دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو زمینی فوج اتاری جائے گی۔طاہر سواتی
No image ایک جانب اگر جنگ جاری ہے تو دوسری جانب سفارت کاری عروج پر ہے، اور اس کا محور تیسری دنیا کا ایک غریب ملک پاکستان ہے۔
کل رات ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد آئے، اور آج سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق دن کے آخری حصے میں اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
ایران نے پاکستان کے 20 مزید جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ روزانہ دو پاکستانی بحری جہاز آبنائے سے گزریں گے۔
صوفی برکت علی کا وہ قول جس کا ہم مذاق اڑایا کرتے تھے کہ "پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلے ہوں گے"، آج وہ قول حقیقت بنتا دیکھ رہے ہیں۔
آج پاکستان جسے چاہتا ہے، امریکہ سے کہہ کر اس کا نام ٹارگٹ لسٹ سے نکلوا دیتا ہے، اور امریکہ کو اپنے جہازوں پر پاکستان کا جھنڈا لگا کر آبنائے ہرمز سے گزرنا پڑتا ہے۔
پانچ سال قبل امت مسلمہ لیڈر کی قیادت میں جو پاکستان چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے دوستوں سے دور ہوچکا تھا، لیکن آج ایران اور امریکہ کی جنگ میں سب سے مثبت اور مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
آج پاکستان کے اس اعزاز پر سب سے زیادہ تکلیف 804 کے پیروکاروں کو ہے۔ اسرائیل ناخوش ہے لیکن بظاہر خاموش ہے،
لیکن سب سے زیادہ تتّے تَوے پر مودی سرکار بیٹھی ہے۔ ان کے وزیر خارجہ حسد کی آگ میں جل کر کہتے ہیں کہ "بھارت دلالی نہیں کر سکتا۔" اگر مصالحت اور سفارت کاری دلالی ہے تو پھر جے شنکر اپنے آپ کو وزیر خارجہ کی بجائے وزیر دلالی کا ٹائٹل دیں۔ خود انڈین میڈیا سوال اٹھا رہا ہے کہ جب نریندر مودی یوکرین کی جنگ رُکوانے گئے تھے تو کیا وہ بھی دلالی کرنے گئے تھے؟
لیکن جہاں ایک طرف پوری دنیا اس وقت پاکستان کی سفارت کاری کی قائل ہوچکی ہے، خود پی ٹی آئی کے سابق وزیر ڈاکٹر شیری مزاری نے نسیم زہرا صاحبہ کے پروگرام میں اقرار کیا کہ:
"ڈار صاحب کی اس وقت تعریف یقیناً بنتی ہے۔ فلسطین کے معاملے پر بھی اگر کسی حکومت میں بیٹھے سیاست دان کا پہلے دن سے واضح اور اصولی موقف تھا تو وہ ڈار صاحب تھے، اور آج بھی ایران اور اسرائیل کے معاملے پر ڈار صاحب کا کردار بہت کلیدی ہے۔"
وہاں ایک زیرک سیاست دان اور عالم دین فرما رہے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی سفارتی تنہائی نہیں دیکھی، ہم اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے مکمل کٹ چکے ہیں، یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے۔ اب اس فکری بددیانتی پر کچھ کہیں تو دوست ناراض ہو جاتے ہیں۔
جنگ کی صورت حال:
بلومبرگ کے مطابق آبنائے ہرمز کے بند رہنے کی وجہ سے سعودی عرب کی مشرقی-مغربی پائپ لائن اپنی مکمل صلاحیت 70 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب اور یورپ پر آبنائے ہرمز کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا، اور اس کا تیل بحیرہ احمر کے ذریعے یورپ جا رہا ہے۔
اس چیز کو سبوتاژ کرنے کے لیے پاسداران نے اپنی حوثی پراکسیز کو جنگ میں اتارا۔ کل انہوں نے اسرائیل پر میزائل پھینکے اور آنے والے دنوں میں وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں حملے کریں گے۔
بحیرہ احمر میں داخلے کے راستے پر آبنائے ہرمز کی طرح ایک تنگ راستہ ہے جسے باب المندب کہتے ہیں، جس سے ہوکر بحری جہاز نہر سوئز کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو یورپ شدید متاثر ہوگا اور ایک تہائی عالمی معیشت ٹھپ ہو جائے گی۔
یعنی یورپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی جنگ میں شامل ہونا پڑے گا، جو اب تک ٹرمپ کی رو یے کی وجہ سے غیر جانبدار ہے۔
ادھر پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی یونیورسٹیاں ہدف بنائیں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ خاموش دنیا بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو جائے۔
ایران کی سیاسی حکومت اور پاسداران کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق صدر پزشکیان اور پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی کے درمیان جنگ کے انتظام اور لوگوں کی روزی روٹی اور معیشت پر اس کے نقصان دہ اثرات کے حوالے سے شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی صدر پزشکیان نے پاسدارانِ انقلاب کے چیف احمد وحیدی کو خبردار کیا ہے کہ:
"اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران کی معیشت تین ہفتوں میں مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔"
اور کل رات کی خبر یہ بھی ہے کہ پاسداران انقلاب کے چیف احمد وحیدی، جس نے یکم مارچ کو کمانڈ سنبھالی تھی، اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔
اسی طرح ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے بیورو برائے بجٹ و مالیات کے سربراہ جنرل جمشید اسحاقی کے مارے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
یوکرینی صدر نے سعودی عرب، امارات اور قطر کا دورہ کیا ہے۔ اپنے اس دورے میں اس نے 48 گھنٹوں کے اندر ان تین ممالک سے دفاعی معاہدے کیے، جس کے تحت وہ ایران کے شاہد ڈرون کو مار گرانے میں مدد کرے گا۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ جنگ کی طوالت سے روسی معیشت مضبوط ہوگی، جسے وہ یوکرین کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس وقت پانچ لاکھ روسی فوجی یوکرین میں موجود ہیں، جن پر اربوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں۔
ہفتے کو پانچ ہزار امریکی فوجی خلیج پہنچ گئے ہیں اور مزید دس ہزار فوجی روانہ کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں دس دن کی توسیع کرتے ہوئے بڑی تنصیبات پر حملوں کو 6 اپریل تک ملتوی کر دیا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو زمینی فوج اتاری جائے گی۔ خارگ میں ایران کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر صرف اس لیے محفوظ ہیں کہ ٹرمپ مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو امریکہ اور اسرائیل اسے تباہ کر کے چلے جائیں گے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز بند رہے یا کھلے، نہ ایران کو اس کا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ امریکہ کو کوئی نقصان۔
واپس کریں