دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنگ کا ایک ماہ مکمل، طاقتور ممالک پائیدار حل کے لیے آگے آئیں
No image ایران پر امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے اور مذاکراتی عمل کے بارے میں مسلسل خبریں آنے کے باوجود یہ جنگ رکتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اس جنگ کے شروع ہونے اور جاری رہنے کی بڑی وجہ صہیونی شرپسندی ہے جسے امریکا اور یورپ کے کچھ ملکوں کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے۔ اسی شر پسندی کی وجہ سے پوری دنیا توانائی کے قیمتوں میں اضافے اور رسد کی کمی کے بحران کا سامنا کر رہی ہے اور اگر جنگ فوری طور پر رک بھی جائے تو اس کے اثرات کو ذائل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس صورتحال میں عالمی رہنماؤں، بالخصوص چین، روس، برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان جیسے ملکوں کے قائدین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل کیسے نکالا جائے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی برادری کو اب ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینا ہو گا جس کی مدد سے مستقبل میں ایسی کسی بھی جنگ کے امکانات کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکے۔
جنگ کی جو صورتحال اس وقت تک بنی ہوئی ہے اس سے متعلق موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے شمال مغربی صوبہ زنجان پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ شہری شہید اور سات زخمی ہو گئے۔ ادھر، تہران میں واقع اہم تعلیمی ادارے تہران سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی پر مبینہ حملے کی خبر سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی جس کے نتیجے میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کی لہروں سے نشانہ بنایا۔ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے۔ ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کر دی جبکہ کویت میں امریکا کے6 بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں ساحل اور ہوٹل پر حملے کرکے کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے6 جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے 3 لڑاکا جہاز سمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر3 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، وعدہ￿ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے۔ اسی طرح، سعودی عرب کے علاقے الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا جس میں ری فیولنگ اور ائیر سپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔ سعودیہ میں حملے میں 29 امریکی فوجی زخمی ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ پر ایرانی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کو 17 مختلف زاویوں سے نشانہ بنایا۔ ایران کا حملہ بہت شدید تھا، جہاز پر موجود لوگ جان بچانے کے لیے بھاگے، رات ایک بجے ہر 32 سیکنڈ بعد تیز رفتار طیارے جہاز سے اڑان بھر رہے تھے۔ علاوہ ازیں، امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نارووک سے ساڑھے 3 ہزار فوجی لے کر مشرق وسطیٰ پہنچ گیا جو خطے میں موجود جیرالڈ آرفورڈ اورابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ برداربحری جہازوں کی تعداد 3 ہو جائے گی، آگ سے متاثر بحری بیڑا فورڈ جزیرہ کریٹ میں مرمت کے لیے لنگرانداز ہے، تیسرے بیڑے کی آمد کا مقصد ایران کے خلاف امریکی عسکری آپریشنزکو تقویت دینا ہے۔
دوسری جانب، حزب اللہ نے بیروت میں اسرائیلی جنگی طیارے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب اللہ نے پہلی بار زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا استعمال کیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی افواج کے خلاف80 سے زائد کارروائیاں کی ہیں۔ اس دوران ایران کے حمایتی یمنی گروہ حوثیوں نے اسرائیل پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق، ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر منزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران کی جانب سے کلسٹر بموں سے حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
ادھر، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو پاکستان کے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں پر اعتماد میں لیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثرراہ نکلے گی جبکہ ایرانی صدر نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا ہے۔ شہباز شریف نے ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر ایک گھنٹے سے زائد وقت کی گفتگو میں خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا۔
اس حوالے سے ایک اہم خبر یہ ہے کہ جنگ بندی کے لیے پاکستان کی طرف سے جو کوششیں کی جارہی ہیں ان کے سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 اور 30 مارچ کو (گزشتہ کل اور آج) پاکستان کا دو دورہ کر رہے ہیں۔ دورے کے دوران وزرائے خارجہ مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے جن میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ تینوں برادر ممالک کے وزرا خارجہ وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور قطر نے خطے میں کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیتے ہوئے امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اسحاق ڈار نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور گفتگو میں خطے اور عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک نے صرف عارضی جنگ بندی کو ناکافی قراردیتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ایرانی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرات کے خلاف دفاعی تعاون اور تحفظ کی بھی ضرورت ہے، لہٰذا خطے کو علاقائی سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔ امارات پالیسی سنٹر کے صدر ابتسام الکربی نے کہا کہ اصل چیلنج ایران کو جنگ روکنے پر آمادہ کرنا نہیں بلکہ خطے کو ایران سے پیدا ہونے والے آئندہ خطرات سے پائیدار تحفظ فراہم کرنا ہے۔ امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے بھی کہا کہ اگر ایرانی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم یا پابندیوں کے تحت نہیں لایا گیا تو جنگ بندی کے بعد بھی ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے امریکا سے مطالبات میں ایران پراکسی جنگوں جیسے یمن اور غزہ میں مسلح دھڑوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ خلیجی ممالک اسی امریکا سے اپنے تحفظ کی ضمانت مانگ رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں اس نا خوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایک مہینے سے جاری اس جنگ کو شروع کرنے میں ایران کا کوئی ہاتھ نہیں، یہ امریکا اور صہیونیوں کی شرارت ہے جس کی وجہ سے مسائل اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک اگر واقعی خطے کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں تو انھیں سب سے پہلے اپنے ہاں موجود امریکا کے وہ دفاعی اڈے ختم کرنے چاہئیں جن کا ایک مقصد ناجائز صہیونی ریاست کا دفاع بھی ہے۔ مسلم ممالک جب تک متحد ہو کر امریکا اور اس کے بغل بچے اسرائیل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہیں کریں گے اس وقت تک کوئی بھی ضمانت ایسے مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ذاتی اور گروہی مفادات اور مسلکی جھگڑوں سے اوپر اٹھ کر متحد اور یک جہت ہو کر اپنے مسائل حل کرنے اور امن و امان کے قیام پر غور کرنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ وہ اس با ت پر تب سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہوں جب معاملات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہوں۔ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں