
وفاقی وزیر محترم جنابِ احسن اقبال کے بقول”90لاکھ بیرونِ ملک پاکستانی تقریباً 40 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں، جبکہ 24 کروڑ پاکستانی اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے صرف 40 ارب ڈالر کی برآمدات کرتے ہیں۔ یہ عدم توازن نہ پائیدار ہے اور نہ ہی قابلِ قبول“
بات تو200 فیصد درست ہے اور پہلے سے ہی ہر کسی کو معلوم ہے لیکن اس بیماری کی دوائی کون پیدا کرے گا؟ اس مرض کا علاج کون کرے گا؟ ظاہر ہے کہ وقت کے حکمران جن کی یہ ذمہ داری ہے اورجو نہیں کر رہے۔
تلخ زمینی حقائق اور امر واقع یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کو تو چھوڑیں، ملک کے اندر سرمایہ کاری اگر نہیں ہو رہی تو اس کی بنیادی وجوہات میں حکومتوں کی مستقل پالیسیوں کا فقدان،بھتہ خوری اور مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے سرمایہ لگانے والے کے ناک میں اتنا دم کر دینا کہ سرمایہ کار اپنا دماغی اور مالی نقصان کر کے یہاں سے نکلنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے۔ کارخانے،فیکٹریاں اور ملیں کیوں بند ہوتی جا رہی ہیں؟وجوہات کسی سے پوشیدہ نہیں۔اس ضمن میں نہ ختم ہونے والی مثالیں اور واقعات ریکارڈ پر ہیں،جو افسوسناک ہے۔
حکومتوں کا کام وسائل، روزگار اور ملک کے اندر لوکل سرمایہ کاروں کے لیئے دوستانہ ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے،تا کہ باہر سے بھی سرمایہ دار آکر اس ملک میں سرمایہ کاری کر سکیں ا ور پاکستان”غیر ملکی زرِ مبادلہ“کا محتاج ہی نہ رہے۔یہاں یہ ذہن نشیں رہے کہ ملک عزیز کا زیادہ نظام اس وقت بھی غیر ملکی سودی قرضوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے ”غیر ملکی زرِ مبادلہ“ کے طفیل چل رہا ہے (وزیر صاحب کے مطابق)یعنی ملک کی اپنی کوئی معقول اقتصادی اور معاشی آوٹ پٹ ہے ہی نہیں۔
ابھی سننے میں آیا ہے کہ حکومتِ وقت کوئی ایمنسٹی اسکیم لانچ کرنے جا رہی کہ دوبئی وغیرہ سے نکالے جانے پاکستانیوں سے ان کے پیسوں سے متعلق نہیں پوچھا جائے گا،وہ پاکستان میں آ کر یہاں انویسمنٹ کر سکتے ہیں کوئی انہیں نہیں پوچھے گا،لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کل کلاں جب یہ حکومت نہیں ہو گی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ دوسری حکومت کی موجودگی میں مذکورہ اسکیم سے دبئی سے یہاں آکر سرمایہ لگانے والے کا کاروبار محفوظ رہے گا؟یاد رہے کہ حکومت عمرانیہ میں بھی ایک مرتبہ بیرونی سرمایہ لانے والوں کو ایسی ہی ایمنسٹی اسکیم پیش کی گئی تھی(یعنی کالا دھن سفید کرنے کی)نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ایک مخصوص طبقہ تو فائدہ اٹھا گیا،اپنا کالا دھن سفید کر گیا لیکن عام اوور سیز انویسٹر کھجل خراب ہوا اور یہاں سے واپس بھاگا۔
”قومی سلامتی“ سمجھ کر مستقل طور پر معاشی اور اقتصادی پالیسی مرتب کریں،جس پر بعد میں کسی بھی حکومت کی جانب سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ بیرونی سرمایہ دار کو فی الحال چھوڑیں، اگر لوکل انوسٹرز کو ہی صرف10 سال کے لیئے ٹیکس پر چھوٹ دے دی جائے،ان کے لیئے آسانیاں پیدا کی جائیں اور سرکاری محکموں کی جانب سے انہیں تنگ نہ کیا جائے تو11 ویں سال ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح کم سے کم لیول پر آئی ہو گی جو اس ملک کا سب سے بڑادردِ سر ہے۔بیماری کا علاج پیش کر دیا ہے آگے حکیموں کی مرضی ۔
واپس کریں