دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان IMF کا غلام کیوں ہے ؟محمد شہزاد
No image پاکستان میں اشرافیہ کی جانب سے ریاست پر قبضہ ایک ہولناک معاشی حقیقت ہے، جس کی تصدیق حالیہ برسوں میں آئی ایم ایف اور یو این ڈی پی جیسے عالمی اداروں نے بھی کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی اشرافیہ سالانہ تقریباً 17.4 ارب ڈالر (تقریباً 5 ٹریلین روپے سے زائد) کی مراعات، سبسڈیز اور ٹیکس چھوٹ ہڑپ کر جاتی ہے۔ یہ رقم پاکستان کی کل معیشت (GDP) کا تقریباً 6 فیصد بنتی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو چند ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے پر مجبور ہو، وہاں صرف ایک طبقے کو اتنی بڑی رقم بطور تحفہ دے دی جاتی ہے۔
یہ قبضہ انتہائی منظم طریقے سے تین بڑے راستوں سے کیا جاتا ہے۔ پہلا راستہ ٹیکس چھوٹ اور سبسڈیز کا ہے، جہاں رئیل اسٹیٹ، بڑی صنعتوں اور شوگر ملز جیسے شعبوں کو، جن کا تعلق براہِ راست پالیسی سازوں سے ہے، اربوں روپے کے ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا جاتا ہے، جبکہ سارا بوجھ عام آدمی پر بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسرا راستہ ریگولیٹری قبضہ ہے، جہاں قوانین کو اس طرح توڑ مروڑ کر بنایا جاتا ہے کہ مقابلہ ختم ہو جائے اور مخصوص کارٹلز کی اجارہ داری قائم رہے۔ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے یکطرفہ معاہدے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جہاں ریاست نے خود کو اس بات کا پابند کر لیا کہ وہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، عوام کے خون پسینے کی کمائی ان کمپنیوں کی جیبوں میں جائے گی۔
تیسرا اور سب سے مہلک طریقہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے لیے سستی گیس، مفت بجلی، مہنگی گاڑیاں اور بیرونِ ملک علاج کے لیے قومی خزانہ کھلا ہے، تو دوسری طرف اڑھائی کروڑ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ جب ریاست کا ڈھانچہ صرف بڑے سیٹھوں اور بااثر خاندانوں کے مفاد کو تحفظ دینے کے لیے کام کرے، تو وہ نظامِ انصاف نہیں بلکہ ایک تجارتی منڈی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے گرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ جو پیسہ سکولوں، ہسپتالوں اور چھوٹے کسانوں پر خرچ ہونا تھا، وہ ایلیٹ پریوولیج کی نذر ہو جاتا ہے۔
جب تک اس ساختی ناانصافی کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جاتا، معاشی استحکام کا ہر دعویٰ محض ایک سراب رہے گا۔
واپس کریں