
دنیا میں ریاستوں کے مابین رابطوں کی صورتحال ایسی نہیں ہوتی کہ ممالک کے تعلقات ایک جھٹکے میں بہتر یا خراب ہو جائیں یا ایک ملک فوراً کسی غیبی طاقت کے بل پہ طویل عرصہ سے راندہ درگاہ ہوتے دو چار سال میں سنگھاسن پہ جا پہنچے۔یہ عمل دہائیوں کی متوازن اور تسلسل کے ساتھ چلتی سفارت کاری کا نتیجہ ہوتا ہے جس کے پیچھے مضبوط معیشت ، خود مختار حیثیت ، خارجہ پالیسی کا تسلسل اور عدم مداخلت جیسے عوامل کا موجود ہونا بہت لازمی ہے۔ صِرف جنگی صلاحیت کے بل پہ اس مقام پہ مستقل طور پہ براجمان رہنا ممکن نہیں ۔
اس حوالے سے ماضی کی ایک واضح مثال ہمیں ضیاء الحق کے دور میں ملتی ہے جب سوویت یونین کے خلاف امریکی جنگ میں آپ کو مغربی دنیا کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اس دور میں ہمہ وقت آپ کے ملک میں اہم ترین مغربی ممالک کے اعلیٰ ترین حکام کی مسلسل آمدورفت رہتی تھی۔ آپ کو بین الاقوامی فورمز پہ بہت پزیرائی ملتی تھی۔ آپ پہ مغربی اخبارات شکریہ کے آرٹیکل لکھتے تھے۔آپ کو ہالی ووڈ کی فلموں میں ایسی مزاحمتی قوت بنا کر پیش کیا جاتا تھا جو انسانیت کی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی۔
لیکن آج ہم سب جانتے ہیں کہ یہ جنگ ہمارے لیے سیاسی ، سماجی اور معاشی ہر لحاظ سے تباہ کن ثابت ہوئی۔ہم نے لاکھوں مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا، ہیروئین اور اسلحہ کلچر ہمارے ملک میں عام ہوا۔ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی نوجوان ایک پرائی جنگ میں ناحق قتل ہوئے اور آخرکار امریکا اپنا مطلب نکلتے ہی ہمیں اس جنگ سے جڑے تمام مسائل کے ساتھ تنہا چھوڑ گیا جس کے نتائج ہم آج بھی افغانستان کے ساتھ اپنی غیر محفوظ سرحد کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔اس دور کی نام نہاد جہادی پالیسی کے انڈے بچے ہی آج ہمیں کاٹنے پہ مصر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی ایک وقتی جنگ بندی نے آپ کو ایک انتہائی خطرناک اور مہلک ترین لمحے سے بچا لیا ہے۔ ایک ناعاقبت اندیش معاہدے کے نتائج آپ کے گلے کا طوق بن سکتے تھے۔
سعودیہ کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ اس خطے کے لیے ایک ٹائم بم کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ خود مختار ریاست کا ایک اِتنا اہم دستاویز ہے جو پورے ملک کو ایک پرائی جنگ میں دھکیل سکتا ہے مگر کِتنی بدقسمتی ہے کہ عوام تو ایک طرف ، شاید سیاسی قیادت بھی اس معاہدے کے مندرجات سے واقف نہیں۔
آخر اس معاہدے میں ایسا کیا تھا کہ وقتی جنگ بندی سے ایک دن پہلے سابق وزیرخارجہ اور دو صوبوں میں برسراقتدار پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کے ذریعے خلیجی ممالک کی حمایت اور ایران کا نام لے کر مخالفانہ بیان جاری کیا گیا اور آپ کے ملک کے سب سے بڑے فیصلہ ساز عسکری ادارے کو اپنے سب سے اہم رائے ساز پلیٹ فارم سے ایران کو براہ راست اپنی جنگی حکمت عملی سے باز رہنے کا پیغام دینا پڑا ۔ بدقسمتی سے ان دو اہم تبدیلیوں کو ہمارے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پہ بہت کم اہمیت دی گئی ۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس وقتی جنگ بندی کے نتیجہ میں امریکا ، ایران اور اسرائیل کسی دور رس پر امن معاہدے کو تشکیل دینے اور اس پہ عمل درآمد کرنے یا کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو شاید احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ امریکی سامراج اور اس کی پالیسیاں دہائیوں کے بیانیہ اور مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ ہوتی ہیں۔آمریکی ادارے اتنی آسانی سے ان مقاصد کو ترک کرنے پہ تیار نہیں ہوتے۔