
”اس امیدوار یا اس کی سیاسی جماعت نے الیکشن جیت کر کون سا اقتدار میں آنا ہے جو ہم اپنا ووٹ اسے دے کر ضائع کریں“ تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جب آپ ایسی سوچ رکھتے ہوں تو جان جائیں کہ آپ سیاسی طور پر نابالغ، بے ضمیر ہیں اور آپ کے اندر سیاسی شعور نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے یا اگر آپ کو یہ بھاشن دیا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں جو سیاسی جماعت اقتدار میں ہے،آپ نے اسی کو ووٹ دینا ہے یعنی اسی غیر ریاستی سیاسی جماعت کی لوکل برانچ کو ووٹ دینے سے ہی آپ کے مسائل حل ہو سکیں گے تو اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ آپ کے ضمیر کو یا پھر آپ کے ووٹ کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روائیتی، اپنے مفادات اور پاور پالیٹکس پر یقین رکھنے والے سیاسی فصلی بٹیروں کو اپنے قیمتی ووٹ کے زریعے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کا سیدھا مطلب ہے کہ آپ اپنے بنیادی حقوق کا خون خود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
آذاد کشمیر میں عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی فصلی بٹیرے اپنی چرب زبانوں، روائیتی وعدوں اور نوٹوں کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں،فوتگیوں والے گھروں میں فاتحہ خوانیوں اور شادیوں میں شرکت کرنے کا منقطع سلسلہ بھی دوبارہ سے شروع ہو چکا ہے لیکن کشمیری بہن، بھائیوں یہ بات یاد رکھیئے گا کہ، آپ کے ووٹ دینے کا مطلب فقط اپنے علاقے کے مسائل جیسے بجلی کا پول، پانی کا پائپ یا کوئی لنک روڈ نہیں بلکہ ووٹ دینے کا حقیقی مطلب اپنی ریاست اور اپنے مستقبل پر اثر انداز ہونے کا طاقتور طریقہ ہے۔
آپ کے ووٹ سے ہی معیشت، قانون و انصاف اور قائم فرسودہ نظامِ حکومت میں مثبت تبدیلی آئے اور ٹھوس پالیسیاں بنیں گی اور یہ تبھی ممکن ہو گا جب آپ کا ووٹ آپ کے ضمیر کے مطابق کاسٹ ہو گا نہ کہ کسی کی منشا اور خواہش کے مطابق اور یہ کہ آپ کی اپنی قانون ساز اسمبلی کے اندر کشمیر پالیسی بنے گی نا کہ کسی غیر سیاسی سرکاری دفتر میں۔
ضروری بات ہے،یاد رکھیئے گا، تحریک آذادی کشمیر کے بیس کیمپ کے باشندے ہونے کے ناطے ریاست اور آپ کا اولین فرض باقی ماندہ مقبوضہ ریاست کی آذادی کے لیئے آواز اٹھانا اور جدوجہد کرنا ہے نا کہ نالی، پائپ اور ٹوٹی نلکے کی سیاست۔اس لیئے اپنے اپنے امیدواروں کو اگر وہ روائیتی سیاست دان یا کسی غیر ریاستی سیاسی جماعت کے نمائندے ہیں تو ان کو اپنا قیمتی ووٹ دینے سے قبل کم از کم کشمیر کا حدود حربہ اور تنازعہ کشمیر اور اس کے حل کی بابت ضرور پوچھئے گا، امیدِ قوی ہے کہ آپ انہیں ووٹ دینے کے لیئے دوبارہ سے سوچنے پر مجبور ہو ں گے۔
اب کھانے اور ہگنے کے علاوہ اپنے دماغ سے سوچنے کی بھی ضرورت ہے جو قدرت نے آپ کو عطا کیا ہوا ہے۔آپ کے ووٹ دینے کا مطلب آپ کے مستقبل (جو ریاستِ کشمیر سے وابسطہ ہے) اور تناز عہ کشمیر کے حل ہونے کی سنجیدہ کوشش اور فیصلہ ہو گا۔
آذاد کشمیر کے باشعور عوام، بلخصوص تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اب اپنے قیمتی ووٹ کا فیصلہ کرنے میں اب سیاسی اور عالمی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اگر نہیں تو پھر نلکے،پائپ، ٹوٹی اور لنک روڈ دینے والے مفاد پرست اور ٹھیکیدار سیاست دانوں کی گاڑیوں کے پیچھے خود اور اپنی نسلوں کے ساتھ لٹکتے جاتے رہے۔
تو پھر آذاد کشمیر کے ووٹرز آمدہ الیکشن میں اپنا ووٹ کس کو دیں؟ اس سوال کے جواب میں عرض کروں گا ”نظریہ خورشید“ کوپڑھیں، قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکرٹری، جموں کشمیر لیبریشن لیگ کے بانی اور سابق صدرِ ریاست بیرسٹر کے ایچ خورشید مرحوم کی سیاسی اور نجی زندگی کو پڑھیں،آپ کو یقینا اپنے ووٹ دینے سے متعلق فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔
واپس کریں