
کراچی میں ہر پہلے بندے پر بندش، ہر دوسرے پر تعویذ اور ہر تیسرے پر جادو ہوا پڑا ہے۔
غلط تکیے پر سونے کی وجہ سے کسی کی گردن اکڑ گئی ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ چچا نے جادو کروا دیا ہے۔
ہارمونز کا توازن بگڑنے سے کسی کی ماہواری کا سائیکل آگے پیچھے ہو گیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ اسکے نام کی ہڈی کسی نے قبرستان میں دبائی ہوئی ہے۔
گجر کی نہاری، کباب جیز کا چیچڑ فاسٹ فوڈ اور نلی والی چوتیا بریانی کی وجہ سے قبض ہونے کا مطلب ہے کسی نے بندش کروا دی ہے۔
نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے نحوست طاری ہے تو آپکو شدید والی نظر لگ گئی ہے۔
بیٹا اگر بیوی سے پیار کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے بیوی یا اسکی اماں نے لڑکے کو چائے میں کچھ ملا کر پلا دیا ہے۔
نفسیاتی پن کا یہ عالم ہے کہ سر بھاری ہو تو آرام کریں گے نہ پانی پئیں گے۔ سیدھا کسی تعویذگر کو کال کریں گے کہ یار مجھے Cheeeeek کرنا ذرا۔ اگلا بھی چیک کر کے غریب کو زعفرانی بتی کے پیچھے لگا دیتا ہے۔
مزے کی بات۔!
ملحد بیچارے بالکل ناحق ذلیل ہیں۔
کراچی میں تو علمائے کرام کو بھی قرآن پر کچھ خاص اعتبار نہیں رپا۔ کسم سے۔ ہر تیسرے مولوی نے گندی ایڑی اور خضابی ڈاڑھی والے کسی جنترو منترو کے ہاتھ پہ بیعت کی ہوئی ہے۔
پچھلے تیس سالوں میں جو لوگ صدر وغیرہ پہ سانڈے کا تیل بیچ رہے تھے وہ بھی سالے تعویز گر بن گئے ہیں۔ یقین مان۔
جو حالات چل رہے ہیں مجھے لگ رہا ہے کراچی والے اپنی پریگنینسیاں بھی جادو گروں کے کھاتے میں لکھنا شروع کردیں گے۔ ہم میاں بیوی نے تو کوئی زنا ہی نہیں کرا، پھر یہ سب کیسے ہوگیا بے؟
پورے ملک میں ہی یہ وبا ہے مگر کراچی والے تو پاگل ہی ہوگئے ہیں۔کیا ہوگیا یار۔ بڑے بھی ہوجاو اب۔
واپس کریں