دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قرض کی پیتے تھے اور ہماری فاقہ مستی
No image پاکستان اور عالمی ساہو کار آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21کروڑ ڈالر کی نئی قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے،جس پر حکومتی ایوانوں میں ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں جبکہ مذکورہ معاہدے کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن کو وقتی دینا سہارا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی جائزہ رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط‘ ٹیکس نیٹ کی توسیع، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا ہے۔
گویا واضح ہوا کہ عالمی مالیاتی ادارہ اب بھی پاکستان کی معیشت میں بنیادی ساختی کمزوریوں اور گورنس کو سب سے بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔
ماشاء اللہ سے پاکستان اب تک تقریباً آئی ایم ایف سے 25 مرتبہ سودی قرضہ لے چکا ہے اور پہلا قرضہ دسمبر 1958 میں لیا گیا تھا۔سودی قرضوں میں ڈوبے ہوئے اس ملک کے عیاش طبع حکمرانوں کو یہی ادارہ بارہا باور کروا چکا ہے کہ حکومتی اخراجات یا سرکاری عیاشیاں کم سے کم کی جائیں لیکن نہیں ہم نے نہیں ماننا کیونکہ بقول شاعر
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
غیر ملکی قرضے لے لے نظام چلایا جا رہا ہے اور ان قرضوں کا سود پچیس کروڑ عوام کی جیبوں سے نکال نکال کر دیا جاتا ہے جن میں سے آدھے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی کل ملا کر ہماری معاشی اور اقتصادی پالیسی ہے جو برسوں سے چلائی جا رہی ہے۔آخر ہمارے حکمرانوں کو کب عقل آئے گی اور یہ کب تلک سنجیدہ ہو کر اس ملک اور عوام کی بہتری کے لیئے کچھ بہتر سوچیں گے۔
واپس کریں