دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاست، طاقت اور عوام — پاکستان آخر کس کے لیے ہے؟
No image پشاور( رپورٹ، خالد خان) پاکستان کی تاریخ میں یہ سوال شاید سب سے زیادہ اہم، سب سے زیادہ حساس اور سب سے زیادہ نظرانداز کیا گیا سوال ہے کہ آخر ایک مضبوط پاکستان کس کے مفاد میں ہے؟ عوام کے، فوج کے، اشرافیہ کے یا صرف چند طاقتور حلقوں کے؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں سیاست، معیشت، جمہوریت، سلامتی اور اقتدار پر ہزاروں مضامین لکھے گئے، مگر اس بنیادی سوال پر کبھی کھل کر سنجیدہ قومی مکالمہ نہیں ہو سکا کہ اگر پاکستان کمزور ہوگا تو آخر فائدہ کس کو اور نقصان کس کو ہوگا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے عام شہری کو برسوں سے یہ احساس دلایا جاتا رہا کہ شاید ریاست اور عوام دو الگ چیزیں ہیں۔ ریاست طاقتور اداروں، ایوانوں، پالیسی سازوں اور بااثر طبقات کا نام ہے جبکہ عوام صرف قربانی دینے، ٹیکس بھرنے، مہنگائی برداشت کرنے اور بحرانوں میں صبر کرنے کے لیے موجود ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے پیدا کیے۔ جب ایک نوجوان بے روزگار ہو، ایک کسان قرضوں میں ڈوبا ہو، ایک مزدور بجلی کے بل سے خوفزدہ ہو اور ایک تنخواہ دار شہری ہر بجٹ میں مزید بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو تو پھر اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر یہ ملک اس کا بھی ہے یا نہیں۔
مگر یہاں سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ کمزور پاکستان شاید صرف عوام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک کمزور ریاست آخرکار سب کو کمزور کرتی ہے۔ جب معیشت لڑکھڑاتی ہے تو صرف غریب آدمی متاثر نہیں ہوتا بلکہ قومی دفاع، اداروں کی ساکھ، سرمایہ کاری، کاروبار، عالمی حیثیت اور داخلی استحکام سب خطرے میں آ جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی فوج صرف ہتھیاروں سے مضبوط نہیں رہتی۔ عسکری طاقت کی اصل بنیاد مضبوط معیشت، سائنسی ترقی، صنعتی پیداوار، تعلیم یافتہ آبادی اور ریاست پر عوامی اعتماد ہوتا ہے۔ اگر عوام مایوس، غصے میں اور معاشی طور پر ٹوٹ چکے ہوں تو پھر صرف طاقت کے ذریعے دیرپا استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
یہی حقیقت اشرافیہ کو بھی سمجھنا ہوگی۔ شاید وقتی طور پر طاقت، دولت اور اختیار چند ہاتھوں میں مرکوز رہ سکتا ہے، مگر ایک غیر مستحکم معاشرہ آخرکار کسی کو مکمل تحفظ نہیں دیتا۔ جب نوجوان ملک چھوڑنے لگیں، سرمایہ غیر محفوظ ہو جائے، اداروں پر اعتماد ختم ہونے لگے اور متوسط طبقہ ٹوٹنے لگے تو پھر ریاست اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں وہی ریاستیں دیرپا مضبوط بنیں جہاں طاقتور طبقوں نے اپنی بقا کو عوام کی خوشحالی کے ساتھ جوڑا، نہ کہ عوام کی کمزوری کے ساتھ۔
پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو عوامی فلاح کے بجائے طاقت کے توازن کا میدان بنا دیا۔ یہاں ترقی کے دعوے تو بہت ہوئے مگر انسان کی زندگی بہتر بنانے پر مسلسل توجہ نہ دی جا سکی۔ سڑکیں بنیں مگر سکول ویران رہے، منصوبے آئے مگر ہسپتال کمزور رہے، بڑے بڑے اعلانات ہوئے مگر عام آدمی کے دل میں تحفظ اور اعتماد پیدا نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک عام پاکستانی ریاست کو اپنا محافظ کم اور ایک طاقتور ڈھانچہ زیادہ محسوس کرتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں ایک نیا قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔ ایسا بیانیہ جس میں فوج اور عوام ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک ہی قومی مقصد کے شریک نظر آئیں۔ جہاں ریاست کی طاقت کا مطلب صرف کنٹرول نہ ہو بلکہ انصاف، تعلیم، روزگار، قانون کی برابری اور انسانی وقار بھی ہو۔ جہاں بجٹ صرف عالمی مالیاتی اداروں کو مطمئن کرنے کے لیے نہ بنے بلکہ اس مزدور، کسان، استاد، ڈاکٹر، صحافی اور نوجوان کے لیے بھی امید کا پیغام بنے جو اس ملک کی اصل طاقت ہے۔
یہ ملک صرف چند ایوانوں، چند خاندانوں یا چند طاقتور طبقات کا نہیں۔ یہ اس سپاہی کا بھی ہے جو سرحد پر کھڑا ہے، اس کسان کا بھی ہے جو کھیت میں پسینہ بہاتا ہے، اس مزدور کا بھی ہے جو شہر تعمیر کرتا ہے، اور اس نوجوان کا بھی ہے جو بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ اگر ریاست ان سب کو ساتھ لے کر چلے گی تو پاکستان ناقابلِ شکست بن سکتا ہے، مگر اگر طاقت اور وسائل کا دائرہ محدود ہاتھوں تک سکڑتا گیا تو پھر کمزور ہوتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی بے چینی اور ٹوٹتا ہوا سماجی اعتماد کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔
پاکستان کو اس وقت صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ ریاست کو عوام سے خوفزدہ ہونے کے بجائے عوام پر اعتماد کرنا ہوگا۔ طاقتور طبقات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام بوجھ نہیں بلکہ ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اور عوام کو بھی یہ جاننا ہوگا کہ ملک صرف نعروں سے نہیں بلکہ شعور، سوال، محنت، دیانت اور مسلسل جدوجہد سے مضبوط بنتا ہے۔
شاید یہی وہ سچ ہے جسے اس ملک میں سب جانتے ہیں مگر کھل کر بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ ایک مضبوط پاکستان دراصل سب کے حق میں ہے، جبکہ ایک کمزور پاکستان آخرکار کسی کے حق میں نہیں رہتا۔
واپس کریں