
موجودہ اور ہر وقت پاکستان کو سستے تیل کے حصول کا مسعلہ درپیش رہا ہے یعنی انرجی کرائیسس۔بجلی مہنگی ہونے کی وجہ بھی سستا تیل دستیاب نہ ہونا ہے جبکہ دوسری جانب ہمارا ہمسایہ ملک ایران ہمیں ہمیشہ سے سستے تیل کی آفر کر رہا ہے۔اس وقت بھی ملک میں انرجی کرائیسس کے نام پر ایمرجنسی نافذ ہے۔ تیل زخیرہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے اسی لیئے تیل کی راشنگ شروع کرنے کے اقدامت لیئے جا رہے ہیں۔اس ہنگامی صورت حال میں بھی ہم ایران سے سستا تیل خریدنے کی ہمت نہیں رکھتے اور اس کی واحد وجہ امریکی دباو ہے اور دلچسپ امر یہ ہے خود امریکہ ایران سے صلہ صفائی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس ضمن میں پاکستان سہولت کاری یعنی میڈی ایٹر کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔
پاکستان ایران سے سستا تیل کیوں نہیں خرید سکتا؟ یہ سوال بہت عام ہے اور جواب وہی کہ امریکہ کی پابندیاں اور اس سے جڑے جغرافیائی سیاسی اور معاشی مسائل ہیں یعنی اگر کوئی ملک (جیسے پاکستان) ایران سے تیل خریدے تو امریکہ پابندیاں لگا سکتا ہے، یعنی پاکستان کے بینکوں پر پابندیاں،آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی فنانسنگ تک رسائی بند یا مشکل اورسعودی عرب اور UAE جیسے اتحادیوں سے تعلقات خراب۔
یاد رہے2026 میں بھی امریکہ تیل بردار جہازوں پر پابندیاں لگاتا رہا ہے جو ایرانی تیل لے جاتے تھے ایسے ہی، ایک جہاز پاکستان کو ایل پی جی بھیج چکا تھا جس پر پابندی لگی۔
ابھی حال ہی میں یعنی مارچ 2026 میں امریکہ نے آبنائے ہرموز میں پھنسے ایرانی تیل کے جہازوں پر عارضی چھوٹ دی تاکہ عالمی قیمتیں کم ہوں لیکن یہ نئی خریداری کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے موجود کارگو کے لیے ہے(پاکستان اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہا) یہی نہیں روس سے بھی تیل خریدنے میں بھی پاکستان احتیاط برت رہا ہے۔
جیو پولیٹیکل اور معاشی دباؤپاکستان سعودی عرب، UAE اور امریکہ سے تیل لیتا ہے۔ پاکستان کے مطابق چونکہ یہ ممالک پاکستان کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپازٹس اور مالی مدد دیتے ہیں اس لیئے ایران سے سستاتیل خریدنے سے یہ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
2025یہاں یہ باور کروانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہہوا ہے، جو ایران کے خلاف سعودی کی مدد کرنے کا دباؤ ڈالتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آئی ایم پروگرام اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت بھی پابندی والے ملک بلخصوص سے آزاد تجارت کی اجازت نہیں دیتے۔
ہمارے ہاں کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر ایران سے تیل کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ ہر حکومت کریک ڈاؤن کرتی رہتی ہے کیونکہ یہ اسمگلنگ مقامی ریفائنریز اور ٹیکس ریونیو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایران کا تیل (خام یا ریفائنڈ) استعمال کرنے کے لیے بعض ریفائنریز کی سیٹنگ تبدیل کرنی پڑتی ہے، جو مہنگا ہے۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ2025 میں ایران اور پاکستان نے 10 بلین ٹریڈ بڑھانے اور توانائی تعاون کے معاہدے کیے، لیکن تیل کی آفیشل درآمد اب تک نہیں شروع ہوئی۔
غیر رسمی تجارت کو لیگل کرنے کی بات ہوئی، مگر ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے رکاوٹ برقرار ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان اگر چاہے تو اب بھی ایران سے سستا تیل خرید سکتا ہے،توانائی کا بحران فوراً ختم ہو سکتا ہے اور عوام کو ریلیف مل سکتا ہے لیکن امریکہ بہادر کا خوف ہمارے حکمرانوں کے سر پر سوار ہے اور نہ جانے کب تلک سوار رہے گا۔
احتشام الحق شامی
واپس کریں