دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایک فیصلہ کن حملے کی تیاری ہورہی ہے۔طاہر سواتی
No image جیسا کہ دو دن قبل لکھا تھا کہ اگر مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلا تو ٹرمپ اپنا کام کرکے آبنائے ہرمز کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
اور آج ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ جنگ ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے بغیر ختم ہو سکتی ہے۔ جس کو تیل کی ضرورت ہے وہ ہم سے لے یا جا کر ہرمز کھولے، لیکن اس وقت امریکہ آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا جیسا کہ آج آپ موجود نہیں ۔
اگر امریکہ جزیرۂ خارگ پر قبضہ حاصل کر لیتا ہے تو ٹرمپ ہرمز کو کھولنے کی کوشش کرے گا تاکہ وہاں سے تیل نکال کر جنگ کے اخراجات پورے کر سکے، بصورتِ دیگر وہ اسے مکمل طور پر تباہ کرکے واپس چلے جائیں گے۔
ٹرمپ کے قوم سے خطاب میں آئندہ کے لائحۂ عمل کا تعین ہوگا۔
دوسری جانب ایک فیصلہ کن حملے کی تیاری ہورہی ہے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اپنے دو بڑے بحری بیڑوں یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے بعد تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ امریکی فضائیہ کے دو نئے ای اے-37بی کمپاس کال الیکٹرانک وارفیئر جیٹ طیارے بھی مشرق وسطیٰ کی جانب پرواز کر رہے ہیں۔
یہ طیارے دشمن کے مواصلاتی نظام، ائر ڈیفنس اور کمانڈ سسٹمز کو جیم کرنے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کی سہولت بھی دیں گے۔
اور اس کے ساتھ امریکہ کے اے-10 تھنڈربولٹ II جنگی طیارے بھی خلیج پہنچ گئے۔
یہ طیارہ انتہائی کم اونچائی پر طویل پرواز کر سکتا ہے۔
اس پر نصب 30 ایم ایم کی گن ایک منٹ میں تین ہزار گولیاں برسا کر زمینی فوج، ٹینکوں اور سطح سمندر پر تیز رفتار کشتیوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں موجود تیز ایرانی بوٹس کا صفایا یہی طیارہ کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی امریکہ نے سعودی عرب میں موجود اپنی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی ہیں۔
ان تازہ ترین اقدامات سے امریکہ اسٹاک مارکیٹ میں کافی دنوں کی مندی کے بعد زبردست چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ نے حیران کن طور پر ایک دن میں 1800 ارب ڈالرز کا منافع کمایا۔
اور کل رات اصفہان کے زیر زمین بنکر پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ مبینہ طور پر اس میں ڈرون اور میزائل ذخیرہ کیے گئے تھے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے 530 ارب ڈالرز منجمد کرنے کے بعد امارات میں موجود کئی منی ایکسچینج کمپنیوں کو قبضے میں لے لیا ہے جن پر پاسداران انقلاب کو فنڈنگ کا الزام ہے۔
اور ساتھ ہی ایرانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے تمام داخلی راستے فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کنیکٹنگ فلائٹس کے ذریعے آمدورفت کرنے والے مسافروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اب ایک کروڑ کا سوال یہ ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایران اپنی تجارت اور ساری مالی لین دین، رقم کی وصولی وغیرہ کیسے متحدہ عرب امارات کے ذریعے کرتا تھا جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں اور جو امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔
اورٗ ایک انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب لبنان حکومت نے ایرانی سفیر کو ناپسندیدہ شخص قرار دے کر ملک چھوڑنے کو کہا لیکن ایرانی سفیر نے ہدایت ماننے سے انکار کر دیا۔
قانون کے مطابق اگر کوئی ملک کسی سفارت کار کو ناپسندیدہ شخص قرار دے اور وہ نہ جائے تو اس کا سفارتی استثنا ختم کر کے اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ میں شاید ہی ایسا کہیں ہوا ہو۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران نے حزب اللہ جیسے مذہبی پراکسی کے ذریعے لبنان کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور وہاں تعینات ایرانی سفیر اپنے آپ کو وائسرائے سمجھتا ہے۔
یاد رہے لبنانی حکومت نے چند ہفتے پہلے حزب اللہ کے مسلح ونگ کو کالعدم قرار دے کر غیر مسلح ہونے کا حکم دیا تھا، لیکن حزب اللہ نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور اسرائیل کے خلاف حملے شروع کر دیے۔ اسرائیل کے جوابی حملوں سے بڑی تعداد میں لبنانی شہری مارے جا رہے ہیں۔
اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اپنے کندھے کے فریکچر کے باوجود ہنگامی دورے پر چین گئے۔ مذاکرات کے اختتام کے بعد وہ کل ہی واپس آنا چاہتے تھے لیکن چینی وزیر خارجہ کے پرزور اصرار پر رک گئے۔
چینی وزیر خارجہ کی ہدایت پر اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں چینی ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم نے اسحاق ڈار کا طبی معائنہ بھی کیا ۔
اور قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ ایران مذاکرات پر تعاون کر رہے ہیں لیکن شریک نہیں ہیں کیونکہ اس وقت ہم ایرانی حملوں کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔
واپس کریں