دنیا پہ اپنے سیاسی ، سماجی اور معاشی غلبہ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ بھیڑیے ہر حد سے گزرنے کے لیے تیار اور ہر ظلم پہ آمادہ ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کے لیے امریکی عوام کے مفاد کی بھی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔اس لیے یہ قصہ چند ہفتوں یا مہینوں میں نبٹنے والا نہیں۔عارضی صلح کا یہ عمل ایک لمبی تزویراتی جنگ کا ابتدائی پڑاؤ ہے۔ابھی یہ جنگ اور اس کے ہمہ جہت عسکری، سیاسی، معاشی اور سفارتی محاذوں پہ لڑائی بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت باریک اور تیز دھار رسی پہ چلنے پہ مجبور ہو چکا ہے جس کے دونوں اطراف میں گہری کھائی ہے۔کُچھ عرصہ پہلے ہماری مقتدرہ نے واضح الفاظ میں یمن میں عدم مداخلت کا بیانیہ اپنایا تھا تو اس سے ہمارے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات پہ کوئی ایسا اثر نہیں پڑا تھا کہ ہم اپنی بقا اور سلامتی کے خطرے سے دوچار ہو جاتے۔ اس وقت کے سمجھداری پہ مبنی فیصلے کی داد بنتی تھی ۔مگر اگلے دور میں مقتدرہ شاید سعودیہ کے ساتھ معاہدے کے وقت اِس صورتحال کا ادراک نہیں کر پائی جس کا آج یا آنے والے وقت میں ہمیں سامنا ہو سکتا ہے۔
میں اس معاہدہ کے وقت بھی اپنی وال پہ آنے والے خطرے کے حوالے سے اپنی گزارشات سامنے رکھ چکا ہوں کہ کیسے یہ معاہدہ ایران اور یمن کے محاذ پہ اولین درجے میں استعمال ہو سکتا ہے۔
امن کے دور میں ایسے معاہدے سے کنارہ کر جانا شاید سعودیہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے زیادہ نقصان دہ نہ ہوتا۔سعودیہ اپنی دفاعی حکمت عملی میں اس معاہدہ کو شامل نہ کرتا تو شاید زیادہ فرق نہ پڑتا ۔مگر اس معاہدہ کی موجودگی اس امر کو لازمی بناتی ہے کہ سعودیہ نے اپنے دفاعی منصوبہ جات میں اس معاہدے سے جڑی تفصیلات کو بھی شامل کر لیا ہوگا ۔اب حالت جنگ میں اس معاہدے سے پیچھے ہٹنا بھی سعودیہ کی شدید ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نہایت برے اثرات ہمارے معاشی مفادات پہ پڑ سکتے ہیں۔دوسری طرف سعودیہ اور ایران کے مابین تناؤ کے شدید ہونے کی صورت میں ہماری امریکا کی اس جنگ میں کسی بھی نوعیت کی شرکت ایران کے ساتھ ایسے گھمبیر مسائل کا سبب بن سکتی ہے جس کے متعلق تصور کرنا بھی مشکل ہے۔اپنی تیسری سرحد کو غیر محفوظ کرنے اور ایک خود مختار، آزاد اور دوست اسلامی ریاست سے غیروں کے لیے دشمنی مول لینے سے جس نوعیت کے عوامی اور سلامتی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ان کو سمجھنا کسی بھی سنجیدہ سوچنے والے کے لیے مشکل نہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے فیصلہ ساز حلقوں نے کیا سوچ کر اس راستے کا انتخاب کیا ہے جہاں ہم خود کو اتنی مشکل صورتحال میں گھرا پاتے ہیں جہاں راستہ نکالنے کی گنجائش انتہائی کم ہے۔
حالات کا بہاؤ تیزی سے ایک ایسی سمت رواں ہے کہ جہاں بہت جلد پاکستان کو فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ گلوبل ساؤتھ یا مغربی سامراجی ممالک اور اُن کے حواری خلیجی ممالک میں سے کسی ایک گروہ کے ساتھ مستقل اپنی وابستگی کو واضح کرے ۔آپ بدلتے حالات میں زیادہ لمبا عرصہ دو انتہاؤں کے تضاد کو يكجا نہیں رکھ سکتے۔خاص طور پہ جب آپ اپنی سلامتی ، معیشت اور خود مختاری کے حوالے سے سمجھوتوں کی زندگی بسر کر رہے ہوں ۔
اُمید ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز ان تمام نزاکتوں کو پوری طرح سمجھ کر ملک کے حق میں وہ فیصلے لینے کے قابل ہوں جو ریاست اور عوام کو منجھدار کے سُپرد کرنے کی بجائے اس سے نکلنے کی سبیل ہوں۔
واپس کریں