
غالباً 2024 کا واقعہ ہے جب خیبر پختونخوا کے ایک گاؤں کے لوگوں نے قبرستان پر دھاوا بول کر ایک افغانی مردے کو دفنانے سے روک دیا۔
مبینہ طور پر مردے کے بیٹے نے افغانستان ڈیپورٹ ہونے کے بعد پاکستانی پرچم پر پیشاب کرکے اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی۔
جس طرح ہم اپنے پرچم کی توہین پر آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، اسی طرح ہر ملک اپنے قومی تشخص اور سلامتی پر کوئی بھی اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔
اور جس طرح آج کل ایک کرکٹر کی سوشل میڈیا پر ٹویٹ کو سنجیدہ لیا جا رہا ہے، اسی طرح باقی دنیا بھی سوشل میڈیا پوسٹ کو سنجیدہ لیتی ہے، خاص کر اگر معاملہ قومی سلامتی کا ہو۔
لہذا سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ دارانہ طریقے سے کرنا چاہئیے ۔
اب آتے ہیں اصل بات کی جانب۔
اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ پاکستانی بیرون ملک قیام پذیر ہیں، جن میں سے آدھے یعنی ساٹھ لاکھ تقریباً خلیجی ممالک میں رزق حلال کما رہے ہیں۔ اور ان ساٹھ لاکھ میں تقریباً آدھے سعودی عرب میں ہیں۔
یہ ساٹھ لاکھ افراد نہیں، ساٹھ لاکھ خاندان ہیں۔ اوسطاً 8 افراد کے خاندان کا مطلب ہے کہ تقریباً 5 کروڑ یعنی بیس فیصد پاکستانیوں کی روزی روٹی صرف خلیجی ممالک سے وابستہ ہے، اور ہماری زرمبادلہ کا سب سے بڑا حصہ جو تقریباً 15 ارب ڈالرز سالانہ ہے، یہیں سے آتا ہے۔
خلیجی ممالک کا ایک مزدور اگر 1500 ریال تنخواہ لیتا ہے تو کم از کم 1200 پاکستان بھیجتا ہے کیونکہ اس کی باقی فیملی پاکستان میں ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں یورپ اور امریکہ میں مقیم تارکین وطن جو کماتے ہیں، ادھر ہی کھاتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہماری تیل اور گیس کی ضروریات ان ہی خلیجی ممالک سے پوری ہوتی ہیں۔ معاشی میدان میں سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور امارات اپنے پیسے اسٹیٹ بینک میں نہ رکھواتے تو آئی ایم ایف کا حالیہ معاہدہ ناممکن تھا۔
دوسری جانب ایران ہے جو سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرتا ہے لیکن ابھی تک وہاں سے ہمیں سمگل شدہ تیل اور درآمد شدہ فرقہ واریت کے علاوہ کیا ملا ہے۔
جو لوگ ایران گیس پائپ لائن میں پاکستان کو قصوروار ٹھہراتے ہیں وہ ذرا حقائق جان لیں کہ عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستان نے اس پروجیکٹ میں رسک لیا لیکن ایران عالمی مارکیٹ سے کم ریٹ پر تیار ہی نہیں تھا۔ پھر سب سے پہلے ایران کا جگری یار بھارت اس معاہدے سے کیوں مکر گیا؟
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے شیعہ مولویوں کو چھوڑیں، جماعت اسلامی جیسی سنی جماعتوں کے قائدین آیت اللہ بنے پھرتے ہیں۔ اور آدھی ن لیگ تو عشق ایران میں جماعتی اراکین نظر آتے ہیں۔
برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مقیم پاکستانیوں کا تو لیول ہی الگ ہے، یہ روس یوکرین جنگ میں روس کی طرف ہوتے ہیں۔
حماس اور پاسداران کے دہشت گرد ان کے سر کے تاج ہیں۔
ان ممالک کی ساری مراعات سے لطف اندوز ہونے کے باوجود یہ انہیں اسلام کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔
روس، ایران، چین اور شمالی کوریا جیسے جابرانہ نظام ان کے آئیڈیل ہیں۔
لیکن یہ انقلابی یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے آئیڈیل ممالک میں بھی عوام کو اظہارِ رائے کی یہ آزادی میسر نہیں۔ آج تک روس، چین اور ایران نے کتنے پاکستانیوں کو شہریت دی ہے؟
اب کچھ سوالات:
امریکہ یہاں پہلی بار نہیں آیا ، جب پچیس سال قبل وہ افغانستان اور عراق پر حملہ آور تھا تو کیا اس وقت بھی شیعہ مولویوں کی یہ حالت تھی یا وہ ان کے سہولت کار تھے ؟
پچھلے برس جب پاک ایران جھڑپ ہوئی تو کیا ایرانی سنی بھی پاکستانی شیعہ مولویوں کی طرح جنونی بن کر اپنی ریاست پر چڑھ دوڑے تھے؟
لیکن سب کو معلوم ہے کہ وہاں اس قسم کی حرکتوں کا انجام کیا ہے۔
پاک بھارت جنگ میں 25 کروڑ بھارتی مسلمانوں (جن کی اکثریت دیوبندی اور بریلوی ہے) کا رویہ کیا تھا؟ کیا وہ اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے رہے یا پاکستان کی عشق میں پاگل ہو رہے تھے؟
اور افغانستان کا تو ذکر ہی چھوڑیں، جہاں طالبان کے خوف سے بھاگ کر امریکہ اور یورپ میں سیاسی پناہ لینے والے بھی اس وقت طالبان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اپنی رائے کے اظہار کا حق سب کو حاصل ہے۔
لیکن میں ایرانیوں سے بڑھ کر ایرانی نہیں بن سکتا۔ جہاں دنیا بھر میں لاکھوں ایرانی اس وقت یا خاموش ہیں یا ملا رجیم کے خلاف ہیں، وہاں پاکستانیوں کی جنونیت انتہا کو چھو رہی ہے۔
اگر جذبۂ ایمانی اتنا ہی جوش مار رہا ہے تو پھر بسم اللہ پڑھیں اور پہلی فرصت میں یہود و نصاریٰ کی شہریت اور پاسپورٹ پر لعنت بھیج دیں۔
شہریت تو دور کی بات، حقیقت میں وہ ان مراعات کو تک چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جو انہوں نے ان ممالک میں ناجائز طریقے سے حاصل کی ہیں ۔
ہاں، سوشل میڈیا پر ہر دوسرا نوسر باز آپ کو اقبال کی خودی والے اشعار ضرور سناتا رہے گا۔
واپس کریں