بدلتا عالمی نظام: کیا یورپ اپنی نئی سمت کا فیصلہ کرے گا؟آغا عبدالستار

سرد جنگ سے لے کر حالیہ برسوں تک یورپ نے کم و بیش ہمیشہ امریکی مفادات کا خیال رکھا، لیکن اب امریکہ یورپی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے واضح ہے کہ امریکہ نے کئی معاملات میں یورپ کے مفادات کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ انہیں نقصان بھی پہنچایا۔
یورپ سرد جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی رہا اور واشنگٹن سے مل کر عالمی قوانین پر مبنی ایک نیا عالمی نظام بنایا۔
اپنے پہلے دور صدارت میں صدر ٹرمپ نے کچھ یورپی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔
انہوں نے یورپی ممالک پر دباؤ ڈال کر انہیں مجبور کیا کہ وہ روس سے گیس اور دیگر اشیا کی خریداری کم کریں۔
اور پھر یورپ کو امریکہ سے سالانہ ڈھائی سو ارب ڈالرز کی توانائی خریدنے کا معاہدہ کرنا پڑا، جو کسی طور پر روسی توانائی کے ذرائع سے سستا نہیں۔
اسی طرح صدر ٹرمپ نے نیٹو کی رکنیت رکھنے والے یورپی ممالک کو اپنا دفاعی بجٹ بڑھانے پر مجبور کیا، جس سے لاک ہیڈ مارٹن سمیت کئی ہتھیار ساز امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے پہلے اور موجودہ دور اقتدار میں ایسی یورپی جماعتوں کی حمایت کی گئی جن پر نسل پرستی کا الزام ہے۔
انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ایسی حمایت ایک ایسے خطے میں کی جا رہی ہے جہاں نسل پرستی کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ میں لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
ایسی جماعتوں کی طاقت یورپی معاشرے کو انتشار اور شیرازہ بندی سے دوچار کر سکتی ہے لیکن امریکہ کو اس کی کوئی فکر نہیں۔
صدر اوباما کے دور میں یورپ اور امریکی انتظامیہ نے روس اور چین کے تعاون سے ایران کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے معاہدہ کیا۔
اس معاہدے سے یورپ کو موقع ملا کہ وہ عالمی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیت دکھائے اور ایران کا بھی یورپی یونین پر کسی حد تک اعتماد بڑھا۔
تاہم ٹرمپ کی اس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی نے یورپ کی عالمی قائدانہ صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔
اس سے ایران اور ترقی پذیر ممالک میں تاثر گیا کہ امریکی طاقت کے سامنے یورپی رہنماؤں کی کوئی حیثیت نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں فلسطین کے مسئلے پر بھی یورپ نے امریکہ کے ساتھ مل کر اوسلو کا معاہدہ کروایا، لیکن صدر ٹرمپ کے پہلے اور دوسرے ادوار میں دو ریاستی نظریے کو شدید دھچکا لگا اور اس سے بھی یورپ کی عالمی قائدانہ صلاحیت پر شدید سوالات اٹھے۔
ایران پر جنگ چھیڑنے سے پہلے صدر ٹرمپ اور امریکہ کو بخوبی علم تھا کہ اس جنگ سے یورپ کو ممکنہ طور پر بہت دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ جہاں امریکہ نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر کے اپنے توانائی کے وسائل میں بے انتہا اضافہ کر لیا تھا، وہاں یورپ میں اس طرح کی کوئی صورتحال نہیں تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے خود ہی یورپ کی معیشت کے ایک بڑے حصے، جو کوئلے پر انحصار کرتی تھی، کو تیل پر منتقل کیا، جس سے تیل کی بڑی امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا۔
اس تیل کی فراہمی کا ایک بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے آتا ہے جو آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔
ٹرمپ کو خبردار کیا گیا تھا کہ جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، لیکن ٹرمپ نے ایسی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
انہوں نے ایک طریقے سے یورپ کے خلاف تحقیر آمیز انداز میں کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ کہ اگر یورپ چاہتا ہے تو اسے وہ خود کھلوائے۔
