشن کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا اس سے مسلسل دور ہوتے جا رہے ہیں؟
آج ہم عوامی سطح پر نہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر کی مقتدرہ کی طرف سے بنائے گئے ایکٹ 1974ء کی ان حدود کو قبول کرتے جا رہے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ اس سوچ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے کہ 'آزادکشمیر' کا ریاست جموں و کشمیر کی دیگر اکائیوں،بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور بیرونِ ریاست کشمیریوں کے اجتماعی سیاسی مستقبل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ طرزِ فکر دراصل ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت کے تصور کو کمزور کرنے اور کشمیریوں کے اجتماعی مقدمے کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کے ایچ خورشید جیسے رہنما اس خطے کی محدود انتظامی حکومت کو پوری ریاست جموں و کشمیرکی نمائندہ حکومت کادرجہ دلوانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو پھر آج ہم اپنے سیاسی کردار کو مزید محدود کرنے کی راہ پر کیوں گامزن ہیں؟ ہمیں تو اس جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے آزادکشمیر کی آئینی اور سیاسی حیثیت کو وسعت دینی تھی، نہ کہ اسے مزید سکڑنے دینا تھا۔ آخر ہم اپنےقومی مقدمے کو کیوں محدود کر رہے ہیں؟
جہاں تک عوام کوبنیادی حقوق،سستی بجلی، تعلیم، صحت، روزگار، میرٹ اور انصاف کی فراہمی کی تحریکوں کا تعلق ہے تو ان سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ یہ عوام کے جائز اور بنیادی حقوق ہیں اور ان کے حصول کے لیے ہر سطح پر جدوجہد ہونی چاہیے لیکن اگر عوامی مسائل کے حل کے نام پر ہم ریاست جموں و کشمیر کے تاریخی تنازعے، حقِ خودارادیت کے مقدمے اور ایکٹ 1974ء میں طاقتور حلقوں اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے عائد کردہ آئینی پابندیوں کوعوامی سطح پر قبول کر کے انہیں مزید مضبوط کرنے لگ جائیں تو یہ ایک ایسی سیاسی غلطی ہوگی جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
کشمیریوں کی جدوجہد صرف بہتر گورننس یا مقامی انتظامی اختیارات تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک تاریخی، سیاسی اور قومی جدوجہد ہے جس کا تعلق پوری ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل سے ہے۔ اس لیے مقامی حقوق کی تحریک اور قومی مقدمے کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہی وہ راستہ ہے جو تاریخ، سیاست اور قومی مفاد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
واپس کریں