دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”لارڈ میکالے کا اقبالِ جرم“سفیان خان
No image ·”میں برطانوی لُٹیروں کا چہیتا، ان کے استعماری عزائم کا معمار اور برصغیر کی روح کو قانونی زنجیروں میں جکڑنے والا سب سے بڑا ماسٹر مائنڈ آپ سے مخاطب ہوں۔
عرض ہے کہ تم آج بھی میرے قیدی ہو!
سنو! میری وہ ”شیطانی وارداتیں“ جنہوں نے تمہیں آج تک غلام بنا رکھا ہے:
پہلی واردات: (Adversarial System)
میں نے تمہارا وہ قاضی چھین لیا جو سچ کی تلاش میں خود نکلتا تھا۔ میں نے تمھارے قاضی اور پنچایت پر مشتمل اسلامی نظامِ عدل کو غیر مہذب قرار دے کر تمہیں وہ نظام دیا جہاں جج کا کام سچ ڈھونڈنا نہیں، بلکہ صرف ایک خاموش تماشائی بن کر وکلاء کا گیم دیکھنا ہے۔ میں نے ریاست کو بری الذمہ کر کے ثبوت اکٹھا کرنے کا سارا بوجھ (Burden of Proof) اس نہتی لڑکی جیسے مظلوموں پر ڈال دیا۔ میں جانتا تھا کہ ایک بے بس مظلوم کبھی میرے وفادار چوہدریوں اور وڈیروں کے خلاف ثبوت نہیں لا سکے گا۔
دوسری واردات: (Law of Evidence)
میں نے سچائی کے گرد قانونی باریکیوں (Legal Technicalities) کا ایسا حصار باندھا کہ سچ اس کے آگے خود ہی دم توڑ جائے۔ اگر جج اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں قتل ہوتے دیکھ لے، تب بھی وہ تمھارے قاتل کو تب تک سزا نہیں دے سکتا جب تک میرے بنائے ہوئے قانونِ شہادت (Evidence Act) کے سخت تقاضے پورے نہ ہوں۔ میں نے جج کی ضمیر کو گروی رکھ اسے کاغذ کا غلام بنا دیا۔
تیسری واردات: مجموعہ تعزیراتِ ہند (IPC)
مجموعہ تعزیراتِ ہند (Indian Penal Code) جسے آج تم مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) کہتے ہوئے سینے سے لگائے بیٹھے ہو، میرا سب سے بڑا شاہکار ہے۔ میں نے اس میں Benefit of Doubt کا ایسا شیطانی سوراخ رکھا کہ تمہاری پولیس (جو میں نے ہی تمہیں کچلنے کے لیے بنائی تھی) تفتیش میں ذرا سی بھی جان بوجھ کر غلطی کرے گی، تو میرا جج اسی شک (Doubt) کی آڑ لے کر تمہارے قاتل وڈیروں کو باعزت رہا (Acquitted) کرتا رہے گا۔
چوتھی واردات: (Justice Delayed)
میری خواہش تھی کہ تمھاری لیے انصاف کو اتنا مہنگا اور ناقابلِ رسائی (Inaccessible) بنا دو کہ عام آدمی تھک کر گھر بیٹھ جائے۔ میں نے مقدمہ بازی کے طریقہ کار (Litigation Process) کو اتنا پیچیدہ بنا دیا، جہاں ایک سول مقدمے کو سیول کورٹ سے سپریم کورٹ پہنچنے میں اوسطاً 25 سال لگتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ جب تک فیصلہ آئے گا، مقتول کی نسلیں مٹ چکی ہوں گی اور قاتل کے بیٹے اور پوتے اسمبلی میں بیٹھ کر میرے ہی قانون کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ جانتا ہوں انصاف میں تاخیر انصاف کی ضد (ظلم) ہے، لیکن تمھیں غلام رکھنے کے لیے یہ ظلم ازبس ضروری ہے۔
پانچویں واردات: (Minute on Education)
میں نے تمہاری زبان چھین کر تمہیں انگریزی قانون کا محتاج کیا۔ میں نے اپنی کمال شیطانی بصیرت سے وہ طبقہ تیار کیا جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو پاکستانی ہے، مگر ذوق، رائے، اخلاق اور فہم میں انگریز ہے۔ آج تمہارا عدالتی نظام، تمہارے ججوں کے کالے کرتوت اور تمہاری بیوروکریسی میری اسی سوچ کی وارث ہے۔
آج ام رباب کی شکست اور ناظم جوکھیو کے قاتلوں کا پروٹوکول ہی میری جیت ہے۔ تم آزاد نہیں ہوئے، تم آج بھی میری استعماری ورثے (Colonial Legacy) کے قیدی ہو۔ جب تک میری روح (ہمارا چھوڑا ہوا نظام) تمہاری عدالتوں میں زندہ ہے، تم صرف تاریخ پاؤ گے، انصاف نہیں!“
(تمہارا ابدی آقا، لارڈ تھامس بابنگٹن میکالے)
واپس کریں