امریکہ نے نیٹو کو بھی کاغذ کا شیر قرار دیا اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کی۔یہ دلچسپ بات ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد صرف ایک مرتبہ نیٹو نے باہمی دفاعی معاہدے کی شق نمبر پانچ کا استعمال کیا اور وہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کے مفادات کے لیے کیا گیا، جب واشنگٹن افغانستان پر حملہ کرنا چاہتا تھا اور اسے نیٹو کی ضرورت تھی۔
نیٹو نے وہاں فوجی بھیج کر جانی اور مالی دونوں طرح کی قربانی دی۔
یورپی مفادات کو نقصان صرف انہی بنیادوں پر نہیں پہنچایا گیا بلکہ ٹیرف کی تلوار سے بھی یورپی معیشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے اثرات اب یورپی معاشروں میں دائیں بازو کی نسل پرست قوتوں کے عروج کی شکل میں آ رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ یورپ کے مفادات کو نقصان پہنچا کر صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے تو کیا یورپ کو اپنے معاشی، عسکری اور دیگر نوعیت کے مفادات کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرنی چاہیے؟
امریکہ کے پاس چھ ہزار سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور یوں یورپ عسکری طور پر کسی طرح بھی امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
یورپ کی دو جوہری طاقتوں برطانیہ اور فرانس کے پاس 1200 سے بھی کم جوہری ہتھیار ہیں جبکہ امریکہ کے مقابلے میں ان کی فوج کی تعداد بہت کم ہے۔
تاہم اگر یورپ ماضی کے اختلافات کو بھلا کر سات ہزار سے زائد جوہری ہتھیار رکھنے والے روس اور چین سے تعلقات بہتر کرے تو عالمی نظام میں ایک نئے توازن کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔
یورپ نے اپنی تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے 100 سال کی جنگ لڑی لیکن آج وہ شیر و شکر ہیں۔
بالکل اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں صرف چھ ہفتوں میں جرمنی نے فرانس پر قبضہ کیا اور ملک کی تباہی میں اپنا حصہ ڈالا۔
تاہم آج دونوں ہی یورپی یونین کے قائدین ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یورپی ممالک اگر 30 سال کی مذہبی جنگ، دو عالمگیر جنگیں اور یورپ میں ہونے والے بے شمار تصادموں کی تاریخ کو فراموش کر کے دوست بن سکتے ہیں تو پھر روس، جو ان کا پڑوسی ملک ہے، اس سے تعلقات بہتر کیوں نہیں کر سکتے؟
اگر یورپ یوکرین کو نیٹو کا حصہ نہ بنانے کا عندیہ دے تو باہمی اعتماد کی طرف یہ پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
روس کے ساتھ جنگ نہ چھیڑنے کا معاہدہ بھی اعتماد کی ایک سیڑھی ثابت ہو سکتا ہے۔
روس سے بہتر تعلقات کی صورت میں یورپ کو نہ صرف سستی توانائی کے ذرائع میسر آئیں گے بلکہ یوکرین میں امن کی وجہ سے بہت سستی زرعی اجناس بھی یورپی شہریوں کی دسترس میں ہوں گی۔
اس سے یورپ میں مہنگائی کم ہو گی اور نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے سرطان کو روکنے میں بھی کسی حد تک معاونت ہوگی۔
یورپ نے ماحول دوست توانائی کے ذرائع میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن ٹرمپ چاہتا ہے کہ یورپ اسے منسوخ کر کے تیل اور دیگر ماحول دشمن ذرائع کی طرف جائے۔
تاہم چین اس وقت شمسی توانائی اور برقی گاڑیوں میں دنیا کے قائد کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس لیے چین اور یورپ کے مفادات میں یکسوئی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپ اس حوالے سے پیش قدمی کرے کیونکہ امریکی دباؤ میں آ کر یورپ نے ہی سب سے پہلے چینی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں۔
اگر یورپ چین اور روس کو ساتھ ملا کر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتا ہے تو نہ صرف وہ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دینے میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ اس میں وہ روس اور چین کے ساتھ ایک قائد کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
اس سے پہلے کہ امریکہ یورپی مفادات کو ناقابل تلافی حد تک نقصان پہنچائے، یورپ کو جلد یا بدیر فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسا عالمی نظام چاہتا ہے یا نہیں۔
بشکریہ۔ انڈپینڈنٹ اردو
واپس کریں