آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی خاطر عوام کو مصائب کی دلدل میں دھکیل دیا گیا

آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ کردیا ہے جس کے بعد پٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو نئے مطالبات کی فہرست فراہم کی گئی ہے جس میں اگلے مالی سال ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے سے زائد اضافے کی تجویز د ی گئی ہے۔ علاوہ ازیں، آئی ایم ایف نے چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے اور نئے بجٹ میں ٹیکس ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی۔ یہ صورتحال ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں ایک طرف ریلیف کے اعلانات ہیں اور دوسری طرف مہنگائی کا نہ تھمنے والا سیلاب۔ 129 ارب روپے کا ریلیف سننے میں بڑا لگتا ہے، لیکن جب اسے پاکستان کی 24 کروڑ سے زائد آبادی پر تقسیم کیا جائے تو فی کس رقم انتہائی معمولی بنتی ہے۔ دوسری طرف، گزشتہ چند برسوں میں بجلی کے نرخوں میں تین سو فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کا ریلیف کا بیانیہ عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کا پٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا مطالبہ محض ایک مالی سفارش نہیں بلکہ یہ حکومت پر عوام دشمن پالیسیاں اپنانے کے لیے واضح دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ پٹرولیم پر اضافی ٹیکس کا مطلب ہے ٹرانسپورٹ مہنگی، اشیائے خورد و نوش مہنگی اور پیداواری لاگت میں اضافہ، جس سے بالآخر عام آدمی کا معاشی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ ہر بجٹ سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط کا سامنے آنا اور حکومت کا انہیں من و عن قبول کرتے چلے جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی اسلام آباد میں نہیں، کہیں اور بنتی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ریلیف کے خوبصورت اعلانات کرنے سے پہلے زمینی حقائق دیکھیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کی بجائے قومی مفاد میں مشاورت کریں۔ کفایت شعاری کا آغاز عوام سے نہیں، حکومتی اخراجات اور مراعات یافتہ طبقے سے ہونا چاہیے۔ جب تک حکمران خود سادگی نہیں اپناتے، عوام سے قربانی مانگنا منافقت ہے۔ تاریخ ان حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی جنھوں نے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی خاطر اپنے عوام کو مصائب کی دلدل میں دھکیل دیا۔
نوائے وقت کے اداریئے سے اقتباس
واپس کریں