دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"متحدہ عرب امارات”کا وہ خفیہ راز جوکوئی نہیں جانتا۔فلسطینی صحافی جمال ریان
No image کوئی نہیں جانتا کہ “متحدہ عرب امارات” جیسے ایک ملک، جس کا رقبہ صرف تقریباً 75 ہزار مربع کلومیٹر ہے، اور جس کی مقامی آبادی ابھی تک آٹھ لاکھ سے بھی کم ہے، اتنی تیزی سے ترقی کیسے کر گیا؟!! جبکہ “متحدہ عرب امارات” کے پاس نہ کوئی مضبوط سیاسی تاریخ ہے، نہ آزادی کی تحریکیں، اور نہ ہی ثقافتی یا فکری ادارے۔
کیا شیخ زاید نے اس پر سورۃ “یس” پڑھ دی کہ یہ ایک ہی رات میں تعمیر و ترقی کے عروج پر پہنچ گیا اور مغربی ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا؟!!
حقیقت یہ ہے کہ: “امارات پروجیکٹ” کے پیچھے دراصل دنیا کے طاقتور ترین یہودی ہیں۔ مغرب میں موجود “امیر ترین یہودیوں” نے یہ سوچا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی یہودی بستی قائم کی جائے جو انکے مالی مفادات اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرے مگر اس بستی کا انکی “اصل ریاست” یعنی اسرائیل سے براہِ راست تعلق نہ رکھا جائے (کچھ سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر)
1971 سے، جو کہ متحدہ عرب امارات کے قیام کا سال ہے، مغرب نے امارات کو پہلے چھ اور پھر سات ریاستوں میں تقسیم رکھا، اور ہر ریاست کا اپنا امیر، فوج، پولیس اور سکیورٹی نظام ہے جبکہ صرف ابوظہبی پورے متحدہ عرب امارات کے تین چوتھائی سے زیادہ رقبے پر مشتمل ہے،
تاکہ ایک مضبوط مرکزی ریاست بننے کا امکان کم رہے۔
اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مان بھی لیں کہ امارات کی آبادی ساڑھے سات لاکھ ہے تو پھر بھی اس کا ان غیر ملکیوں سے کیا مقابلہ ہے جو وہاں رہتے ہیں اور جن کی تعداد 90 لاکھ ہے، اور وہ 200 قومیتوں اور 150 مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں؟!!
یہاں تک کہ اگر متحدہ عرب امارات کے تمام مقامی لوگ فوج، سکیورٹی اور انٹیلیجنس بن جائیں، تب بھی وہ ان غیر ملکیوں کے مقابلے میں اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے!!
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب آپ امارات میں داخل ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی یورپی یا ترقی یافتہ ایشیائی ملک میں آ گئے ہوں، جہاں بہترین نظام، پیشہ ورانہ رویہ، اعلیٰ نظم و ضبط، صاف ستھری اور خوبصورت سڑکیں نظر آتی ہیں لیکن آپ کیلئے یہاں کے ایک “اصل مقامی شہری” کو تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے؛ کیونکہ ایئرپورٹ سے لے کر رہائش تک زیادہ تر معاملات “غیر ملکیوں” کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔
جبکہ ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد اور بندرگاہوں میں جہازوں کی آمد و رفت دنیا کے بڑے ترین مراکز کا مقابلہ کرتی ہے، جس سے انسان حیران رہ جاتا ہے!!! کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سادہ سوچ رکھنے والا “اماراتی” بادشاہ اس پیچیدہ نظام کو چلا رہا ہو؟!!
“متحدہ عرب امارات” بالخصوص ابوظہبی میں دنیا کے امیر ترین افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں امیر یہودیوں کا تناسب زیادہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس بڑے مالی ذخیرے کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
اسی لیے یہ بات عجیب نہیں کہ محمد بن زاید کو اسرائیل کی طرف لے جانے میں ایک یہودی ارب پتی حائیم سابان (Haim Saban) کا کردار تھا۔
“متحدہ عرب امارات” صرف بلند عمارتوں، خوبصورت سڑکوں، تجارت یا صنعت کا نام نہیں بلکہ یہ “امت مسلمہ" کے خلاف سازش کا ایک مضبوط "مرکز” ہے۔
چند اہم سوالات:
سوال نمبر 1-
متحدہ عرب امارات کو اس قدر اسلحہ پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہ دنیا میں اسلحہ پر خرچ کرنے والی پانچویں بڑی ریاست میں شمار ہوتی ہے؟
اس اسلحہ کو چلانے والی اس کی فوج کہاں ہے؟
اور وہ فوج کن سرحدوں کا دفاع کر رہی ہے؟
جواب:
یہ تمام اسلحہ، چاہے ظاہر ہو یا پوشیدہ، خطے کے دیگر ممالک میں مداخلت اور سازشوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کوئی بھی عرب یا اسلامی ملک ایسا نہیں جس کے سیاسی، معاشی یا سکیورٹی معاملات میں متحدہ عرب امارات کی مداخلت نہ ہو۔
سوال نمبر 2:
کیا آلِ زاید خاندان کے پاس اتنی ذہانت ہے کہ وہ اتنے پیچیدہ معاملات کو خود سے چلا سکے؟
اور کیا امارات کے حکمرانوں کے مفاد میں ہے کہ وہ ہزاروں کلومیٹر دور دیگر ممالک کے معاملات میں مداخلت کریں؟
اس سوال کا جواب انتہائی سادہ ہے
سوال نمبر 3:
یہودی سرمایہ دار خود براہِ راست متحدہ عرب امارات پر حکومت کیوں نہیں کرتے؟
اس سوال کا جواب ہنری فورڈ کی 1921 میں لکھی گئی کتاب “دی انٹرنیشنل جیو” The International Jew میں دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ:
“یہودی دنیا کو پس پردہ رہ کر چلانا پسند کرتے ہیں۔”
سوال نمبر 4:
یہودیوں نے سرمایہ کاری کے لیے اسرائیل کے بجائے متحدہ عرب امارات کو کیوں منتخب کیا؟
جواب:
اسکا جواب بھی انتہائی سادہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل سرمایہ کاری کے لیے موزوں نہیں، وہ یہودیوں کا ایک “فوجی مورچہ” ہے جو ہر وقت خطرے میں رہتا ہے،
اور خطے میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست تجارتی تعلقات بھی زیادہ پسند نہیں کیے جاتے یعنی ایک طرف وہ غیر مستحکم ہے، اور دوسری طرف وہاں کام کرنے والوں کا تعلق براہِ راست یہودیوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے یہودیوں نے سرمایہ کاری کیلئے اسرائیل کی بجائے متحدہ عرب امارات کو منتخب کیا اور یہی وہ خفیہ راز ہے جو راتوں رات متحدہ عرب امارات کی چکا چوند ترقی کا باعث بنا
خلاصہ:
“متحدہ عرب امارات” دراصل 1971 سے یہودیوں کے مالی مفادات اور تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کی غرض سے قائم کردہ اسرائیلی بستی ہے۔
واپس کریں