ایرانی سیاسی قیادت مکمل طور پر بے اختیار ہے۔طاہر سواتی

بالآخر 27 کلومیٹر والے فارم 47 کے وزیر اعظم نے دنیا کو اس ہولناک جنگ سے وقتی طور پر بچا لیا، جس کے بھڑکنے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔
جس ملک کو کوئی ادھار تیل دینے کو تیار نہیں تھا، اس کے وزیر اعظم کی ایک ٹیوٹ سے تیل کی عالمی قیمتیں یکدم 16 فیصد گر گئیں اور امریکہ جیسی سپر پاور کی اسٹاک مارکیٹ سرخ سے گرین ہوگئی۔
اب یہ نصیب کی بات ہے، کسی کی قسمت سے لڑا تو نہیں جا سکتا۔
کبھی وہ بھی دن تھے جب امت مسلمہ کے حقیقی لیڈر کو کبھی چلتے جہاز سے اتارا جا رہا تھا تو کبھی ملائیشیا کانفرنس سے روکا جا رہا تھا۔ واشنگٹن میں کشمیر میز پر دے کر آیا تو اعلان کیا کہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ روس یوکرین کی صلح کرنے گیا تو جنگ لگوا کر ہی آیا۔
پوری دنیا آج اس جنگ بندی کی جشن منا رہی ہے۔ دنیا بھر کے لیڈرز پاکستانی قیادت کی تعریف کر رہے ہیں۔ اٹلی کے سابق وزیر اعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ نوبل انعام کا حقیقی حقدار پاکستان ہے۔
یہاں تک کہ محمود خان اچکزئی بھی بول پڑے:
"کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس کامیابی پر خوش نہ ہو۔ ہم حکومت کے ساتھ ہیں، پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد۔"
ایران تین دن قبل کچھ بھی ماننے کو تیار نہیں تھا، پھر اچانک کیسے راضی ہوا؟ صدر ٹرمپ کی دھمکی، چین اور پھر نواز شریف کی ذاتی مداخلت کے بعد ایران کی سیاسی قیادت جنگ بندی پر راضی ہوئی۔ نواز شریف نے دو بار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو فون کر کے سمجھایا کہ امن قائم کرنے کا یہ موقع ضائع نہ کریں، لیکن اطلاعات کے مطابق پاسداران انقلاب اپنی ضد پر ابھی تک قائم ہیں۔
امریکہ اور ایرانی میڈیا جنگ بندی کے الگ الگ مسودے شئیر کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران کے فارسی اور انگریزی والے مسودوں میں تضاد ہے۔ صدر ٹرمپ نے سب کو 'فیک' قرار دے دیا ہے۔
امریکہ اپنے بنیادی تین نکات پر ابھی تک قائم ہے:
یورینیم کی حوالگی، پراکسیز کا خاتمہ، اور ہرمز میں ٹریفک کی بحالی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے:
"ایرانیوں نے اصل میں پہلے ایک 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جو بنیادی طور پر غیر سنجیدہ اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول تھا۔ صدر ٹرمپ اور ان کی مذاکراتی ٹیم نے اسے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک زیادہ معقول، مکمل طور پر مختلف اور مختصر منصوبہ پیش کیا، جو ہمارے 15 نکاتی تجویز سے قریب تر تھا۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ یہ نیا، ترمیم شدہ منصوبہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد بن سکتا ہے۔
لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایران اب اپنے پراکسیوں کو خطے میں ہتھیار تقسیم نہیں کر سکتا۔ سب سے اہم بات، ایران کی یورینیم افزودگی کا معاملہ صدر ٹرمپ کی ریڈ لائن ہے، جو تبدیل نہیں ہوئی۔ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ اور یہ سوچ انتہائی طور پر مضحکہ خیز ہے کہ صدر ٹرمپ کبھی ایرانی خواہشات کی فہرست کو معاہدے کے طور پر قبول کریں گے۔"
امریکی وزیر دفاع نے بھی کہا ہے:
"اگلے مہینے اس کے امکانات زیادہ ہیں۔"
عمان نے ایران کی تجویز مسترد کر دی ہے جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر 20 لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے اور اس کا نصف مسقط کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش تھی۔
عمانی وزیر ٹرانسپورٹ نے کل ایک بیان میں کہا:
"آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کا موقف واضح ہے: عمان نے بحری نقل و حمل سے متعلق تمام بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو کسی انسانی محنت سے نہیں بنایا گیا، بلکہ یہ ایک قدرتی راستہ ہے۔ اس لیے سلطنت عمان کے دستخط کردہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اس پر کوئی فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔"
بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہرمز آدھا ایران اور آدھا عمان کی ملکیت میں شمار ہوگا۔ اگر عمان ٹیکس نہیں لگاتا تو سارے جہاز عمانی علاقے سے گزریں گے، جو زیادہ گہرا بھی ہے۔ اس صورت میں ایران کو ٹیکس لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ادھر جنگ بندی کے باوجود ایران نے لبنان پر حملوں کو جواز بنا کر سارا دن سعودی عرب، امارات، قطر، بحرین اور کویت پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری رکھے، جس کے جواب میں امارات نے ایرانی جزیروں کو نشانہ بنایا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے وینس، وٹکوف اور کشنر کو پاکستان میں مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے اور وہ اسلام آباد جائیں گے۔
حکومت پاکستان نے جمعہ اور ہفتہ کو اسلام آباد میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
ادھر پاسداران انقلاب کی تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے:
"اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو ایران جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز مکمل بند کر دے گا۔"
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی لبنان پر حملوں کو جواز بنا کر اسلام آباد میں کسی قسم کے مذاکرات میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔
کل رات کی آخری اطلاع یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔
جس پر نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے:
"اگر وہ اپنی شرائط پر قائم نہیں رہتے اور آبنائے ہرمز کو بند کرتے ہیں، تو پھر صدر ٹرمپ بھی اپنی شرائط کے پابند نہیں رہیں گے۔"
اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اگر تہران مذاکرات کے ذریعے کوئی معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو فوج دوبارہ لڑائی شروع کرنے کے لیے تیار ہے، ایران اپنا یورینیم یا تو 'رضاکارانہ طور پر' یا غیر رضاکارانہ طور پر حوالے کرے گا۔اگر ایران لبنان کی وجہ سے جنگ بندی سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کی مرضی ۔
اور ٹرمپ نے اپنے تازہ پیغام میں کہا ہے کہ حتمی معاہدے تک امریکی افواج اور اسلحہ اپنی اپنی پوزیشن پر رہیں گے اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو کام وہیں سے شروع ہوگا جہاں چھوڑا تھا ۔
اللہ کرے کہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں اور مذاکرات کامیاب ہوں، لیکن فی الحال اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ ایرانی جو سیاسی قیادت مذاکرات کر رہی ہے، وہ مکمل طور پر بے اختیار ہے۔ یہاں تک کہ پاسداران انقلاب کا ایک ضلعی کمانڈر بھی ایرانی صدر کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
واپس کریں