دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلام آباد مذاکرات کو پاکستان ملکی معیشت سنوارنے کے لیئے بروئے کار لا سکتا ہے۔
No image پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی سفارتی کاوشوں سے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست مذاکرات کا بھی آغاز ہو گیا ہے جبکہ پاکستان کی اسی سفارت کاری کی بنیاد پر اسرائیل اور لبنان بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں اور ایران اور سعودی عرب کے مابین بھی رابطے بحال ہو گئے ہیں جس سے پائیدار علاقائی اور عالمی امن کے قوی آثار ہیدا ہوتے نظر آرہے ہیں۔ چنانچہ آج پاکستان اندرونی استحکام اور خارجہ تعلقات کی بہترین حکمتِ عملی کے نتیجہ میں اقوام عالم کی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے اور اس کے دشمن بھی اس کی خدا داد صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی تناظر میں گذشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ دوران ملاقات دونوں قائدین نے تمام فریقین کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو سراہا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیئے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ثالثی کے لیئے اپنی کوششوں پر فریقین کے مثبت ردعمل اور ان کے مابین اسلام آباد میں شروع ہونے والے تاریخی مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے فریقین پر جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیتےہوئے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان دونوں فریقین کو پر امن مذاکراتی حل تک پہنچنے کے لیئے مکمل تعاون اور سہولت فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ لبنان پر اسرائیلی حملے رکوانے کے لیئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ خطے کے امن کے لیئے لبنان اور اسرائیل پر بھی جنگ بندی معاہدے کا اطلاق ہونا چاہیئے اور اسرائیل کو لبنان پر حملے فوری طور پر روک دینے چاہیئں۔ اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ لبنان پر جارحیت ختم کرکے مذاکرات بامعنی بنانا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لبنانی بھائیوں کو تنہاء نہیں چھوڑیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی لبنان کے حوالے سے پاکستان اور ایران کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرا کے لبنان اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کا آغاز کرایا جو بلا شبہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی ہی عکاسی ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اسرائیل نے ہاکستان کی سفارتی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والی جنگ بندی کو دل سے قبول نہیں کیا اور اس نے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیئے اسلام آباد مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی نہ صرف لبنان پر حملوں میں شدت پیدا کر دی بلکہ ایران پر بھی دوبارہ حملے کیئے جس کے ردعمل میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کرکے جنگ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا سخت پیغام دیا گیا۔ تاہم پاکستان کے سفارتی رابطوں کے نتیجہ میں ایران اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے پر آمادہ ہوا اور سعودی وزیر خارجہ کا بھی اپنے ہم منصب ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہو گیا۔ اس طرح اسرائیل کی برادر مسلم ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش بھی ناکام ہو گئی۔ اسلام آباد مذاکرات کے لیئے امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود مکمل پروٹوکول کے ساتھ گذشتہ شب اسلام آباد پہنچ گئے تھے جن کے لیئے اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں اور اس وقت اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے۔ اس حوالے سے خطے اور دنیا کے اہم تنازعات میں پاکستان کا کردار نہ صرف نمایاں ہو رہا ہے بلکہ اسے ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے عالمی قیادتوں بشمول فرانسیسی صدر، جرمن چانسلر، اطالوی اور لبنانی وزرائے اعظم، بحرینی فرمانروا اور صدر ترکیہ رجب طیب اردوان کے رابطے، مبارکبادیں اور اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے بھارت کی مسلط کردہ گذشتہ سال مئی کی جنگ کا مسکت جواب دینے کے بعد ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر اپنی اہمیت تسلیم کرا لی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین رابطوں کی بحالی، لبنان اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات، اور دیگر علاقائی کشیدگیوں میں کمی کی کوششیں اسی وسیع تر سفارتی ماحول کا حصہ ہیں جس میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔بلا شبہ یہ ایک غیر معمولی موقع ہے کہ پاکستان اپنی اس سفارتی ساکھ کو محض وقتی کامیابی تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے قومی مفادات کے حصول کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ بنائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے نکلتے ہیں جو اپنے جغرافیائی، سیاسی اور سفارتی اثاثوں کو دانشمندی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ آج پاکستان کے پاس یہی موقع ہے کہ وہ اپنی اس عالمی اہمیت کو داخلی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے بروئے کار لائے۔
آج توانائی کا بحران پاکستان کے دیرینہ مسائل میں سرِفہرست ہے۔ اس بحران نے نہ صرف صنعتی ترقی کی رفتار کو بریک لگائی ہے بلکہ عوامی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورت حال میں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرا کے ہم پاکستان ایران گیس پائیپ لائن منصوبے پر عملدرامد کا آغاز کر سکتے ہیں جس سے نہ صرف توانائی کی درپیش قلت ختم ہو گی بلکہ سستی توانائی کے ذریعے صنعتی پیداوار میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی بھی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی بہترین سفارتی صلاحیتیں بروئے کاد لا کر ایران سے سستا تیل حاصل کر سکتے ہیں اور توابائی کے بحران پر قابو پا کر عوام کے انتہاء درجے کو پہنچے ہوئے مہنگائی کے مسائل بھی خوش اسلوبی سے حل کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی معیشت کو بھی سہارا دے سکتے ہیں۔ یہ وہ عملی اقدامات ہیں جو سفارتکاری کو براہِ راست عوامی ریلیف میں تبدیل کر سکتے ہیں۔توانائی کے مسئلہ کا ایک اور پائیدار حل آبی وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے طویل عرصے سے سیاسی اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ اب موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ان منصوبوں پر سنجیدگی سے پیش رفت کی جائے۔ ہائیڈل پاور پراجیکٹس نہ صرف سستی بجلی فراہم کرتے ہیں بلکہ زرعی شعبے کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ پانی کے ذخائر میں اضافہ مستقبل کے ممکنہ بحرانوں سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اپنی معاشی خودمختاری کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ہمارے لیئے دوسرا بڑا مسئلہ آئی ایم ایف کی ناروا شرائط کی جکڑ بندیوں کا ہے جن سے خلاصی پانے کے لیئے امریکہ اور چین کی معاونت حاصل کرنے کا ہمارے پاس یہ نادر موقع ہے۔ اس کے لیئے ہمیں اپنی سفارتی کامیابیوں کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ، چین اور برادر مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ بے شک سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ داخلی استحکام کے بغیر کوئی بھی بیرونی کامیابی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ سیاسی ہم آہنگی، اداروں کے درمیان تعاون اور پالیسیوں کا تسلسل ہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت داخلی سطح پر اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لا سکے۔ہماری حالیہ سفارتی کامیابیاں ایک روشن موقع فراہم کر رہی ہیں تاہم یہ موقع اس وقت ہی بار آور ثابت ہوگا جب اسے دانشمندانہ پالیسیوں اور عملی اقدامات سے جوڑا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے لیئے محض عالمی ستائشوں پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ ان کامیابیوں کو قومی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ اگر پاکستان نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا تو نہ صرف خطے میں امن کا خواب حقیقت بن سکتا ہے بلکہ ملک بھی معاشی استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں