دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اس جنگ کو لوگ تین زاویوں سے دیکھتے ہیں۔طاہر سواتی
No image پہلا ہے نظریاتی پہلو، جس میں آج کل سوشلسٹ اور اسلامسٹ ایک پیج پر ہیں، خاص کر پاکستان میں۔ یعنی دائیں بازو اور بائیں بازو آج کل ملائی چوغے کے ایک ہی آستین میں گھسے ہوئے ہیں۔ یہ بڑا دلچسپ پہلو ہے، اس پر تفصیل سے لکھیں گے۔
دوسری قسم کے لوگ اسے معاشی پہلو سے دیکھتے ہیں۔ دنیا کے بڑے کاروباری ادارے اور ان سے ملحقہ میڈیا ہاؤسز اسی نکتۂ نظر سے تبصرے کرتے ہیں۔
تیسرا پہلو خالص عسکری ہے، جس پر بہت کم لوگ رائے دیتے ہیں۔ ویسے بھی عسکری اصطلاحات اور بیانیے خاصے مشکل اور بور ہوتے ہیں، اور عام لوگ بھی اس میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔
کسی بھی جنگ کے لیے یہ تینوں پہلو بہت اہم ہوتے ہیں۔ ہر جنگ کسی نہ کسی نظریے سے جڑی ہوتی ہے، اس کے معاشی فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں، اور جنگ بنیادی طور پر فوجی میدان میں ہی لڑی جاتی ہے۔
لیکن اگر آپ جنگ کا تجزیہ ان میں سے کسی ایک زاویے سے کریں گے تو وہ درست نہیں ہو سکتا۔
اب اگر کل کا عالمی میڈیا دیکھیں تو معاشی پہلو سے دیکھنے والا میڈیا یہی تاثر دے رہا تھا کہ صدر ٹرمپ قوم سے خطاب میں اس جنگ کے فوری خاتمے کا اعلان کریں گے، کیونکہ عالمی ساہوکار یہی چاہتا ہے۔
لیکن جیسا کہ کل عرض کیا تھا کہ امریکہ کی عسکری تیاریاں ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ کی نشان دہی کرتی ہیں۔ آپ صرف اس سے اندازہ لگائیں کہ اس وقت امریکہ کے ۱۲ تھنڈر بولٹ A-10 کے جنگی طیارے خلیج میں موجود ہیں اور مزید 18 آ رہے ہیں۔
اب آپ بتائیں جنگ کس طرف جا رہی ہے۔
اور پھر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں وہی بات دہرائی کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو ہم سب کچھ تباہ کر کے چلے جائیں گے، اور برطانیہ نے ہم خیال ملکوں کی ایک کانفرنس بلائی ہے تاکہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولنے کا طریقہ ڈھونڈا جائے۔
اگر امریکہ ایران کے تمام انرجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے چلا جائے تو رجیم خود معاشی دباؤ کے نتیجے میں چند سالوں کے اندر گر جائے گی۔
قطر کے ایل این جی مرکز پر ایک ایرانی میزائل کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت پانچ سال کے لیے ۱۷ فیصد کم ہوئی ہے، تو اگر خارگ پر کارپٹ بمباری کر دی جائے تو ایران کی ۹۰ فیصد آمدن کم از کم پانچ سال کے لیے ختم ہو جائے گی۔
اور یہی اسرائیل اور امریکہ کا منصوبہ ہے۔ اس لیے اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ ہم رجیم چینج نہیں لا سکتے، یہ کام ایرانی عوام کو خود کرنا ہوگا، ہم صرف ان کا کام آسان کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس نے اپنی زبانِ مبارک کی وجہ سے کوئی دوست نہیں چھوڑا، حتیٰ کہ سی این این جیسا بڑا امریکی میڈیا ہاؤس بھی اس کا مخالف ہے۔
واپس کریں